وزیر اعظم کے بے سر و پا دعوے: قوم پر رحم کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان بظاہر ایک ہفتے بعد پیش ہونے والے بجٹ سے پہلے عوام کی ذہن سازی کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کے بیانات لوگوں کو پریشان اور بدحواس کرتے ہیں کیوں کہ یہ حقیقت حال کی عکاسی نہیں کرتے۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی باتوں میں نہ تسلسل ہے اور نہ ’مواد‘ بس نعرے ہیں اور دعوے۔ ان کی بنیاد پر تین برس گزارنے والی حکومت اب نہ صرف باقی دو برس بھی اسی شان سے گزارنا چاہتی ہے بلکہ یہ امید بھی کی جارہی ہے کہ آئیندہ انتخابات میں بھی تحریک انصاف ہی کو کامیابی نصیب ہوگی تاکہ ایسا پاکستان معرض وجود میں آسکے جس کا لوگوں نے تصور بھی نہیں کیا۔
کوئٹہ کے دورہ کے دوران وزیر اعظم نے یہ ولولہ انگیز دعویٰ کیا تھا کہ آئیندہ دور حکومت میں تحریک انصاف پاکستان کو نئی بلندیوں کی طرف لے جائے گی۔ آج لودھراں ملتان ہائی وے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے شکوہ کیا ہے کہ انہیں نئے پاکستان کا طعنہ دیا جاتا ہے اور پہلے دن سے پوچھا جارہا ہے کہ ’کہاں گیا نیا پاکستان‘۔ حالانکہ کوئی کام بھی طویل جد و جہد اور کوشش کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے اپوزیشن کے علاوہ میڈیا نے اس سوال پر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو عاجز کیا لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کہ کہ ملک میں مافیاز دراصل حکومت گرا کر اپنی بدعنوانی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
عمران خان کی حکومت نے ان دونوں ’دشمنوں ‘ کو ٹھکانے لگانے کے لئے مناسب کاوشیں کی ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے اپوزیشن لیڈروں کے ہوش ٹھکانے لگائے گئے ہیں ۔ سنسر شپ، پابندیوں اور اب نئے میڈیا قانون کے ذریعے میڈیا کی نام نہاد آزادی کا جنازہ نکالاگیا ہے۔ گویا عمران خان کی حکومت کارکردگی پر سوال کرنے والے کسی عنصر کو برداشت نہیں کرتی ۔ آج کی تقریر میں وزیر اعظم نے ملک کے ’جمہوریت پسندوں‘ کا حوالہ دیا ہے ۔ اس لئے یہ دیکھنا اہم ہے کہ تحریک انصاف کے اپنے جمہوری رویے کیا ہیں اور جمہوریت سے اس کی اپنی وابستگی کتنی گہری ہے۔
2014 میں امپائر کی مداخلت کی امید پر اسلام آباد میں دھرنا دینے اور چار ماہ تک ایک منتخب حکومت کو ناکام بنانے کے لئے ہر غیر اخلاقی، غیر جمہوری اور غیر قانونی ہتھکنڈا اختیار کرنے والے عمران خان اب ملک میں قانون کی عمل داری کی بات کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی ملک اس وقت تک کامیاب اور خوش حال نہیں ہوسکتا جب تک قانون سب کے لئے برابر نہ ہو۔ یعنی بڑا یا چھوٹا، کمزور یا طاقت ور ، کوئی بھی اگر کسی قانون کے خلاف کام کرتا ہے تو اس کی گرفت ہو اور اس کا احتساب کیا جائے۔ یہ بات اصولی طور پر ٹھیک ہے لیکن ایک درست بات کہنے کے بعد توقف کرنے اور حالات کا جائزہ لینے کی بجائے وہ اس کا سرا اپنے سیاسی دشمنوں اور ان کی چوری سے جوڑنے میں دیر نہیں کرتے۔ یہ پروپیگنڈا کے ہتھکنڈے ہیں جو عمران خان سے پہلے بھی کامیابی سے استعمال کئے جاچکے ہیں لیکن سوشل میڈیا اور براہ راست مواصلت کے موجودہ دور میں عمران خان جیسے لیڈروں نے اسے ایک نئی جہت عطا کی ہے۔
اس کی کلاسیکل مثال امریکہ میں ڈونلڈٹرمپ کی کامیابی اور مقبولیت کہی جائے گی۔ انہوں نے ایک مستند جمہوری ملک میں مین اسٹریم میڈیا کی شدید مخالفت کے باوجود صرف ’ٹوئٹر‘ پیغامات کی طاقت سے اپنے ہم خیال گروہ کو اتنا کوتاہ نظر بنا دیا کہ وہ کانگرس پر حملہ جیسی دیدہ دلیری کو بھی سیاسی احتجاج کہتا ہے۔ شفاف اور قابل مواخذہ انتخابی طریقہ کو دھاندلی زدہ قرار دیا گیا۔ بدنصیبی سے ٹرمپ تن تنہا اس رائے کا اظہار نہیں کرتے بلکہ امریکہ کے تقریباً نصف رائے دہندگان کو بھی اس معاملہ پر اپنا ہم خیال بنا لیا۔ ری پبلیکن پارٹی کے زعما ٹرمپ مقبولیت کے خوف میں ان کی کسی ناجائز اور فضول بات کو مسترد کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ کی ری پبلیکن پارٹی اور جمہوری نظام بدستور اندیشوں کا شکار ہے۔
پاکستان میں یہی کام عمران خان نے اسی مہارت سے کیا ہے۔ وہ الزامات لگاتے ہوئے اقتدار میں آئے اور الزامات ہی کے زور پر وزارت عظمی کی نصف مدت پوری کرچکے ہیں۔ اب ان کی خواہش ہے کہ پرانے نعروں کو نیا روپ دے کر اور اپنی ناکامیوں کو اپوزیشن کے الزامات بتا کر وہ 2023 کا انتخاب بھی جیت لیں۔ مقصد صرف ذاتی اقتدار کی ہوس ہے۔ ان کے پاس کوئی سیاسی پروگرام نہیں ہے اور نہ ہی اقتدار میں رہتے ہوئے وہ اپنے کسی انتخابی وعدے کو پورا کرنے کے راستے پر گامزن ہوئے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی احساس پروگرام ہے جو عالمی اداروں سے ملنے والی امداد میں سے کچھ ڈالر خیراتی منصوبوں کے ذریعے عوام میں تقسیم کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اسی لئے بلاول بھٹو زرداری نے بجا طور سے عمران خان سے سوال کیا ہے کہ وہ کورونا کے سلسلہ میں آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دیگر اداروں سے اربوں ڈالر کی امداد اور بیرون ملک پاکستانیوں سے جمع کئے گئے خطیر عطیات کا حساب دیں۔ بتایا جائے کہ یہ رقوم کہاں صرف ہوئیں اور اس میں کس حد تک شفافیت ہے۔
جہاں تک شفافیت کا تعلق تو اس کا اندازہ تو اسی بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن کے اہم لیڈر کو براہ راست مخصوص فنڈز کے بارے میں سوال کرنا پڑا ہے حالانکہ شفاف نظام میں سوال کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کیوں کہ حکومت تمام معاملات فراخ دلی سے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردیتی ہے۔ عمران خان کی حکمت عملی سے یہ واضح ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو بھی ’قابل اعتبار‘ نہیں سمجھتے کیوں کہ ان کے بقول اسمبلیوں میں بدعنوان مافیاز کے نمائیندے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کی جماعت کا سیاسی ڈھانچہ، حکومت میں سابقہ آمروں کے ساتھیوں کی بھرمار اور مکالمہ جیسی بنیادی جمہوری ضرورت کو تسلیم کرنے سے انکار کا رویہ جمہوریت سے عمران خان کی وابستگی پر سنگین سوالات سامنے لاتا ہے۔ جہاں تک قانون کی بالادستی کا تعلق ہے تو وہ بھی انہیں اسی وقت بھاتی ہے جب تک اس کے ہاتھ ان کے اپنے گریبان تک نہ پہنچیں۔ ورنہ وہ یہ بتانے کے قابل ہوتے کہ 2014 میں وہ اور ان کے ساتھی پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملوں سمیت جس لاقانونیت اور سیاسی ’غنڈہ گردی‘ میں ملوث رہے تھے، اس پر کس حد تک ملکی نظام عدل ان کا احتساب کرسکا ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ احتساب محض نعرہ ہے جس کا حقیقت اور جوابدہی سے کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ وہ خود اپنے کسی جرم کا اعتراف کرنے اور اس کی سزا تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ بلکہ اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی اس وقت تک بچاتے ہیں جب تک وہ ان کی سیاسی ضرورتیں پوری کرتے رہیں۔
ملتان میں کی گئی تقریر میں وزیر اعظم نے جو اہم باتیں کی ہیں انہیں ان نکات میں سمیٹا جاسکتا ہے:
1)تبدیلی جد و جہد سے آتی ہے اس لئے اس بارے میں بات نہ کی جائے۔ وقت آئے گا تو نیا پاکستان بھی بن جائے گا۔
2)پاکستانی حکومت کورونا کے باوجود ملکی معیشت کو بچانے میں کامیاب رہی ہے کیوں کہ بھارتی قیادت کے برعکس ہم نے درست فیصلے کئے۔ اب ہماری شرح نمو 4 فیصد ہے اور بھارت کی منفی 7 فیصد پر آچکی ہے۔
3)کرپٹ مافیاز تحریک انصاف کی حکومت کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ناکام ہو تاکہ وہ کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔
4)کورونا کی وجہ سے سیاحت متاثر ہوئی ہے لیکن اب آمد و رفت شروع ہونے پر ملک میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور ہم اپنے زیادہ خرچے صرف سیاحت کی آمدنی سے ہی پورے کرلیں گے۔
5)خود کو جمہوریت پسند کہنے والے فوج کو کہہ رہے ہیں کہ حکومت گرادو۔ ان سب کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔
اگر آنکھوں پر اندھی عقیدت و پسند کی پٹی نہ بندھی ہو تو ان دعوؤں پر سرسری نظر ڈالنے والا کوئی بھی شخص ان کی حقیقت جان سکتا ہے۔ نیا پاکستان اور مدینہ ریاست بنانے کی باتیں عمران خان نے ہی شروع کی تھیں۔ ان کی فلاحی ریاست خیراتی کاموں اور فکری بلندی روحانی تعلیم عام کرنے کے منصوبوں تک محدود ہوچکی ہے۔ وہ بظاہر ناقدین کو جھٹلاتے ہوئے خود ہی نیا پاکستان بنانے کے دعوؤں سے دست برداری کا اعلان کررہے ہیں ۔ ورنہ نظام کی اصلاح کا موازنہ آزادی کی جد و جہد سے نہ کیا جاتا۔ محمد علی جناح نے انگریز سے آزادی کی جد و جہد کی تھی لیکن عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کے لئے کسی دشمن کا سامنا نہیں ہے بلکہ نظام کی اصلاح کے لئے بعض اصولوں پر عمل درآمد کرنے اور پارلیمنٹ میں مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ وہ اس میں ناکامی کا برملا اعلان کررہے ہیں۔
معیشت میں چار فیصد اضافہ کی قیاس آرائیوں پر لے دے ہورہی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے اپنے اپنے اندازے اور دعوے ہیں۔ ماہرین کی اکثریت ان عوامل کا کھوج لگانے کی کوشش کررہی ہے جن کی بنیاد پر قومی پیدا وار میں حقیقی نمو کا اندازہ ہوسکے۔ لیکن اس کے باوجود یہ سب مستقبل کے اندازے ہیں۔ ابھی تک جی ڈی پی میں اضافہ رجسٹر نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں پاکستان کی ترقی یا معاشی مشکلات کا موازنہ بھارت سے کرتے ہوئے صرف سیاسی مقصد کے لئے لوگوں کی جذباتی تسکین کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کامیاب پالیسیاں بنانے والی حکومت ایسے موازنے نہیں کرتی۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ مافیا زحکومت کو ناکام بناناچاہتے ہیں تاکہ وہ کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا سکیں، بھی یہی اعتراف ہے کہ تحریک انصاف ملک میں بدعنوانی کے نظام کو تبدیل نہیں کرسکی ۔ بس سیاسی دشمنوں کو اس سے مستفید ہونے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہ بھی کامیاب نہیں۔ کسی حکومت کی ناکامی کا اس سے بڑا اعتراف کیا ہوگا؟ پاکستان جیسے ملک میں سیاحت سے قومی آمدنی میں اضافہ کی باتیں خیالی پلاؤ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔ پاکستان میں سماجی پسماندگی اور ناقص مواصلات اور انفرا اسٹرکچر کے ہوتے ہوئے سیاحت کے فروغ کا حقیقی امکان مستقبل قریب میں موجود نہیں ہے۔
اس تقریر میں عمران خان نے سب سے اہم اور تشویشناک بات البتہ یہ کہی ہے کہ اپوزیشن جمہوریت کے دعوے کرتی ہے لیکن فوج سے حکومت گرانے کے لئے کہا جاتاہے۔ یہ الزام لگاتے ہوئے ملک کے وزیر اعظم نے صرف سیاسی مخالفین کی ساکھ ہی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ عسکری اداروں کی شہرت اور اس عزم پر بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ملک کے سیاسی انتظام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے اور ہر صورت میں آئین کا احترام کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کو بتانا چاہئے کہ اگر کچھ لوگوں نے فوج سے منتخب حکومت گرانے کے لئے کہا ہے تو وہ کون لوگ ہیں اور ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم کو کن لوگوں ، اداروں یا انٹیلی جنس نے یہ حساس معلومات فراہم کی ہیں۔ جس فوجی قیادت سے حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے کہا گیاہے، کیا وزیر اعظم نے اس سے بھی باز پرس کی ہے کہ انہوں نے ملک کے آئینی جمہوری نظام کو ختم کرنے کا مشورہ کیوں سنا؟
ان میں سے کسی سوال کا جواب وزیر اعظم کے پاس نہیں ہوگا کیوں کہ ان کی باتیں بے بنیاد قیاس آرائیوں پر استوار ہوتی ہیں۔ عمران خان غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے بطور وزیر اعظم اپنا اعتبار کھو رہے ہیں۔ وہ ملکی نظام کو بہتر کرنے کی بجائے رہی سہی جمہوری روایت کو بھی پامال کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1880 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *