خواتین کی مخصوص ’آور گلاس‘ جسامت کا بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے کوئی تعلق ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی آرام دہ کرسی پر برہنہ حالت میں لیٹے ہوئے، ہاتھ میں مور کے پر لیے اس ماڈل نے مُڑ کر اپنی نظریں مصور پر جمائی ہوئی ہیں۔ یہ 19ویں صدی کے اوائل کا ایک منظر ہے اور مصور جین آگست ڈومنیق ایک ترک لڑکی کی تصویر بنا رہا ہے۔

اس پینٹگ کا نام لا گرینڈ اوڈالسک رکھا جانا ہے۔ مصور نے اس ماڈل کی کشش کو عکس بند کرنا ہے مگر کچھ گڑ بڑ ہے۔ جب عوام کو یہ پینٹگ دیکھائی گئی تو اس پر شدید تنقید کی گئی۔ ماڈل کی کمر بہت لمبی ہے اور اس کا جسم کئی مختلف سمتوں میں بچھا ہوا ہے۔

سنہ 2004 میں فرانسیسی ڈاکٹروں کے تجزیے کے مطابق اس لڑکی کا تصویر میں جو عکس ہے حقیقت میں اس طرح مڑنا ناممکن ہو گا۔ ان ڈاکٹروں میں سے ایک کمر کی درد کا ماہر ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف اس طرح مڑنا ناممکن ہے بلکہ ان کی کمر جتنی لمبی ہے اس میں پانچ اضافی مہرے ہونے کی ضرورت ہو گی۔

اس دور میں آرلا کے رومانوی انداز میں برہنہ خواتین کی پینٹگز انتہائی مقبول ہیں جہاں کئی خواتین کی کمر انتہائی پتلی اور کوہلے انتہائی بڑے ہیں۔

یہ آور گلاس فگر اس دور میں حسن کا معیار تصور کیا جاتا تھا۔ کیا جین آگست ان ماڈلز کا جسم اس قدر تبدیل کرنا چاہتے تھے یا نہیں، یہ بحث تو جاری ہے مگر یہ ماڈل اس طرح مڑ کر پوز نہیں کر سکتی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ جین آگست اس ماڈل کو زیادہ ’سیکسی‘ بنانا چاہ رہے تھے۔

مگر ظاہری شکل و صورت میں انتہائی تھوڑا فرق بھی دیکھنے والے کے لیے بہت زیادہ فرق ڈال سکتا ہے۔ خواتین میں کپڑوں میں تھوڑا سا فرق ان کے زیادہ قابلِ اعتبار ہونے، پرکشش ہونے یا اہل ہونے کا تاثر پیدا کر سکتا ہے۔

ماہر نفسیات مریم لس کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ ایمان دار لگنے، یا اپنے کیریئر میں اہل لگنے کے لیے یا بطور سیاستدان منتخب ہونے کے لیے خواتین کو زیادہ قدامت پسند انداز کے کپڑے پہننے چاہییں۔

مگر آور گلاس جسامت جیسی کچھ خصوصیات ہمیشہ سے ہی کیوں پسند کی جاتی ہیں؟ کیا ایسی خصوصیات بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کے بارے میں کوئی خفیہ پیغام دے رہی ہوتی ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو انسانی جسمات میں اتنی مختلف اقسام کیوں ہیں؟

ارتقائی بائیولوجسٹ کہتے ہیں کہ آور گلاس جسمات مردوں کو اس لیے پسند ہے کیونکہ یہ خاتون کے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے منسلک کی جاتی ہے۔

ان کے خیال میں جن خواتین میں ایسٹروجن زیادہ ہوتا ہے یعنی ان میں بچے پیدا کرنے کی بہتر صلاحیت ہوتی ہے، ان کی کمر پتلی اور کوہلے زیادہ چوڑے ہوتے ہیں۔ اگر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت جینیاتی طور پر نسلوں میں منتقل ہوتی ہے تو آور گلاس جسمات بچے پیدا کرنے میں کامیابی کی نشانی ہوتی ہے۔

برطانیہ میں ارتقائی بائولوجسٹ جین بووے کہتی ہیں کہ ایک وقت تھا کہ ہم سوچتے تھے کہ پرکشش خصوصیات جیسے کہ آور گلاس جسمات کا تعلق سیکس ہارمونز سے ہے مگر اب ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ اس تاثر کے پیچھے زیادہ سائنسی شواہد نہیں ہیں۔

جین بووے نے تاریخ میں آرٹ کی مدد سے سب سے زیادہ پرکشش تصور کی جانے والی خواتین کی جسمات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔

انھیں معلوم پڑا ہے کہ 500 قبل مسیح سے لے کر 15ویں صدی تک خواتین میں کمر سے کوہلوں کا تناسب 0.75 رہا ہے یعنی کمر کوہلوں کے مقابلے میں 75 فیصد چوڑی ہے۔

15ویں صدی کے دوران یہ تناسب 66 فیصد ہو گیا ہے یعنی کمریں زیادہ پتلی ہو گئی ہیں۔ 20 ویں صدی میں رجحان پھر واپس لوٹ رہا ہے تاہم بووے تازہ ترین اعداد و شمار کے لیے پلے بوائے ماڈلز اور مقابلہ حسن کی شرکا کا استعمال کر رہی ہیں جو کہ شاید صحیح موازنہ نہیں ہے۔

تو مردوں کو آور گلاس جسمات پسند ہے مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا جینیاتی طور پر منتقل ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بووے کہتی ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چوڑے کوہلے اور پتلی کمر صرف اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کوئی لڑکی بچے پیدا کرنے کی عمر کو پہنچ گئی ہے مگر زیادہ بوڑھی نہیں ہے اور اس نے اب تک بچے کم پیدا کیے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ارتقائی عمل میں صرف آور گلاس جسمات کی خواتین ہی نہیں بچ گئیں اور سب خواتین ایک جیسی نہیں لگتیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا وجہ ہے کہ سردیوں کے موسم میں ’رومانس‘ کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے؟

’پرکشش بننے کی جستجو تولیدی صلاحیت سے محروم بھی کر سکتی ہے‘

کیا عورتوں کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ساری عمر قائم رہ سکتی ہے؟

انڈیا: چھاتیوں کی کہانیاں

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئینز لینڈ کے ماہرِ نفسیات برانبی ڈکسن نے خواتین اور مردوں سے کہا کہ وہ ‘بہترین‘ جسمات کے لڑکے اور لڑکیاں چنیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا بہترین جسامت اور شکل و صورت کو کمپیوٹر ماڈلنگ کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔

اس کے لیے انھوں نے 24 مختلف عناصر میں لوگوں کو مختلف کر کے پیش کیا جس میں تھائے کی لمبائی، قد، کندھوں کی چوڑائی، کمر سے کوہلوں کا تناسب وغیرہ شامل تھا۔

مردوں میں خواتین کا وزن پہلی ترجیح تھی اور کم وزن کو ترجیح دی گئی۔ عام طور پر اہم سمجھے جانے والی خصوصیات جیسے کہ خواتین کے بریسٹ سائز کو بہت کم اہمیت دی گئی۔ اسی طرح کوہلوں سے کمر کا تناسب بھی اتنا اہم نہیں تصور کیا گیا۔

آخر میں جن خواتین کو چنا گیا ان میں سے کافی مختلف اقسام کی جسامت تھیں۔ مگر خواتین نے جن مردوں کو چنا ان میں واضح خصوصیات تھیں، خواتین کو چوڑے کندھے اور ایتھلیٹک باڈی پسند ہے۔

برانبی ڈکسن کے مطابق اگرچہ عام رجحان مستقل ہیں تاہم کون سی خصوصیت کتنی اہم ہیں یہ بندے بندے پر منحصر ہے۔

مگر کیا کوئی ایسی صورتحال بھی ہے جب وہ لوگ جو کہ غیر عمومی ہوں، وہ لوگوں کو زیادہ پرکشش لگتے ہوں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم بائیلوجیکل فوائد کی بات کریں تو غیر عمومی ہونے کا فائدہ تب ہی ہے جہاں غیر عمومی خصوصیت جو سب سے زیادہ فٹنس فائدہ دے، نایاب ہو۔ اس کی مثال کوئی نیا ماحول ہو سکتا ہے یا ایسا ماحول جو بہت زیادہ بدل گیا ہو۔ صرف تھوڑے سے لوگوں کے پاس ہی بہترین خصوصیت ہوگی۔

ڈکسن کہتے ہیں کہ ’ارتقائی عمل میں نیچلر سلیکشن متنوع خصوصیات کو ترجیح دیتی ہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ سب سے اہم بات ہر ماحول میں ڈھل جانے کی صلاحیت ہے۔‘

انسانوں میں نرالے پن کو کیسے پرکھا جاتا ہے؟ مردوں کے لیے گھنی بھووئیں، داڑھی مونچھ وغیرہ کو انسانوں کی ظاہری، جسمانی خصوصیات کا وہ اشارہ سمجھا جاتا ہے جس کی مدد سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں فوطیرون یا ٹیسٹوسٹیرون کے ہارمونز بڑی تعداد میں ہیں۔

ارتقائی طور پر اگر سوچیں تو یہ خواتین کے لیے بہتر یہ ہو گا کہ وہ ان مردوں سے جنسی تعلق قائم کریں جو زیادہ طاقتور اور باصلاحیت ہوں۔

مردوں میں داڑھیاں بڑھانے کی حالیہ مقبولیت کی وجہ سے ایک اصطلاح بڑی مشہور ہو گئی جسے ‘پیک بیئرڈ’ یعنی بہت زیادہ داڑھی۔ اس اصطلاح سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں داڑھی کی مقبولیت میں شاید کمی آ جائے۔

آج سے سات برس قبل کی گئی ایک تحقیق میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ خواتین کو جب بہت زیادہ تعداد میں داڑھیوں والے چہرے دکھائے جاتے ہیں تو پھر انھیں کلین شیو والے مردوں میں زیادہ کشش محسوس ہوتی ہے جبکہ جن خواتین کو کلین شیو مردوں کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں تو بعد میں وہ داڑھی والے مردوں کی طرف راغب ہو جاتی ہیں۔

ڈکسن اس بارے میں کہتے ہیں کہ یہ نرالے پن کا اثر ہے، اس میں یہ ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی مختلف چیز دکھائی جاتی ہے تو آپ اس کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔

اس چیز کا مشاہدہ بچوں کے مقبول ناموں میں دیکھا گیا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد بس چند مخصوص، مقبول نام رکھنا پسند کرتے تھے، آج کے دور میں کوئی بھی نام زیادہ عرصے تک مقبول نہیں رہتا اور لوگ اس سے جلد تنگ آ جاتے ہیں۔

اس وقت یہ کہنا شاید غلط ہو کہ ہم ‘پیک بیئرڈ’ کی حد تک پہنچ گئے ہیں، لیکن بس شاید یہ بھی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہم محض جینیاتی طور پر نہیں سمجھا سکتے کہ لوگ داڑھیوں کو اتنا پرکشش کیوں اور کیسے سمجھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19394 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp