معیشت، قومی سلامتی اور ایک پیج کی کاغذی ناؤ


حماد اظہر وزیر خزانہ تو نہیں رہ سکے لیکن وزیر توانائی کے طور پر بھی ان کی نظر معاشی امور پر رہتی ہے تاکہ وہ مسلسل عمران خان کی نگاہ التفات کا مرکز بنے رہیں۔ وزیراعظم یا حماد اظہر نے کبھی اس بات کا جواب تو نہیں دیا کہ اگر وہ خزانہ کی وزارت کے اہل نہیں تھے تو توانائی کے شعبہ میں کون سا تیر مار لیں گے کیوں کہ نا اہل تو ہر جگہ اپنی ناکامی کے نشان ہی چھوڑے گا۔ البتہ اپنے لیڈر کو خوش کرنے کا جو ولولہ حماد اظہر میں پایا جاتا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کیوں بدستور آنکھ کا تارا ہیں۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حماد اظہر نے اپوزیشن کو للکارا اور دعویٰ کیا کہ ابھی تو جی ڈی پی میں صرف چار فیصد اضافہ کی خبر سے اپوزیشن بدحواس ہے لیکن 2023 میں قومی پیداوار 6 فیصد ہو جائے گی۔ سرکاری طور سے تو آئندہ مالی سال کے لئے قومی پیداوار میں اضافہ کا تخمینہ 3 اعشاریہ 9 فیصد بتایا گیا ہے جسے اپوزیشن نے مسترد کیا ہے اور معاشی ماہرین نے جس کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ یہ اندازے زمینی حقائق اور ملکی معاشی صورت حال سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عمران خان اور ان کے وزرا البتہ ان اعداد و شمار کو جن کی حیثیت سرکاری طور سے بھی صرف اندازوں تک ہی محدود ہے، بنیاد بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اپوزیشن حکومت کی معاشی کامیابی اور ملکی ترقی کے اشاریوں کی وجہ سے بدحواس ہو گئی ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم نے کوئٹہ کے دورہ کے دوران قومی پیداوار کے چار فیصد تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے نہ صرف معاشی لحاظ سے پاکستان کے ’ٹیک آف‘ کی پیش گوئی کی بلکہ لگے ہاتھوں یہ دعویٰ بھی جڑ دیا کہ ’جب تحریک انصاف کی اگلی حکومت آئے گی تو اس میں ملک اور تیزی سے اوپر جائے گا‘ ۔

