ملالہ کا انٹرویو اور ہمارا رویہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی چند روز پہلے دنیا کی کم عمر ترین اور پاکستان کی دوسری نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ووگ میگزین کو ایک انٹرویو دیا جس پر کافی تنقید کی گئی جب ان کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور ایک ہی پہلو دکھا کہ تنقید اور گالیوں کا طوفان برپا کیا گیا اور حسب توفیق متھیرا سے لے کے رابی پیرزادہ تک سبھی نے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا، کئی یوٹیوبرز کو تو راتوں رات اپنے ویوز بڑھانے تک کا موقع میسر آیا۔

ہوا یوں کہ دوران انٹرویو ملالہ نے شادی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ

”اگر آپ کو اپنی زندگی میں کوئی فرد چاہیے تو آپ کو شادی کے کاغذات پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کیوں ایک پارٹنرشپ نہیں ہو سکتی؟“

جب کے اسی انٹرویو میں آگے چل کر انہوں نے اپنی والدہ سے کی گئی گفتگو کے دوران اسی بات پر وضاحت کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا کہ:

”میری والدہ نے کہا کہ، تمہیں ایسا کچھ نہیں کہنا چاہیے! تمہیں شادی کرنی ہے، شادی خوبصورت بندھن ہے۔“

یعنی یہ بات مذاق کے طور پر کی گئی لیکن ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر ایک نیا محاذ کھڑا ہو گیا جہاں لوگوں نئے بغیر پورا انٹرویو پڑھے اپنی اپنی بساط کے مطابق لعنت و ملامت کا باقاعدہ سلسلہ شروع کر دیا حالانکہ جب شادی کے سوال پر کئی سال قبل شیخ رشید نے جو جواب دیا تھا اس بیان سے ہر پاکستانی واقف ہے اور اسے ”ازراہ مذاق“ لیتا ہے۔

کسی نے ملالہ کو یہودی ایجنٹ قرار دیا اور کسی نے غدار، جب کے ملالہ کی خواتین کی تعلیم کے لیے کی گئی کاوشوں اور عالمی سطح پر خواتین کی نمائندگی پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

دراصل پہلے تو ہم خواتین کے اپنے معاشرے میں مضبوط کردار کے خلاف ہیں اور اگر کوئی خاتون کسی با اثر مقام تک پہنچ بھی جائے تو سوالات کا لامتناہی سلسلہ ہمارے ذہن میں جنم لیتا ہے جہاں اس کی کردار سے لے کے اس کی قابلیت تک ہر چیز کو پرکھتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو موم بتی مافیا اور مغربی ایجنٹ سمیت کئی القابات سے نوازا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں خواتین کی زندگی تب ہی ”مکمل“ اور ”کامیاب“ سمجھی جاتی ہے جب ان کی شادی ہو جائے اور وہ اسی گھر میں ہنسی خوشی یا مار کھاتے اپنی ساری زندگی گزار دے۔ جب کہ اگر کوئی لڑکی شادی نا کرنا چاہے یا کچھ وقت تعلیم یا کیریئر کے لیے مانگے تو اسے بغاوت سمجھا جاتا ہے اور لڑکی کو بد کردار ہونے کا سرٹیفیکیٹ فوراً سے دے دیا جاتا ہے۔ سوال کرنے والی خواتین تو ویسے بھی ہمیں ”باغی“ لگتی ہیں۔

دوسرا ملالہ سے قبل بھی ایک پاکستانی نے نوبل پرائز لیا تھا مگر ان کے عقیدے کی بنا پر ان کو بھی رد کیا گیا اور بے اعتنائی برتی گئی۔ آج تک ان کی حب الوطنی پر بھی ملالہ جتنے ہی سوال کیے جاتے ہیں اور ہماری نصابی کتب میں بھی کہیں ان کا ذکر نہیں ملتا۔

جب کہ دوسری طرف اپنے ہیروز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہم کبھی ترکی سے ارطغرل غازی کا فرضی کردار ادھار لیتے ہیں، جسے سرکاری سطح پر بھی بھرپور پذیرائی ملتی ہے اور کبھی اسامہ بن لادن کو نیشنل اسمبلی کے فلور پر ”شہید“ کہا جاتا ہے۔

کاش ہمارے ہاں لوگوں کو کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے تھوڑی تحقیق کرنے یا پوری بات سننے کی عادت ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *