ادریس بختیار: رفتگاں لوٹ کے نہیں آئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(دو جون کو پاکستانی صحافت میں اعتبار کا درجہ رکھنے والے محترم ادریس بختیار کو رخصت ہوئے دو برس ہو گئے۔ انتقال سے چند ہفتے قبل لاہور تشریف لائے تو ڈیوس روڈ کے ایک ہوٹل میں آخری ملاقات ہوئی۔ اپنی طبیعت کی ناسازی سے زیادہ پاکستانی صحافت کی زبوں حالی پر دل گرفتہ تھے۔ استاذی شاہد ملک کو ان سے طویل تر اور گہری رفاقت کا موقع ملا۔ آئیے پڑھتے ہیں، ایک ہفت پہلو جواہر پارے کے قلم سے ایک نادرہ روزگار گوہر آبدار کا احوال)

جانے پہچانے صحافی اور میرے بی بی سی کے ساتھی ادریس بختیار کے چلے جانے پر سوشل میڈیا پہ پوسٹوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔ ایک ہر دلعزیز شخصیت کے لئے چاہنے والوں کے جذبات، ہمکار کارکنوں کی یادیں، صحافیانہ اقدار میں پیدا ہونے والا نیا خلا۔ اگر ادریس بختیار ہماری اعلی ثانوی درجہ کی کتاب ’چمن زارِ غزل‘ کے شاعر ہوتے تو میر تقی میر، حیدر علی آتش اور الطاف حسین حالی کی طرح اُن کے حالاتِ زندگی اور ’محاسن ِ کلام‘ پہ درمیانی طوالت کا مضمون بآسانی لکھا جا سکتا تھا۔ پاکستان بننے سے ذرا پہلے ریاست راجستھان میں پیدائش، حیدرآباد سندھ میں تعلیم، یکے بعد دیگرے کئی اخباروں سے وابستگی، پھر عرب نیوز، ہیرالڈ کراچی اور بی بی سی سے تعلق۔ پیشہ ورانہ دیانت، انسان دوستی اور دھیما پن۔ اِن اجزا کو ملانے سے شخصیت کا ہیولہ بن تو جاتا ہے، لیکن مَیں تو انہیں اپنے ہی زاویے سے دیکھوں گا اور کہوں گا کہ بس، میری مرضی۔

میری مرضی والی بات کا ایک پس منظر ہے۔ وہ یہ کہ آج سے کوئی تِیس سال پہلے بی بی سی کے نامہ نگار اور ڈان کے موجودہ ایڈیٹر ظفر عباس کو پیشہ ورانہ وجوہات کے علاوہ ایک مخصوص تنظیم کے ’حسن ِ سلوک‘ کے پیشِ نظر کراچی سے اسلام آباد بھیج دینے کا فیصلہ ہوا تو اُنہی کے ایما پر ادریس بختیار بی بی سی کے رپورٹنگ نیٹ ورک کا حصہ بن گئے۔ لندن سے میری فون کال پر ادریس صاحب کے تعارف میں ظفر نے بے تکلفی کے لہجہ میں کہا ”شاہ جی، ہے تو جماعتیا مگر بہت اچھا صحافی اور دیانت دار آدمی“۔ اِس موقعے پر اُنہوں نے معروضی اور جرات مندانہ اخبار نویسی کی پاداش میں اُس تنگ دستی کا اشارہ بھی دیا تھا جس سے ادریس بختیار کو با رہا دوچار ہونا پڑا۔ خدا جانتا ہے کہ پہلے دن سے اُنہیں کام کے لحاظ سے جیسا سُنا تھا، ویسا ہی پایا۔ مستعد، بے غرض، جرات مندانہ، نوجوانوں کے لئے قابلِ تقلید مثال۔

یہ تو ہوا لندن اور کراچی میں رہتے ہوئے ہمارا ابتدائی پیشہ ورانہ تعلق، جو نہایت خوشگوار، مگر محدود نوعیت کا تھا۔ خوشگوار ذاتی اوصاف ہوتے کیا ہیں اور بناوٹ سے عاری شائستگی کہتے کسے ہیں؟ یہ اُس وقت پتا چلا جب نئی صدی شروع ہونے سے پہلے زندگی میں پہلی بار ہم اسلام آباد آفس میں ملے تھے۔ وطنِ عزیز، خاص طور پہ میرے آبائی صوبے میں، ایک ساتھ کام کرنے والوں کے تعلقات آج کل عجیب طرح کے ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ سینیارٹی، تنخواہ کے فرق اور دفتری رتبے کے حساب سے یا تو آپ پوری طرح کسی کے نیچے لگے ہیں یا اُسے فُل تھلے لگا رکھا ہے۔ بی بی سی لندن کے صدر دفتر اور اُن کے پاکستانی دفاتر میں یہ کلچر نام کو نہیں تھا۔ میرے لاہور بیوریو کے دنوں میں کئی لوگوں نے پوچھا کہ آپ عارف وقار کے انڈر ہیں یا وہ آپ کے انڈر، جواب میں ہم دونوں ہنستے رہتے۔ محترم ادریس بختیار نے، جو عمر میں پانچ سال اور تجربے میں کئی صدیاں آگے تھے، مِلتے ہی ’شاہد بھائی‘ کہہ کر بلایا اور پھر مرتے دم تک اِس منہ بولے رشتے کی لاج پالتے رہے۔

اب یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ میرے پاکستان آ جانے پر مختلف مراکز سے نکلنے والی خبروں کی ترجیحات طے کرتے ہوئے ہمارے اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں کے نامہ نگاروں کے مابین کسی مرحلے پر اختلاف کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ کسی نے سوال کیا ”آپ لاہور کی خبر لندن والوں سے پوچھ کر دیتے ہیں؟“ میرا جواب نفی میں تھا۔ پوچھنے والے نے کہا ”اگر آپ خبر دینا چاہیں اور وہ اِس پہ راضی نہ ہوں؟“ عرض کیا ”وہ ہماری تجویز مان لیتے ہیں“۔ ”اور ظفر صاحب یا ادریس صاحب۔۔۔ کیا آپ اُن سے پوچھ کر خبر دیتے ہیں؟“ مَیں نے کہا ’نہیں‘۔ ”تو کیا وہ آپ سے پوچھ کر دیتے ہیں؟“ ”بھئی، ہم ایک دوسرے کو اپنی خبروں کی ترجیحات اور سرگرمیوں سے آگاہ رکھتے ہیں، اور بس۔ ”لیکن اگر کوئی اعتراض کر دے، جیسے اسلام آباد آفس؟“۔ ”آج تک تو ایسا ہوا نہیں“۔

ایسا کیوں نہ ہوا؟ اَور باتوں کے علاوہ اِس کا ایک سبب حقائق کی جستجو اور اُن کی ترتیب و اظہار میں ہماری یہ کوشش تھی کہ معروضی سوچ، غیر جانبداری اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ یہاں اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ساتھ ساتھ اندرون سندھ کے نامہ نگار علی حسن، پشاور میں رحیم اللہ یوسف زئی، کوئٹہ میں متعین ہارون رشید اور مظفر آباد میں ذوالفقار علی کی آوازیں بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں جنہوں نے نا مساعد حالات میں اخلاقی اور پیشہ ورانہ طور پہ اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ہنگامی سیاست والے دنوں میں ہم میں سے کوئی ایک یہ ذمہ داری لے لیتا کہ ’سیربین‘ کے لئے اُسی کی رپورٹ ریکارڈ ہو گی۔ جیسے ملک گیر ہڑتال کا زیادہ اثر کراچی میں ہے تو ادریس بختیار، اگر لانگ مارچ لاہور سے روانہ ہو رہا ہے تو ابتدائی مرحلے پر شاہد ملک۔ بہت بڑے واقعہ کی صورت میں تمام مراکز حصہ ڈالتے۔ کبھی تحریری معلومات اور کبھی صوتی اقتباسات کی شکل میں جو مجموعی رپورٹ میں شامل کر لئے جاتے، مگر خوش دلی کے ساتھ۔

بطور رپورٹر ایک چھت کے نیچے، ایک میز کے گرد، ایک بس کے اندر اور ایک ہی فُٹ پاتھ کے دو کناروں پر بیٹھ کر ہمارا کام کرنے کا تجربہ بھی اِسی خوشدلی کی ذیل میں آئے گا۔ یہاں چھت اور میز کا اشارہ میرے لاہور بیوریو کی طرف سمجھیں، مگر زیادہ اہمیت بس اور فٹ پاتھ کی ہے۔ فٹ پاتھ اِس لئے کہ اب سے بیس برس پہلے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دو روزہ دورہء لاہور کو بی بی سی اردو کے لئے کَور کر لینے کے بعد ہم دونوں نے رات گئے اگلی صبح کے ’جہاں نما‘ کے لئے ایک ایک الوداعی آئٹم وائی ایم سی اے بلڈنگ کی مال روڈ اور بینک اسکوئر والی سائیڈوں پہ الگ الگ بیٹھ کر ریکارڈ کرایا تھا۔ پر اُس بس میں، جو ایک روز پہلے واجپائی جی کی آمد پر صحافیوں کو لے کر واہگہ کی سرحد کی طرف روانہ ہوئی، ادریس صاحب کے ساتھ مجھے اپنا ڈائیلاگ اب تک نہیں بھولا۔ مَیں نے کہا ”جنرل مشرف نے بارڈر پر واجپائی کو سلیوٹ کرنے سے انکار کر دیا ہے“۔ جواب ملا ”شاہد بھائی، اب دونوں میں سے ایک رہے گا“۔

یہ ادریس بختیار کی صحافیانہ سوجھ بوجھ کا شہکار ہے کہ انہوں نے 12 اکتوبر کو پاکستان کی اندرونی سیاست میں برپا ہونے والی امکانی تبدیلی کا اندازہ اصل واقعہ سے چھ سات مہینے پہلے لگا لیا تھا۔ بعد کے ایک مرحلے پر بطور نامہ نگار ہم دونوں کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ ہوا تو اِس کی قبل از وقت اطلاع بھی مجھے اُنہی کے ذریعے ملی۔ ادریس صاحب نے تحقیقی مہارت سے کام لیتے ہوئے یہ بھی بتایا تھا کہ جنوبی ایشیا میں خبر رساں عملے کے اُن آٹھ اراکین کی پوسٹیں ختم کی جا رہی ہیں جن کی تنخواہ ورلڈ سروس کے بجٹ سے ادا ہوتی ہے اور زیادہ کام متعلقہ لینگویج سیکشن کے لئے لیا جاتا ہے، جیسے اردو، ہندی، بنگالی یا تامل سروس۔ برطانوی نیشنل یونین آف جرنلسٹس سے رابطہ کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ بی بی سی نے آپ کو اُسی تناسب سے زرِ تلافی دینے کی پیشکش کی ہے جو برطانیہ میں مستقل عہدہ چھوڑنے کی صورت میں ہوتی، لہذا اسے قبول کر لینا چاہئیے۔ چنانچہ، بینک اکاؤنٹ میں ہزاروں پاؤنڈ اسی بہانے وصول ہوئے تھے۔

جس روز اسلام آباد میں انتظامیہ سے ہم دونوں کی آخری ملاقات طے تھی، اُس سے پچھلی شام اسلام آباد ائر پورٹ پہ اچانک دہشت گردی کا اولین واقعہ ہو گیا۔ مَیں پی آئی اے کی پرواز سے نو بجکر بیس منٹ پہ چکلالہ پہنچا ہوں۔ لاؤنج سے باہر نکلنے لگے ہیں تو اعلان ہوا کہ گولی چل رہی ہے، رُک جائیں۔ رپورٹر کہاں رکتا ہے۔ بھاگم بھاگ بیرونی کوریڈار میں پہنچا۔ دو ایک گولیاں اور چلیں۔ دہشت گرد مارا گیا۔ فَٹ جا کر دیکھا۔ ائر پورٹ سیکیورٹی سے پوچھا۔ بھائی سے چشم دید حال سنا جو میرے انتظار میں برآمدے کے ستون کے پیچھے محفوظ کھڑے تھے۔ اِس سے پہلے کہ ائر پورٹ سِیل کر دیا جاتا، مَیں نے سگریٹ کی پھٹی ہوئی ڈبیہ پر نوٹس لکھ کر نیوز روم کو خبر بریک کر دی۔ اتنی دیر میں ڈی آئی جی قلبِ عباس بھی آ گئے۔ چند منٹ میں رات دس بجے ’شب نامہ‘ میری لائیو رپورٹ سے شروع ہوا، پھر قلب عباس کا انٹرویو۔ صبح انتظامیہ سے ملاقات ہوئی اور پھر اسلام آباد ہوٹل میں ادریس صاحب ملے تو سب سے پہلے تازہ خبر کی داد دی ”شاہد بھائی، اب ایک مضمون لکھئے، عنوان ہو بی بی سی میں میرا آخری دن“۔

چائے کی پیالی پہ محسوس ہوا کہ ادریس بختیار کنٹریکٹ ختم ہونے پہ اپنے سے زیادہ میرے بارے میں حیران و پریشان ہیں۔ کہنے لگے ”ظفر تو پہلے ہی ڈان اسلام آباد کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بن چکے، مجھ سے بھی ہیرالڈ والوں نے تنخواہ میں اضافے کا وعدہ کیا ہے۔۔۔ آپ فکر نہ کریں، دو ایک روز میں آپ کو انگریزی چینل سے فون آئے گا“۔ فون آیا بھی، جو میری بیوی نے سنا۔ مَیں مصروف تھا، اِس لئے کچھ دیر بعد کال ریٹرن کی۔ اِس پہ وہی ہوا جو دفتروں میں کال ریٹرن کرنے والوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ ادریس صاحب نے پھر بھی ہار نہ مانی۔ جب جب لاہور آنا ہوا، پرانی انارکلی، نسبت روڈ یا فورٹریس والے شیزان میں دو رکنی ’پرائیویٹ ڈنر‘ کے دوران میری بہتری کی کوئی نہ کوئی تجویز ضرور سامنے رکھی۔ یہاں تک کہ اب سے سات سال پہلے روزنامہ ’نئی بات‘ میں میری ہفتہ وار خوش کلامی کا آغاز بھی ادریس بختیار ہی کے ایما پر ایڈیٹر صاحب کی فون کال سے ہوا تھا۔ کالم لکھتا ہوں تو وہ میرے سامنے ہی ہوتے ہیں، مگر آج معاملہ مختلف ہے۔ اِس وقت تو مسکراتے ہوئے بس اتنا کہہ رہے ہیں ”اچھا شاہد بھائی، اب مَیں چلتا ہوں“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *