امریکی فوج کی اڑن طشتریوں سے متعلق رپورٹ 'خلائی مخلوق کی موجودگی کی تصدیق یا تردید نہیں کرتی'

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پینٹاگون
Getty Images
امریکی حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ امریکی حکومت کی اڑن طشتریوں یا فضا میں نظر آنے والی غیر شناخت شدہ اشیا (یو ایف او) کی رپورٹ سے خلائی مخلوق کی موجودگی سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں لیکن اس کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ایک سو بیس ایسے واقعات کے جائزہ میں توقع ہے کہ یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ زیادہ تر واقعات میں امریکی ٹیکنالوجی کا عمل دخل نہیں تھا۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی اس رپورٹ میں ان اڑن طشتریوں یا یو ایف اوز کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا گیا کہ یہ کیا اشیا تھیں۔ اس رپورٹ کا ایک غیر حساس دستاویز جون میں امریکی قانون سازوں کے حوالے کیا جانا ہے۔

یہ رپورٹ امریکی فضائی حدود میں کئی دہائیوں پر مشتمل ان غیر تصدیق شدہ اشیا یا اڑن طشتریوں کے مشاہدے کے بارے میں تحقیقات کے لیے گذشتہ برس قائم کی جانے والی ملٹری ٹاسک فورس نے تیار کی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ اڑن طشتریوں یا غیر شناخت شدہ اشیا (یو ایف او) کی فضائی سرگرمیوں کے متعلق ‘بہتر طور پر جاننا چاہتا تھا’ کہ آیا کہیں وہ قومی سلامتی کو خطرہ تو نہیں ہیں۔ اس رپورٹ کو سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ سال کورونا وبا کے لیے منظور کیے جانے والے امدادی پیکیج کا لازمی حصہ قرار دیا گیا تھا۔

اس رپورٹ نے امریکی عوام کی توجہ حاصل کی ہے کیوں کہ وہاں ایک طویل عرصے تک یو ایف او کو فضا میں اڑتے دیکھنے کے مبینے واقعات خلائی مخلوق سے متعلق سازشی نظریات کو جنم دیتا رہا ہے۔ اس رپورٹ کے باقاعدہ طور پر 25 جون کو کانگریس میں پیش ہونے سے قبل اس کے مندرجات کے بارے میں یو ایف او کے شائقین میں قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پینٹاگون: غلط فہمیاں مٹانے کے لیے اڑن طشتریوں کی ویڈیوز جاری کیں

اڑن طشتریوں کی تصاویر نیلامی کے لیے تیار

’اڑن طشتریوں کی حقیقت پر تحقیقات کے لیے خفیہ منصوبہ‘

خلائی مخلوق

Getty Images

ہم اس رپورٹ کے بارے کیا جانتے ہیں؟

اس تحقیقاتی رپورٹ کے بارے تصفیلات سب سے پہلے جمعرات کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیں، جس کے بعد امریکی ٹی وی چینل سی این این نے بتایا اور پھر واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا۔

امریکی میڈیا کے ان اداروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد حکومتی حکام سے اس اہم ترین رپورٹ کے نتائج کے متعلق بات کی ہے۔

ان میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں گذشتہ دو دہائیوں کے دوران پیش آنے والے 120 سے زائد واقعات کو قلم بند کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر کو امریکی بحریہ نے رپورٹ کیا جبکہ چند ایک میں غیر ملکی افواج بھی شامل تھیں۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این کا کہنا ہے کہ اس نے تین ذرائع سے بات کی ہے اور سب کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں کسی خلائی مخلوق کی موجودگی کے امکان کو رد نہیں گیا ہے۔

جبکہ نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ امریکی بحریہ کے پائلٹس کی جانب سے دیکھی جانے والی فضائی سرگرمی کسی خلائی مخلوق کا جہاز تھی۔

انٹیلیجنس حکام کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار کا کہنا تھا کہ یہ فضائی سرگرمیاں چین یا روس جیسی حریف طاقتوں کی جانب سے ٹیکنالوجی کا تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔

اخبار اور سی این این کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس حکام اس نتیجے کو اخذ کرنے پر قومی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہیں۔

UFO sighting

US Department of Defense
ان ویڈیوز کو اب سرکاری طور پر ریلیز کیا گیا ہے

کون سے واقعات پیش آئے تھے؟

امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی ایک حالیہ رپورٹ میں اڑن طشتریوں کے مشاہدے کے بارے میں بات کی گئی تھی جس نے گذشتہ ماہ یو ایف اوز میں دوبارہ دلچسپی پیدا کر دی تھی۔

سی بی ایس کے 60 منٹ دورانیے کے پروگرام میں امریکی بحریہ کے پائلٹوں کا انٹرویو کیا گیا جن کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسا ناقابلِ فہم ہوائی جہاز دیکھا ہے جو تیزی سے اڑتا ہے اور آج سے پہلے اتنی جلدی پلٹنے والا جہاز نہیں دیکھا ہے۔

ایک ریٹائرڈ پائلٹ، ریان گریوز کا کہنا تھا کہ ان کے لڑاکا طیارے کے سکواڈرن نے سنہ 2014 میں ورجینیا کے ساحل کے اوپر ممنوع فضائی حدود میں ایک اڑن طشتری یا یو ایف او کو اڑتے دیکھا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اڑن طشتری کوئی دھواں نہیں چھوڑ رہی تھی اور اس کی رفتار موجودہ ٹیکنالوجی سے بہت زیادہ تھی۔

گریوز کا کہنا ہے کہ امریکی ساحل اٹلانٹک میں زیر تربیت پائلٹوں نے بھی ‘چند برسوں تک روزانہ’ اسی طرح کے مشاہدے کیے تھے۔

گذشتہ ماہ امریکی انسدادِ انٹلیجنس کے سابق اہلکار لوئس ایلیزونڈو نے اے بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ کچھ ایسی چیزیں جو دکھائی دی ہیں وہ ہمارے علم میں موجود جہازوں سے بہت زیادہ بہتر ہو سکتی ہیں۔

‘سوال یہ ہے کہ یہ کیا ہے؟ اور اس کا لب لباب یہ ہے کہ ہم اس بارے میں نہیں جانتے۔’

گذشتہ برس اپریل میں امریکی محکمہ دفاع نے تین ایسی ویڈیوز جاری کی تھیں جن میں ‘یہ ناقابل بیان فضائی سرگرمی’ دیکھی جا سکتی تھی۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ (اس فضائی سرگرمی سے متعلق) فوٹیج کے متعلق تمام ابہام کو دور کرنا چاہتے تھے کہ آیا یہ اصلی بھی ہے یا نہیں۔ اس طرح کی فوٹیج سنہ 2007 اور 2017 میں بھی لیک ہو چکی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19460 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp