اخوت فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب: ’قرض واپس نہ کرنے والے کو صرف وعدہ یاد دلاتے ہیں، عدالت لے کر نہیں جاتے‘

بینظیر شاہ - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عامر علی کو یہ سمجھنے میں تھوڑا وقت لگا کہ فون پر اُن سے بات کرنے والے کون ہیں۔ بے یقینی کی کیفیت سے گزرتے ہوئے انھوں نے سوال کیا: ‘کیا آپ ڈاکٹر امجد ثاقب بات کر رہے ہیں؟’

لاہور میں واقع اپنے دفتر کے فون کے سپیکر پر جھکے ڈاکٹر امجد ثاقب نے جواب دیا، ‘جی ہاں۔’

یہ جواب سن کر عامر علی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’آپ کا مجھ پر بڑا احسان ہے، ڈاکٹر صاحب۔ میں آپ کا بے حد احسان مند ہوں۔’

پنجاب کے ضلع خانیوال کے رہائشی عامر علی سرکاری محکمہ صحت میں ملازم ہیں اور انھوں نے اب تک اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ کرائے کے مکان میں رہتے ہوئے بسر کیا ہے۔

اس کے لیے ہر ماہ ان کی 25 ہزار روپے کی قلیل تنخواہ کا خاطر خواہ حصہ گھر کا کرایہ دینے میں صرف ہو جاتا تھا اور بقیہ رقم میں اپنے خاندان کے ساتھ بہ بمشکل گزارہ کر پاتے۔

لیکن ایک سال قبل انھوں نے لاہور میں واقع بلا سود چھوٹے پیمانے پر قرضے فراہم کرنے والے اسلامک مائیکرو فنانس تنظیم ‘اخوت’ فاؤنڈیشن سے چار لاکھ روپے کا قرض حاصل کیا جس کی مدد سے عامر علی نے ایک کمرے کا وہ مکان تعمیر کر لیا جس کی خواہش ہمیشہ سے ان کے دل میں تھی۔

‘یہ آپ کی بدولت ہے کہ آج میرے اور میرے خاندان کے سر پر اپنی چھت ہے’، اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب سے فون پر بات کرتے ہوئے عامر علی نے اپنی بات جاری رکھی۔ ‘میں آپ کو تہہ دل سے دعائیں دیتا ہوں۔’

اس فون کال کے اختتام پر ڈاکٹر امجد نے اپنے فون کی فہرست سے ایک اور نام کا انتخاب کیا۔ ان کے سامنے سکرین پر ان لوگوں کا ڈیٹا موجود تھا جنھوں نے اخوت کے ذریعے گھر بنانے کے لیے قرض حاصل کر رکھا ہے۔ اس میں اُن لوگوں کے نام، فون نمبر، پتے، شناختی کارڈ نمبر سمیت اس جگہ کی تصویر بھی تھی جہاں پر گھر کی تعمیر جاری تھی۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے بی بی سی اردو کے لیے ایک انٹرویو میں بتایا کہ قرض حاصل کرنے والوں کو بذات خود فون کرنا ان کا معمول ہے تاکہ یہ پتا کیا جا سکے کہ ان لوگوں کو کہیں ان کے ادارے کے کسی ملازم سے کوئی شکایت تو نہیں۔

وہ اس بات سے شاید واقف ہیں کہ دنیا کی تمام بڑی کمپنیوں کے لیے کسٹومر سپورٹ یعنی صارف کی معاونت و ترجیح نہایت اہم ہے۔

ڈاکٹر امجد نے اگلا فون نام صبا گل کو ملایا جو کہ لاہور کے صنعتی علاقہ کے رہائشی تھے اور کپڑے کے ایک معمولی بیوپاری ہیں۔

صبا گل گذشتہ تیس سال سے ایک تین مرلہ پلاٹ کے مالک تھے لیکن ان کے پاس اتنی رقم جمع نہیں ہو سکی تھی جس سے گھر کی تعمیر کی جا سکے تاوقتیکہ انھوں نے ‘اخوت’ سے پانچ لاکھ روپے کا قرض اس مد میں حاصل کر لیا۔

صبا گل نے ڈاکٹر امجد کی کال پر انھیں بتایا: ‘مجھے آپ سے بات کر کے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہاں آپ جیسے اور لوگ بھی ہوں جو ہم جیسے غریب لوگوں کی مدد کرتے رہیں۔’

عامر علی اور صبا گل کا شمار پاکستان کے ان 11 ہزار افراد میں سے ہے جنھوں نے ڈاکٹر ثاقب کے ادارے سے طویل اور قلیل مدتی بنیادوں پر قرض حاصل کر رکھا ہے۔

اخوت کے قرضوں کا مقصد کیا ہے؟

امجد ثاقب صاحب جو بلحاظ تعلیم ڈاکٹر اور پیشے سے ایک سرکاری ملازم تھے، نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر 2001 میں اخوت کی بنیاد رکھی۔

ادارے کے ابتدائی دنوں میں وہ 10 ہزار روپے تک کی رقم ہی قرض کی مد میں فراہم کر سکتے تھے اور کی ان کی پہلی قرض خواہ چند خواتین تھیں جو لاہور کی ایک چھوٹی سی آبادی سے تعلق رکھتی تھیں اور اکثر اپنے سینے پرونے کا کام شروع کرنے کے لیے پیسوں کی تلاش میں تھیں۔

ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ ‘ابتدائی دنوں میں بھی ہم اس رقم کو بطور خیرات استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے بلا سود قرض حسنہ کے طور پر دینا چاہتے تھے۔’

وقت کے ساتھ اس بلا سود چھوٹے قرضے فراہم کرنے والے ادارے میں غربت کے خاتمے کے مزید منصوبے بھی شامل ہوتے گئے۔

اس کی ایک مثال اخوت صحت سہولت ہے جس کے تحت ضرورتمند لوگوں کو رعایتی نرخوں پر ادویات کی فراہمی، بنیادی صحت سہولیات کی استطاعت نہ رکھنے والوں کو ڈاکٹر سے مفت مشورہ ورہنمائی دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ بچوں کے لیے تعلیمی میدان میں اخوت سکول و کالج پروگرام ہے جبکہ اخوت خواجہ سرا سپورٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں دو ہزار سے زائد خواجہ سراؤں کو مالی امداد ، تعلیم، صحت کی سہولیات اور نفسیاتی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

جلد ہی ڈاکٹر امجد ثاقب کو یہ احساس ہو گیا کہ ‘اخوت’ ان کی بھرپور توجہ کا متقاضی ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

50 لاکھ سستے مکان، کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟

پاکستان سے غربت کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

احساس پروگرام: کیا بیروزگاری کے باعث وطن لوٹنے والوں کی امداد کی جائے گی؟

پی ٹی آئی منشور: ایک کروڑ ملازمتیں، 50 لاکھ سستے مکانات

دو بچوں کے باپ ڈاکٹر صاحب نے 2003 میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو اس ادارے کے لیے ہمہ وقت مختص کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

دو دہائیوں بعد آج اس ادارے کے 826 سے زائد دفاتر ملک کے 400 چھوٹے بڑے شہروں میں موجود ہیں اور اس ادارے کے اپنے 7000 ملازمین ہیں۔

‘اخوت’ اس وقت تک تقریباً 30 لاکھ لوگوں کو قرض فراہم کر چکا ہے۔ یہ قرضہ جات صرف گھروں کی تعمیر ہی کے لیے نہیں بلکہ تعلیم اور اسکے علاوہ مرد، خواتین اور خواجہ سراؤں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی بھی مد میں ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ثاقب کا کہنا ہے کہ ان کو ملنے والے عطیات میں سے محض پانچ سے چھ فیصد ادارے کے انتظامی معاملات چلانے کی مد میں جاتے ہیں جبکہ باقی غریب لوگوں کو غربت کی دلدل سے باہر نکالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

’اگر کوئی قرض واپس نہیں کر پاتا تو ہم اسے وعدہ یاد دلاتے ہیں

گذشتہ سال وزیراعظم پاکستان عمران خان کی بھی توجہ اخوت کی کامیابی کی جانب مبذول ہو گئی اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی وزیراعظم سے انکے دفتر میں ذاتی طور پر ملاقات کے بعد حکومت سے اپنے گھروں کی تعمیر کے لیے دیے جانے والے بلاسود قرضہ جات پروگرام کی مد میں پانچ ارب کی رقم حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ جو لوگ ماہانہ صرف 30000 روپے کماتے ہیں وہ اس آمدنی کی بدولت اپنے گھر کی تعمیر کے لیے بنک سے قرض حاصل نہیں کر پاتے تھے۔

‘ہم نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے اس منصوبے کو پیش کیا تو وہ پہلے ہی سے کسی اچھے منصوبے کی تلاش میں تھے اس لیے انھوں نے فوراً اس پر حامی بھرلی اور متعلقہ حکومتی محکمے کو اس کی تقسیم کے حوالے سے سکیم کی تیاری کی ہدایات جاری کیں۔’

اخوت کو ملنے والے یہ حکومتی فنڈز وزیراعظم کے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت ملے ہیں جس کا مقصد ذاتی مکانات کو نچلے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ میں لانا ہے۔

نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کو اس وقت مجموعی طور پر ایک کروڑ سے زیادہ گھروں کی قلت کا سامنا ہے جبکہ ویب سائٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ رہائشی صنعت زیادہ تر متوسط اور اپر مڈل کلاس کی ضروریات پوری کرتی ہے۔

ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ ‘وہ لوگ جو اس تکون کے نچلی سطح پر ہیں، وہ کُل آبادی کا تقریباً 20 فیصد حصہ ہیں اور یہ لوگ زیادہ ترغیر قانونی آبادکاریوں، تجاوزات اور کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔’

حکومتی فنڈ ملنے کے ساتھ ہی اخوت نے 11 ہزار لوگوں کی نشاندہی کر کے انکو چار سے پانچ لاکھ روپے تک کا قرض فراہم کیا۔ یہ ایسے لوگ تھے جنکے پاس اپنا دو یا تین مرلے کا ذاتی پلاٹ تو تھا مگر اس پر گھر کی تعمیر کے لیے رقم موجود نہیں تھی۔

قرض کی فراہمی سے قبل ادارہ بنیادی جانچ پڑتال بھی کرتا ہے۔

ڈاکٹر ثاقب کا کہنا تھا کہ قرض کی فراہمی کے لیے ’ہماری چند شرائط ہوتی ہیں مثلاً قرض خواہ ڈیفالٹر، جرائم پیشہ اور نشے کا عادی نہ ہو اور وہ اس علاقے میں ہی رہائش پذیر ہو۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ اخوت میں صارفین کی جانب سے ’قرض واپسی کی شرح 99 فیصد ہے اور بہت شاذو نادر ہی کوئی ڈیفالٹ کرتا ہے۔‘

‘اور اگر کوئی قرض واپس نہیں بھی کر پاتا، تب بھی ہم صرف اسے اسکا وعدہ یاد دلاتے ہیں۔ قرض واپس نہ کرنے والوں کو عدالت لے کر نہیں جاتے۔’

ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ کسی بھی معتبر مالیاتی نظام کی طرح اخوت کے پیچھے کارفرما سوچ اعتماد کی ہے۔

‘ہم نے اس معاشرے میں اس احساس کو جنم دینے کی کوشش کی ہے لوگ ایماندار ہوتے ہیں، لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اور لوگ جھوٹے نہیں ہوتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم معاشرے کا ایک مثبت چہرہ سامنے لانا چاہتے ہیں۔ ہمیں لوگوں پر اعتماد کرنا سیکھنا ہو گا۔ میں کیوں خود سے یہ فرض کر لوں کہ لوگ ذمہ دار نہیں ہیں یا وہ ہمیں دھوکا دیں گے۔’

خوابوں کی تعبیر

اخوت صرف لوگوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر میں ہی مدد فراہم نہیں کرتا بلکہ اس نے انکی زندگیاں مستقل بنیادوں پر تبدیل کر دی ہے۔

روز کی ہی مثال لیجیے جو ایک 30 سالہ خواجہ سرا ہیں اور اخوت کلاتھ بنک میں بطور سپروائزر کام کرتی ہیں جہاں عطیہ کردہ کپڑے جمع کر کے مناسب طریقے سے سمیٹ کر ضرورت مندوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔

فون پر بات کرتے ہوئے خواجہ سرا روز نے بتایا کہ وہ اخوت میں کام کرنے سے قبل تقریبات اور محفلوں میں ناچا کرتی تھی۔

‘میں تقریبات سے اچھے پیسے کما لیتی تھی لیکن عزت نہیں ملتی تھی۔ اب یہاں اخوت میں میری ملازمت ہے اور یہاں کام شروع کرنے کے بعد اب مجھے بہت عزت ملتی ہے۔’

روز پہلے اپنے گرو اور دیگر خواجہ سراؤں کے ساتھ ایک گھر میں رہتی تھی کیوں کہ ان کے خاندان نے انھیں قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن اب اخوت میں ملازمت سے روز کو ماہانہ معاوضہ، مفت کھانا اور ادویات ملتی ہیں اور اس ملازمت کے بعد روز کے خاندان نے بھی انھیں قبول کر لیا ہے۔

‘پہلے میں جو کام کرتی تھی اور جیسےلڑکیوں کی طرح چلتی تھی، میرا بھائی اس پرغصہ ہوتا تھا لیکن اب جب کہ میرے پاس ملازمت ہے تو میرے والد نے مجھے قبول کر لیا ہے۔

’حتیٰ کہ میں واپس اپنے گھر آ گئی ہوں ان کے ساتھ رہنے۔ وہ سب سے یہی کہتے ہیں کہ کم از کم وہ اپنا کماتی ہے کسی سے مانگتی تو نہیں ہے۔ اخوت نے اس طرح میری مدد کی ہے۔’

ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا ہے کہ ان کے دونوں بچوں کا اس ادارے میں کوئی کردار نہیں ہے اور وہ اپنی اپنی نوکریاں کرتے ہیں۔

تاہم، وہ امید کرتے ہیں کہ یہ اخوت فاؤنڈیشن بحیثیت ان کی میراث ان کے بعد بھی جاری رہے گی۔

‘اخوت ایک چھوٹا سا تجربہ ہے۔ ہم تمام مسائل تو حل نہیں کر سکتے لیکن دوسروں کے لیے قابل تقلید نمونہ شاید بن سکتے ہیں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp