عارف مسیح نے انصاف کے لئے سسٹم کی بجائے موت کو چن لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عارف مسیح اور اس کا خاندان عرصہ دراز سے چک 370 تحصیل گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقیم ہے اور گھریلو انتظام کے لئے محنت مزدوری سے وابستہ ہے عارف مسیح کی چھ بہنیں اور چار بھائی ہیں۔ عارف مسیح کی عمر 32 سال تھی اور اس کے دو بچے اور ایک بیوہ ہے۔ عارف مسیح کے بھائی رضوان نے عارف مسیح کے قتل کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ عارف مسیح ہمارا بڑا بھائی تھا اور ریحانہ بی بی ہماری چھوٹی بہن ہے جس کی عمر پندرہ سولہ سال ہے جو کہ مورخہ 18۔ 05۔ 2021 کو دودھ لینے بازار گئی تو محمد طارق اور محمد ماجد نے ریحانہ بی بی کو فحش مذاق کر کے تنگ کرنے کی کوشش کی۔

ریحانہ بی بی نے گھر آ کر سارا واقعہ بتایا تو ہمارے بڑے بھائی عارف ہمراہ ہماری بہن کے ملزمان سے واقعہ کی بابت بات کرنے کے لئے ان کے پاس گیا، تو انہوں نے عارف مسیح اور ہماری بہن کو سرعام بازار میں تشدد کا نشانہ بنایا اور ہماری بہن کے کپڑے پھاڑ دیے۔ جس پر ہم نے عارف مسیح کی مدعیت میں تھانہ سٹی گوجرہ میں پولیس کو ملزمان کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی۔

پولیس نے فوراً کوئی کارروائی نہ کی اور دو دن کے بعد واقعہ کے برعکس فرضی وقوعہ کے تحت مقدمہ درج کر دیا جس پر اگلے دن ہی ملزمان کی ضمانتیں ہو گئیں۔ ملزمان نے تھانے سے واپس آ کر میرے بھائی عارف کو کہا کہ اب ہم تمہیں اس مقدمہ کا انجام بتائیں گے اور اگلے ہی دن مو رخہ 23۔ 05۔ 2021 کو صبح 9.30 بجے ملزمان میرے بھائی عارف کو ہمارے گھر کے باہر سے زبردستی موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گئے اور نا معلوم مقام پر لے جاکر زہر دے کر قتل کر دیا۔ اور ہمارے بھائی عارف مسیح کی لاش کو ہمارے گھر کے باہر پھینک خود فرار ہو گئے۔

عارف مسیح کے بھائی نے مزید بتایا کہ کچھ دن قبل جب ملزمان نے ہماری چھوٹی بہن ریحانہ کو چھیڑا تو اور پھر بھرے بازار ہمارے بھائی اور بہن کو تشدد کا نشانہ بنایا تو ہم نے اس زیادتی کے لیے انصاف لینے کے پولیس سے رابطہ کیا اور بڑی تگ و دو کے بعد جب ہمارا مقدمہ خلاف حقائق درج ہوا، تو اسی وقت ملزمان نے میرے بھائی کو دھمکیاں دینی شروع کر دی کہ اب ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے اور سارا واقعہ کی وجہ عناد بھی یہی ہے جس نے ہمارے بھائی کی جان لے لی۔

ملزمان کا دعویٰ ہے کہ ہم نے عارف مسیح کو زہر نہیں دیا جبکہ اس نے خود زہر پی کر اپنی جان دی ہے تو ایسے میں ایک پل کے لئے ان کا دعویٰ مان بھی لیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عارف مسیح کی بے بسی کس حد تک ہو گی کہ اس نے اپنے دو بچوں سمیت اپنے خاندان کی محبت پر موت کو ترجیح دی اور اس دنیا سے کوچ کرنا اپنے بیوی بچوں اور خاندان سے عزیز جانا؟ عارف مسیح کس حد تک سسٹم سے بد اعتماد ہو گیا تھا کہ اس نے ریاستی اداروں سے انصاف کی امید باندھنے کی بجائے جہان فانی سے کوچ کرنا ہی مناسب جانا؟ عارف مسیح کی خود کشی کے ذمے دار کیا پورا معاشرہ اور سسٹم نہ ہے جو عارف مسیح کو انصاف نہ دے سکا اور عارف مسیح نے سسٹم کے بجائے موت کو ترجیح دی؟

پولیس سمیت دیگر فریقین سے یہ سوال کرنا بھی بیوقوفی ہی ہو گی کیونکہ یہاں سماج کے کمزور اور اوپر سے مذہبی اقلیتوں سے وابستہ لوگوں کا انصاف ملنا دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ ایسے بہت سے واقعات اور عدالتوں میں ان کے نتائج کو دیکھتے ہوئے لوگوں خصوصاً مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا اور اس سسٹم سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ عارف مسیح کی میت چاہے وہ قتل تھا یا خود کشی چیخ چیخ کر سوال کر رہی کہ جو سسٹم لوگوں کے احساس تحفظ اور انصاف نہ مہیا کر سکے اس سے چھٹکارے کا حل کیا صرف موت ہی ہے یا حکومت وقت کا بھی کچھ فرض ہوتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *