سیاست کی نوٹنکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوٹنکی کا لفظ ہم اکثر بولتے ہیں اور سنتے بھی ہیں۔ عام طور پر جب کسی کی برائی کرنا مقصود ہوتو اس کو نوٹنکی کا خطاب بھی دیتے ہیں۔ یہ نوٹنکی ہے کیا؟ نوٹنکی کا مطلب کوئی ڈرامہ، کھیل، دیہاتی ناٹک، سانگ یا کھیل تماشا ہے۔ نوٹنکی کا شمار ہندوستان کے قدیم ترین تھیٹرز میں ہوتا ہے۔ شمالی ہندوستان میں سفری تھیٹرز عوام کی تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ تھے۔ یہ تھیٹرز دیہی روایتی میلوں میں لگائے جاتے جہاں پر ہندو دیومالائی کہانیوں کے کرداروں کو پیش کیا جاتا۔ رامائن یا مہابھارت یا پھر لوک داستانوں کو عوام کے سامنے پیش کیا جاتا۔ ان ڈراموں میں ہر اداکار کہانی کے کردار کے مطابق رنگ روپ اختیار کرتا تھا۔ وہی جملے بولتا جو تاریخی کتابوں یا کہانیوں میں لکھے ہوئے ہوتے تھے۔

عوام کا جم غفیر سنی یا پڑھی ہوئی کہانیوں کو کرداروں کو جب اپنی آنکھوں سے دیکھتے تو ان کی دلچسپی انتہاوں کو چھو رہی ہوتی تھی۔ نوٹنکی کے دوران شائقین کی تفریح طبع کے لیے گانے اور ڈانس بھی شامل کیے جاتے تھے۔ اگر کسی رقاصہ کا رقص شائقین کو پسند آ جاتا یا کسی کردار کے ڈائیلاگ پسند آ جاتے تو اس کو دوبارہ اسٹیج پر پرفارم کرنے کے لیے بلا لیا جاتا تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ اس بات کا علم ہونے کے باوجود کہ یہ محض ڈرامہ ہے اور تمام کردار نقلی ہیں عوام اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے نوٹنکی دیکھنے جاتے تھے۔ کہانی کے اعتبار سے کبھی خوش ہو کر تالیاں بجاتے تو کبھی دکھ کی گھڑی میں رونے لگ جاتے یا پھر کسی ظلم زیادتی کے خلاف غصے کا اظہار کرتے تھے۔

وقت بدلا دنیا نے ترقی کی اور ٹیلی ویژن ایجاد ہو گیا۔ میلوں میں ہونے والی نوٹنکی اب ہر گھر میں زیادہ بہتر انداز میں پیش ہونے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ٹیلی ویژن تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔ ایسے ایسے ڈرامے پیش کیے گئے کہ جب وہ آن ائر ہوتے تو سڑکیں اور بازار سنسان ہو جاتے۔ اداکاروں نے کہانی کے کرداروں میں اس قدر ڈوب کے اداکاری کی کہ آج تک بہت سے کردار شائقین کو یاد ہیں۔ بلکہ یہاں تک بھی ہوا ہے کہ کچھ اداکاروں کے اصلی نام تک لوگ بھول گئے اور ان کو ڈرامے کے کرداروں سے یاد کیا اور پکارا جانے لگا۔ یہ نوٹنکی اور اس میں ہونے والی اداکاری کی معراج تھی۔

بات نوٹنکی اور اس کے کرداروں کی ہو رہی ہے تو سیاست بھی تو کسی نوٹنکی سے کم نہیں ہے۔ گزشتہ ستر دہائیوں میں ایک سے بڑھ کر ایک ڈرامہ یا ناٹک پیش کیا گیا ہے۔ ان ناٹک میں کام کرنے والے اداکار اتنے منجھے ہوئے تھے اور ناٹک کے کردار کے اندر اس قدر ڈوب کر اداکاری کرتے تھے کہ لوگ ان کے اصل نام تک بھول گئے اور ان کو کہانی کے کرداروں سے ہی یاد کیا جانے لگا۔ قدیم نوٹنکی میں اداکار تاریک کمروں میں تیار ہوتے اور پوری طرح سج دھج کر اسٹیج پر نمودار ہوتے تھے۔ اور سامنے بیٹھے عوام ان کے نمودار ہوتے ہی خوشی سے تالیاں بجانے لگتے یہ ایک طرح سے پسندیدگی کا اظہار ہوتا تھا اس سے اداکار کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔

موجودہ دور میں بھی اداکار تیار کہیں اور ہوتے ہیں اور سج دھج کر اسٹیج پر نمودار ہوتے ہیں تو ہمیشہ کی طرح سامنے بیٹھی عوام ان کا استقبال تالیوں سے کرتی ہے۔ اداکار کہانی کے کردار کے رٹے رٹائے جملے ادا کرتا ہے اور عوام عش عش کر اٹھتے ہیں۔ اور نوٹنکی کا ڈائریکٹر عوام کا ردعمل دیکھ کر مطمئن ہوتا ہے کہ کردار کی پرفارمنس شاندار ہے۔ یہ بھی ہوتا رہا ہے کہ تھیٹر میں جب کسی اداکار نے عوام کو اپنی طرف متوجہ نہیں کیا اور اچھی اداکاری نہیں کی تو کسی دوسرے میلے میں لگنے والے تھیٹر میں وہ اداکار تبدیل کر دیا جاتا اور اس کی جگہ نئے اداکار کو موقع دیا جاتا۔

قصہ مختصر کہ زمانہ قدیم سے شروع ہونے والی نوٹنکی نے وقت کے ساتھ ساتھ جدت اختیار کرلی مگر عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا مقصد تاحال نہیں بدلا۔ عوام آج بھی اپنے کھیت کھلیان، کاروبار چھوڑ کر نوٹنکی دیکھنے میں مصروف ہے۔ اسٹیج پر موجود اداکاروں کی لازوال اداکاری پر جھوم رہی ہے کبھی تالیاں بجاتی ہے تو کبھی غصے کا اظہار کرتی ہے اور کبھی ان کرداروں کے ساتھ رونے بھی لگ جاتی ہے۔ ہر بار پردہ اٹھتا ہے اور ایک نیا فنکار اسٹیج پر موجود ہوتا ہے۔ عوام کی جب اس کردار میں دلچسپی کم ہونے لگتی ہے تو اس کی جگہ پر دوسرا اداکار آ جاتا ہے۔

تھیٹر کے مالک کو عوام کی دلچسپی کا اندازہ ہوجاتا ہے اس لیے وہ طے کرتا ہے کہ کس فنکار کو کتنی دیر اسٹیج پر رہنا ہے اور کس کو بار بار بلانا ہے۔ اس بار بھی ڈائریکٹر عوام کی دلچسپی کو دیکھ کر طے کرچکا ہے کہ اداکار کی اداکاری میں دم نہیں ہے اس لیے اگلے ناٹک میں اس کو بدلنا ضروری ہے۔ اگر اداکار کو نہ بدلا گیا تو عوام متوجہ نہیں ہوگی اور عوام کی عدم دلچسپی سے کہیں تھیٹر ہی بند نا کرنا پڑ جائے۔ اب کاروبار کا گھاٹا کون سا کاروباری کرتا ہے لہذا ناقص کارکردگی پر اداکار کی تبدیلی لازم ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ناٹک میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے اگلا اداکار کون ہوگا۔ کیا وہ عوام کو اپنی طرف متوجہ کرپائے گا۔ کیا اس کی اداکاری میں اتنی کشش ہوگی کہ وہ جب تک اسٹیج پر رہے عوام کی نظریں اس پر جمی رہیں۔ ایسے اداکار کی تلاش مشکل سہی مگر شاید ناممکن نہیں ہے

اگلے ناٹک کی تیاری بجا تاہم فی الوقت ڈرامہ بری طرح پٹ چکا ہے۔ اسٹیج پر موجود اداکاروں کی کارکردگی سے عوام مطمئن نہیں ہے۔ تالیوں کی بجائے اسٹیج پر موجود فنکاروں کے لیے فقرے کسے جا رہے ہیں۔ عوام کو اپنے پیسے اور وقت کے ضیاع پر غصہ آ رہا ہے۔ اوور ایکٹنگ سے عوام چڑ کھانے لگی ہے۔ آدھا پنڈال خالی ہو چکا ہے جو شائقین موجود ہیں وہ بھی پیسے پورے کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈائریکٹر کو چاہیے کہ فوری طور پر نئے اداکاروں کی تلاش شروع کردے وگرنہ ان فنکاروں کے ساتھ یہ ”کمپنی نہیں چلے گی“ اور مالی خسارہ مالکوں کو بہرحال کسی صورت منظور نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *