قوم کے غدار صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رائج الوقت کے طاقت کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کی قیمت غدار صحافیوں پر بہت بھاری ہوتی ہے۔ قلم کی حرمت اور امانت کی لاج رکھنے کے لئے یہ سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں اور حق سچ کا علم بلند کر کے پوری قوم کا حق ادا کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے آج صحافت زندہ اور سرخرو ہے۔ ان غداروں نے قوم کو شعور دیا۔ قوم کو اندھیرے میں رکھنے کی بجائے حقائق بتا رہے ہیں۔ یہ لوگ چڑھتے ہوئے سورج کی پوجا نہیں کرتے اور نہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں۔

یہ ملک سے بھاگنے والے اور ڈرپوک نہیں ہوتے۔ آئین اور قانون کی جنگ لڑنے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومتوں کے زیر عتاب میں رہتے ہیں۔ ان کا ضمیر اور دامن داغدار نہیں ہوتا اور وقت کے فرعونوں کے سامنے جھکنے کی بجائے تاریخ کے درست سمت میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ غدار اور ایجنٹ لوگ موقع پرست اور مفاد پرست نہیں ہیں اور بغیر ٹینک اور توپ کے مظلوموں کے لئے آواز بلند کر کے طاقت ور اشرافیہ کو چیلنج کرتے ہیں۔ یہ صرف قلم کو اپنی طاقت بناتے ہیں جو کسی کے دھمکیوں اور دباؤ میں نہیں آتا۔

یہ غدار جانتے ہیں کہ حق اور سچ کیا ہے اور اس کی لڑائی لڑنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پلک جھپکنے پر بنگلوں، کوٹھیوں اور جہازوں کے مالک نہیں بن جاتے ہیں۔ قوم کا درد رکھنے اور قوم کو شعور دینے کا یہ راستہ ان کے لئے بہت پرخطر اور کانٹوں کی سیج ہوتی ہے۔ اس راستے پر چلنے کی قیمت ان کو بے روزگاری، تشدد، اغوا اور جانیں دے کر ادا کرنی ہوتی ہے۔ نامعلوم افراد کی طرف سے نہ صرف ان کی جانوں کو خطرہ ہوتا ہے بلکہ ان کی فیملی کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا ہے پھر بھی یہ گھبرانے کی بجائے اس راستے کو چنتے ہیں اور اپنے حصے کا فرض ادا کرتے رہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج حامد میر اور ابصار عالم نے گولیاں کھا کر بھی آئین اور قانون کی جنگ لڑنا نہیں چھوڑی۔ طلعت بے روز گار ہوئے، مطیع اللہ جان اغواء ہوئے، پھر بھی حق اور سچ بولنا نہیں چھوڑا۔ اسد طور کو مارا پیٹا گیا۔ ڈرایا دھمکایا گیا۔ پھر بھی وہ اپنے راستے سے نہیں ہٹے۔ ایسے سر پھرے غدار اور ایجنٹ ہر دور اور ہر عہد میں سر اٹھاتے رہیں گے اور دھرتی ماں کا قرض ادا کرتے رہیں گے ان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہے۔

کوئی بتا دیں کہ قوم کے غداروں میں اتنی ساری خوبیاں ہوتی ہیں تو پھر قوم کے وفادار جو ہر تنقید اور احتساب سے بالاتر ہوتے ہیں ان میں کون کون سی خوبیاں ہوتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “قوم کے غدار صحافی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *