وائرس
ملک میں ہونے والے کسی المناک واقعہ پر آسمان کی طرف ایک پرشکوہ نگاہ ڈالی تھی لیکن وہاں طویل خاموشی کا راج تھا۔ ایک آہ بھر کر نگاہیں پھیر لیں اس وقت یہ نہیں معلوم تھا کہ خاموشی تو طوفانوں کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
پڑھا تھا کہ عمل بے صلہ نہیں۔ حتیٰ کہ منہ سے نکلے ہوئے الفاظ بھی عالم اثیر میں ایک خاص شکل اختیار کر لیتے ہیں پھر اعمال کیسے نہ ہوں۔ کبھی نہ کبھی آپ کا ہاتھ کسی گرم چیز سے ضرور جلا ہو گا۔ کیسا محسوس ہوتا ہے؟ ہاتھ کے ہلکے سے جل جانے پہ اتنی تکلیف ہوتی ہے تو برما کے جوانوں کے زندہ جلتے ہوئے بدن سے نکلتی سسکیاں کیا فلک تک نہیں پہنچی ہوں گی۔ شام کے پناہ گزین بچے خدا کی زمین پہ بے آسرا ہو کے دم توڑتے ہوئے خدا سے ہمکلام تو ہوئے ہوں گے۔ کشمیر کی انگار وادی کے اشکوں پہ بلند ہوتے قہقہے کیا عالم بالا میں سنائی نہیں دیے گے ہوں گے۔
زینب اور اس جیسے کئی معصوم بچوں کی تڑپتی صدائیں کیا وہیں بغیر کسی صورت میں تبدیل ہوئے ختم ہو جانیں تھیں۔ ہجوم کے ہاتھوں لاٹھیوں کے وار سے مرتے مشعال خان کا دم یوں آسانی سے تو نہیں نکلا ہو گا ہر ٹوٹتی سانس پہ ایک آہ بھی ساتھ نکلی ہو گی۔ خدا کے گھر میں اس کے آگے سجدہ ریز لوگوں کو جب خدا کا نام لے کر خون میں رنگ دیا گیا ہو گا تو وہ بہتا خون کیا صرف زمین پہ بہنے کے لیے تھا۔ جب خدا اور انبیاء کے نام پہ لوگوں کی جانیں لیں جاتی ہیں تو اس وقت وہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ کیا خدا اور رسول ہمارے نہیں؟
اپنی جان لینا آسان امر نہیں۔ روز اذیت کے کئی نشتر سہ کر انسان اس مقام پہ پہنچ جاتا ہے کہ موت ہی واحد راستہ بچتی ہے۔ ہم بطور معاشرہ زندگی تو اس سے چھین لیتے ہیں لیکن مرنے کے بعد بھی اس پہ الزامات کی بوچھاڑ جاری رکھتے ہیں۔ قاتل ہو کر کے بھی مقتول سے بغض کیا خالق سے پوشیدہ تھا۔ اپنے بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں کھلونے دے کر اسی کے ہم عمر بچے کے ہاتھوں میں اوزار تھما کر اس کا معصوم دل بار بار توڑتے ہیں تو دل ٹوٹنے کی وہ آواز ہمیں سنائی نہیں دیتی لیکن عالم بالا میں محفوظ ضرور ہو جاتی ہے۔
بلکتی تڑپتی انسانیت کی حالت سے محظوظ ہوتے حکمران کسی کے سامنے جوابدہ نہیں تھے۔ ہیروشیما میں اپنی طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے انسانوں کی لاشوں پہ فتح کا پرچم لہراتے ہوئے اعمال کیا وقت گزرتے ہی ختم ہو چکے تھے۔ نہیں تو۔ ہر آہ، ہر سسکی، ہر قہقہے ہر عمل نے ایک شکل اختیار کی۔ وقت لگا ضرور مگر اب یہ صورت ایک مہلک وائرس میں تبدیل ہو چکی ہے اور خدا کی زمین پہ خدا بننے والے بھی اس کے سامنے بے بس ہیں۔ الزام کس کو دیں۔
ہم سب ذمہ دار ہیں۔ یہ تو چند اہم واقعات جو ذہن میں آئے بیان کیے ورنہ ایسے اور اس سے بھی کئی دلخراش واقعات منظر عام پہ تو نہیں آتے لیکن معمول بن چکے ہیں۔ میں نے تو صرف پاکستان میں ہونے والے چند واقعات بیان کیے ورنہ دنیا کے کئی ممالک میں ظلم کا بازار گرم ہے۔ دنیا کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص کسی نہ کسی کی بربریت کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ خدا تو سب کا ہے۔ وہ سب دیکھ بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے۔ لیکن اس نے کوئی وبا نہیں بھیجی۔ وہ رحیم ہے۔ یہ تو مظلوموں کی سسکیاں، ظالموں کے قہقہے اور ہم جیسے انسانوں کی چپ ہیں جو عالم اثیر میں وائرس کی شکل اختیار کر کے، پلٹ کر ساری انسانیت پہ وار کر رہی ہیں۔ جس آسمان سے کبھی خاموشی کا شکوہ کیا تھا اس کی خاموشی اب ٹوٹ چکی ہے۔