وزیر اعظم کے ان دعوؤں کو یقینی ثابت کرنے کے لئے حماد اظہر نے معیشت میں اس تیزی کا دعویٰ کیا ہے جو ابھی تک کسی سرکاری حساب کتاب کا بھی حصہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال میں قومی پیداوار چار نہیں بلکہ پانچ فیصد اضافہ ظاہر کرے گی۔ اللہ عمران خان اور حماد اظہر کی امیدیں بر لائے لیکن عام شہریوں کو معاشی بکھیڑوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا بلکہ معیشت کی بحالی گھریلو بجٹ اور انفرادی مالی حیثیت میں مثبت طور سے اثر انداز ہونے لگے تو لوگوں کو بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سرکار کی حکمت عملی درست سمت میں رواں دواں ہے۔ ویسے تو کوئی بھی معیشت صرف اسی صورت میں ترقی کرتی ہے جب اخراجات کم اور آمدنی زیادہ ہو۔ آمدنی میں اضافہ کے لئے کسی بھی معاشرہ میں سیاسی اطمینان و سماجی ہم آہنگی اہم ہوتی ہے۔ تب ہی سرمایہ دار اس معیشت کا رخ کرتے ہیں، پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور لوگوں کو روزگار ملنے لگتا ہے۔ یہ صورت حال پیدا ہو جائے تو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ سرکاری اعداد و شمار میں قومی پیداوار کے اشارے کتنے فیصد اوپر گئے ہیں۔ گھر میں ظاہر ہونے والے معاشی اطمینان سے ہی عام لوگوں کا حکومت پر اعتبار بحال ہونے لگتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے بعد وزیر توانائی حماد اظہر نے قومی پیداوار میں مزید اضافہ کے اندازوں کا حساب بتا کر معاشی ترقی کے جو خوابی محل تعمیر کیے ہیں، ان کی بنیاد صرف سال رواں کے دوران زرعی پیداوار میں غیر معمولی بہتری بتائی جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جس پر نہ تو حکومت کا کوئی کنٹرول ہے اور نہ ہی سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے زرعی شعبہ کی پیداوار میں کمی بیشی ہوئی ہے۔ اس کا انحصار سو فیصد موسمی حالات، اتفاقات اور کسانوں کے علاوہ ملک کی قسمت سے ہوتا ہے۔ حکومتیں اس کا کریڈٹ ضرور لیتی ہیں لیکن پاکستان میں روایتی طور سے زراعت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اگرچہ آج بھی ملک کی بیشتر آبادی دیہات میں رہتی ہے اور زیادہ تر لوگوں کا معاش بھی زراعت ہی سے وابستہ ہے لیکن مرکزی و صوبائی حکومتیں عام طور سے صنعتوں کی ترقی کے لئے تگ و دو کرتی دکھائی دیتی ہے۔ صنعتوں کو ہی ’سبسڈی‘ دی جاتی ہے، ٹیکسوں میں چھوٹ یا دیگر مراعات ملتی ہیں اور ان کی ضرورت پوری کرنے کے لئے قانون سازی ہوتی ہے۔ روایتی طور سے زرعی شعبہ ایسی سہولتوں سے محروم رہا ہے۔ اس کا ایک ہی عذر پیش کیا جاتا ہے کہ کاشتکاروں و زمینداروں کو ٹیکس سے استثنا حاصل ہے لہذا انہیں مزید کسی سہولت کی ضرورت نہیں۔ یا ایسے گروہ کی طرف حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں جو قومی ٹیکس میں حصہ دار نہ ہو۔

یہ علیحدہ اور پیچیدہ بحث ہے کہ زرعی شعبہ سے وابستہ لوگوں کو کس حد تک ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے لیکن اس سے قطع نظر ملکی معیشت کی بات کرتے ہوئے اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ زرعی شعبہ ہی ملک کے 22 کروڑ لوگوں کا پیٹ بھرنے کا سبب ہے۔ اگر کسی وجہ سے گندم یا دیگر اجناس کی پیداوار متاثر ہو تو حکومت کو کثیر زر مبادلہ صرف کر کے اجناس درآمد کرنا پڑتی ہیں۔ اس اچانک بدحواسی سے بچنے کے لئے بھی ضروری ہے کہ زراعت کو مناسب توجہ دی جائے۔ اس حوالے سے صرف مالی مراعات ہی بنیادی اہمیت نہیں رکھتیں بلکہ زرعی شعبہ کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے تکنیکی سہولتوں اور زراعت کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ہر شعبہ میں ہمسایہ ملک بھارت سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ مشرقی پنجاب میں فی ایکڑ پیداوار کیوں پاکستانی پنجاب کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کمی کو دور کر کے پاکستان کی زرعی پیداوار میں قابل اعتبار اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے کپاس کی فصل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ خاص طور سے جنوبی پنجاب میں کپاس پیدا کرنے والے وسیع علاقوں کو شوگر ملوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے گنا پیدا کرنے میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔ اس تبدیلی سے پاکستانی معیشت کو ایک اہم فصل میں قلت کا سامنا رہتا ہے اور ملکی ٹیکسٹائل صنعت کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کپاس درآمد کرنا پڑتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران شوگر مافیا پر بہت بحث ہوتی رہی ہے اور وزیر اعظم یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ دیگر شعبوں کی طرح اس شعبہ کو بھی منافع خور اجارہ داروں سے پاک کردیں گے۔ یہ دعویٰ ان معنوں میں تو ابھی تک پورا نہیں ہوسکا کہ چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور حکومت اس حوالے سے دھمکی آمیز بیان دینے اور کمیٹیاں بنانے کے سوا کچھ نہیں کر سکی۔ تاہم ملکی زراعت کے حوالے سے کپاس اور گنے کی پیداوار میں توازن پیدا کرنے کی منصوبہ بندی بھی اہم معاملہ ہے جس سے ملکی زراعت کے علاوہ معیشت کو عمومی طور سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ ابھی تک حکومت کے سرکاری منصوبوں میں شوگر مافیا اسکینڈل کے اس اہم پہلو پر توجہ نہیں دی گئی۔

اس پس منظر میں اگر آئندہ برس اتفاقات اور موسمی حالات کی وجہ سے زرعی پیداوار میں اضافہ کی موجودہ رفتار برقرار نہ رہ سکی تو قومی پیداوار میں اضافہ کے سرکاری اندازے دھڑام سے نیچے آ گریں گے۔ پاکستانی معیشت کی بنیادیں بہت کمزور اور غیر یقینی سیاسی اور سیکورٹی حالات پر استوار ہیں۔ ان میں بھارت کے ساتھ تعلقات کے علاوہ اس وقت افغانستان میں قیام امن کا معاملہ سر فہرست ہے۔ پاکستان کی خواہش اور کوشش ہے کہ اس معاملہ میں کسی بھی طرح امریکہ کو مطمئن کر کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا اہتمام کیا جائے اور آئی ایم ایف سے ماضی کی طرح رعایتی مالی تعاون حاصل کیا جاسکے۔ یہ دونوں کام امریکہ کی مرضی سے ہی ممکن ہوسکتے ہیں۔ اور اس طرح ملکی معیشت کو فوری (مگر مصنوعی) ریلیف مل سکتا ہے۔ امریکہ کو راضی کرنے کے لئے افغانستان میں طالبان کو منانے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی گئی ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے جس کے متعدد غیر یقینی پہلو ہیں لیکن فی الوقت پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی ساری امیدیں افغانستان سے وابستہ ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ افغانستان میں ایک پرامن ٹرانزیشن کا راستہ ہموار کر کے امریکہ کو خوش کیا جا سکتا۔ قومی پیداوار میں اضافہ کے ناقابل یقین اعلانات اور آئندہ پانچ سال میں پاکستان کے ’بہت اوپر جانے‘ کے دعوؤں کا تعلق صرف اس ایک امید سے جڑا ہے۔

ملکی معیشت کو کسی ایک معاملہ سے وابستہ کر کے خواب دیکھنے پر کوئی پابندی تو نہیں ہے لیکن اس کے مہلک اثرات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز کوئٹہ کے دورہ کے دوران اعلان کیا ہے کہ ’دہشت گردوں کو عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ ۔ فوج کو ضرور اس حوالے سے پرعزم رہنا چاہیے لیکن ملکی سلامتی کو افغانستان کے غیر یقینی حالات سے پیش آنے والے خطرات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہ بے خبری نہ ملکی سلامتی کے لئے اچھی ہے اور نہ ہی ملکی معیشت کے امکانات کو صرف افغان طالبان سے معاملات اور افغانستان میں امریکی خواہشات کی تکمیل سے وابستہ کرنا دانشمندانہ معاشی منصوبہ بندی کی علامت ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی گزشتہ روز کور ہیڈ کوارٹرز کوئٹہ کا دورہ کیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمران خان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’پاک فوج کی پیشہ وارانہ اور جنگی صلاحیتوں سے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے۔ پاک فوج کا سامنا جب بھی دشمن سے ہوا، اس نے ایسے نتائج دکھائے جن کا کوئی موازنہ ممکن نہیں۔ پاکستانی فوج نے دشمنوں کے مذموم عزائم کو کامیابی سے ناکام بنایا‘ ۔ پاک فوج کے لئے روایتی توصیفی جملوں سے لبریز اس تقریر کو ملکی سیاسی منظر نامہ میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم اور آرمی چیف دونوں نے بلوچستان کی ترقی اور حفاظت کے دعوے کیے لیکن ایک تقریب میں ہونے والی یہ ملاقات ’ایک پیج‘ پر پڑنے والی دراڑ کو کم کرنے کا اشارہ بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم مستقبل میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بارے میں خاصے پر امید دکھائی دیے۔ دیکھنا ہوگا کہ یہ گرمجوشی کب تک قائم رہتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali