کیا حزب اختلاف نے انسانی حقوق کی کمیٹی پر حکومت سے سمجھوتہ کر لیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے پارلیمان میں سینیٹ (ایوان بالا) میں مختلف قائمہ و فنکشنل کمیٹیوں کے نئے سربراہان منتخب کیے جا رہے ہیں جس میں ایک اہم پیش رفت جمعے کو سامنے آئی جب انسانی حقوق کی کمیٹی کی سربراہی حزب اختلاف سے لے کر حکومت کو دے دی گئی یا خود حزب اختلاف نے یہ کمیٹی حکومتی رکن کے حوالے کی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے اپنے رہنما اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے مطابق اب حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کچھ نہ کیا تو پھر اس کی ذمہ داری بھی اپوزیشن پر ہو گی۔ حزب اختلاف کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے صرف پاکستان کی پیپلز پارٹی نے اپنے سینیٹر مصطفی نواز سے اس بارے میں اختلاف کیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے ترجمانوں اور رہنماؤں نے مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کو انسانی حقوق کی کمیٹی کی حکومت حوالگی سے متعلق اجلاس ان کیمرا ہوا تھا۔

خیال رہے کہ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے اپنی جماعت پیپلز پارٹی کی کچھ پالیسیوں اور اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے دوری اختیار کرنے پر اختلاف رائے کیا تھا۔ کچھ سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹر مصطفی نواز سے ناراضگی کی وجہ سے یہ کمیٹی مسلم لیگ ن کو تحفے میں پیش کی جبکہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے اس کمیٹی کو حکومتی رکن سینیٹر ولید اقبال کے حوالے کرنے میں اہم کردار اد کیا۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے بی بی سی کی جانب سے بارہا رابطہ کرنے پر بھی اس ساری پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر، جو کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سربراہ تھے، نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ اس کمیٹی کی سربراہی حکومت کے پاس جانے اور اسے فنکشنل کمیٹی سے قائمہ کمیٹی میں تبدیل کرنے سے اس کے پر کاٹے گئے ہیں۔

‘میں نے کھڑے ہو کر احتجاج کیا مگر سامنے کی سیٹوں پر خاموشی حیران کن تھی۔’

اس کے جواب میں سینیٹر شیری رحمان نے وضاحت پیش کی کہ ‘پیپلز پارٹی نے انسانی حقوق کی کمیٹی کا سودا دفاعی امور کی کمیٹی سے نہیں کیا۔ ہمارے لیے یہ سب سے اہم کمیٹی ہے۔

‘(انسانی حقوق کی کمیٹی) ن لیگ کے پاس گئی اور انھوں نے یہ انتخاب کیا۔’

اب متاثرین کی آہوں کے مجرم ہم بھی ہوں گے

مسلم لیگ نواز کے سابق سینیٹر پرویز رشید نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہمارے ہاں روز کا معمول ہیں، اس کی سینیٹ کمیٹی نشانہ بننے والوں کو تحفظ اور انصاف مہیا کرانے کا ایک ذریعہ ہے۔

’افسوس ہے کہ مشاہد حسین سید نے اس کی سربراہی حکومت کو دے کر دفاع کی کمیٹی حاصل کر لی، اب متاثرین کی آہوں کے مجرم ہم بھی ہوں گے۔‘

انسانی حقوق کی کمیٹی کیوں اہم؟

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ملک میں پارلیمان کی اکثر کسی قائمہ کمیٹی کو ایک وزارت کی ڈویژن کے طور پر قائم کیا جاتا ہے۔

‘ایک زمانہ تھا جب ملک میں انسانی حقوق کی کوئی وزارت نہیں تھی تو ایسے میں اس کی قائمہ کمیٹی نہیں بنائی جاسکتی تھی۔ مگر پارلیمان میں انسانی حقوق کو اہم مسئلہ سمجھا گیا اس لیے اس کی فنگشنل کمیٹی قائم کی گئی۔’

ان کا کہنا تھا کہ اپنے وجود کے بعد سے سینیٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے بطور قائمہ کمیٹی کا کردار ہی ادا کیا ہے۔

احمد بلال محبوب کے مطابق قائمہ کمیٹی کی سربراہی حکومت یا اپوزیشن کے پاس جانے سے اس لیے فرق پڑتا ہے کیونکہ چیئرمین قائمہ کمیٹی کا کردار اہم ہوتا ہے۔

‘قائمہ کمیٹی کا سربراہ مزکورہ کمیٹی کا ایجنڈا طے کرتا ہے اور میٹنگ کال کرنے کا اختیار بھی اسی کے پاس ہوتا ہے۔’

پرویز رشید

Getty Images
سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ افسوس ہے کہ مشاہد حسین سید نے اس کی سربراہی حکومت کو دے کر دفاع کی کمیٹی حاصل کر لی، اب متاثرین کی آہوں کے مجرم ہم بھی ہوں گے

ان کے مطابق چیئرپرسن کے پاس یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ ان کی کمیٹی اپنی مدت کے دوران کتنا فعال کردار ادا کرتی ہے۔ وہ اپنے تجربے سے بتاتے ہیں کہ ‘کمیٹی کے اراکین بہت زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ میٹنگ بلانے کے لیے کم از کم 25 فیصد ممبران کو طلب کرنا ہوگا۔۔۔ ممبران کو بلایا بھی جائے تو 25 فیصد کی حاضری مشکل ہوتی ہے۔

‘اس لیے اگر چیئرمین اس عنوان میں دلچسپی لیتا ہو تو وہ کمیٹی کو فعال بنا سکتا ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

’میری امی آدھی بیوہ کی طرح زندگی گزار رہی ہیں‘

پاکستان میں ریپ کا شکار افراد سامنے کیوں نہیں آ پاتے؟

پاکستان جبری گمشدگیوں پر ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کرائے: اقوام متحدہ کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے کمیٹی کی سربراہی کرنا اہم اس لیے ہے کہ حکومت سے وابستگی رکھنے والا سربراہ اپنی حکومت پر ایک حد تک تنقید ہی کرسکتا ہے۔ ‘اسے حکومت اور حکومتی اراکین کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہوتا ہے کہ آپ اپنی ہی جماعت و حکومت کو بدنام کر رہے ہو۔ یہ مسئلہ اپوزیشن کے چیئرمین کے ساتھ نہیں ہوتا، وہ بغیر کسی دباؤ اور حد کے فعال کردار ادا کرسکتا ہے، مسئلے اٹھا کر میڈیا پر لا سکتا ہے۔’

وہ بتاتے ہیں کہ ہیومن رائٹس اور پبلک اکاؤنٹس جیسی اہم کمیٹیوں کے بارے میں یہ روایت بن چکی ہے اسے اپوزیشن کو ہی ہیڈ کرنا چاہیے تاکہ ان کی افادیت زیادہ ہو۔

پلڈاٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک کے پارلیمان میں ہیومن رائٹس کی کمیٹی اس لیے اہم ہے کیونکہ یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بہت سے کیسز سامنے آتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھی ہیں اور لاپتہ افراد کے کیسز کم نہیں ہوئے۔

ایسے میں ‘یہ بہت اہم ہے کہ انسانی حقوق کی کمیٹی کسی ایسے شخص کے پاس ہو جو اسے فعال کر سکے اور حکومت کو مسائل سے متعلق باور کرا سکے۔’

مزید پڑھیے

’واپس آنے والے اسی حکومت میں لاپتہ ہوئے‘

’ریپ کے بعد صلح کرنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے؟‘

‘قومی اسمبلی میں انسانی حقوق کی کمیٹی کے سربراہ بلاول بھٹو ہیں جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔’

احمد بلال کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں کمیٹیوں کی سربراہی اس لیے بھی تبدیل ہوئی ہے کیونکہ ایوان بالا میں اپوزیشن کی نمائندگی کم ہوئی ہے۔

‘ہمیں اس حوالے سے مزید تصدیق کرنی چاہیے کیونکہ اس سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے کہ انھوں نے کیسے سینیٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی کو کم اہمیت دی۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19394 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp