بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج۔ اصل حقائق نظر انداز نہ کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بحریہ ٹاؤن کراچی کے باہر سندھ حکومت کی سرپرستی میں سندھی آبادیوں پر قبضے اور صدیوں سے زمینوں کے مالکان کے خلاف دھونس اور بدمعاشی کے خلاف سندھ کی سیاسی اور بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے کیے گئے احتجاج کو پرتشدد بنا کر پرامن مظاہرین پر شیلنگ کی گئی، جس میں کئی خواتین بے ہوش ہو گئیں۔ توڑ پھوڑ کے وقت خاموشی سے تماشا دیکھنے والی پولیس نے طے شدہ اہداف کے حصول کے بعد اشارہ ملنے پر کارکنان کے خلاف پکڑ دھکڑ شروع کردی، سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کر کے ان کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اطلاعات کے مطابق پوری رات 25 خواتین اور 12 بچوں کو بھی پولیس نے حراست میں رکھا۔

گو کہ توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ کے الزامات مظاہرین پر ہیں اور کسی بھی پرتشدد کارروائی کی حمایت نہیں کی جا سکتی، اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا ہے تو اس کو سزا دیں مگر اس واقعہ کی آڑ میں بے گناہ لوگوں، سیاسی قیادت، خواتین اور خصوصاً متاثرہ گوٹھوں کے مکینوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔

اس ضمن میں کچھ بنیادی سوال ہیں جو اس معاملے کو مشکوک بناتے ہیں۔

01۔ جب عام طور پر کوئی شخص باقاعدہ سیکیورٹی چیک کے بغیر بحریہ ٹاؤن میں داخل نہیں ہو سکتا تو کس طرح تیس پینتیس بندے اندر گھس گئے؟ جبکہ ایکسٹرا ٹینکر لگا کر راستے بند کیے گئے تھے؟ کیا یہ انتظامیہ کی سازش نہیں تھی؟

02۔ جب کمرشل ایریا میں توڑ پھوڑ ہو رہی تھی، اس وقت درجن سے زیادہ پولیس موبائلز میں موجود اہلکاروں نے ان کو کیوں نہیں روکا؟

03۔ بحریہ ٹاؤن کے گیٹ کو آگ لگائی گئی، جو کہ کنکریٹ اور سریے کا بنا ہوا تھا، کیا یہ بات کیمیکل کے بغیر لگائی جا سکتی تھی؟ آگ کی شدت دیکھ کر لگتا ہے کیمیکل بھی بڑی مقدار میں استعمال کیا گیا ہوگا، کیا کوئی پیدل شخص اتنی بڑی مقدار میں کیمیکل اٹھا کر لا سکتا ہے؟ اگر کوئی لایا گیا ہے تو بحریہ ٹاؤن انتظامیہ یہ بات سی سی ٹی وی فٹیج سے ثابت کرے۔

ایک تو ملک ریاض کی لفافہ فیکٹری نے نام نہاد قومی میڈیا کا منہ بند کیا ہوا ہے، اس لیے عوام کو اصل حقائق کا پتہ نہیں چل رہا، سندھی میڈیا نے بڑی حد تک درست حقائق عوام تک پہنچائے مگر سوشل میڈیا پر جان بوجھ کر صورتحال کو اس طرح پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے ابہام پیدا کیا جاسکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک ریاض اور سندھ حکومت کے گٹھ جوڑ سے قائم ایک طرح کی کمپنی سرکار نے بہت سارے لوگوں کو اس کام پر لگایا ہوا ہے جو یقینی طور پر ”پیسہ پھینک تماشا دیکھ“ کا شاخسانہ ہے۔ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ سندھ کے لوگوں سے اچھی خاصی عزتیں سمیٹنے والے کچھ لوگ بھی اس کھیل میں کود پڑے ہیں جس سے ان پر بھی اس قسم کے الزامات کا جواز بنتا ہے۔

معاملہ ہے کیا؟ سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ احتجاج ہوا کیوں؟ بحریہ ٹاؤن کو 8 سال قبل سپر ہائی وے پر چند سو ایکڑ زمین الاٹ ہوئی، جس کے بعد پراجیکٹ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر پھیلنا شروع کر دیا اور کئی قدیمی سندھی بستیوں کو نگل گیا، معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تو بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اور سندھ حکومت نے دستاویزی ثبوت پیش کیے کہ ان کو 16 ہزار ایکڑ زمین الاٹ ہوئی ہے۔ عدالت نے اس کی جو بھی رقم طے کی وہ زمین مالکان کے بجائے حکومت کو دی گئی۔

رینجرز کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن 44 ہزار ایکڑ تک پھیل چکا تھا، جبکہ کمپنی سرکار کی توسیع پسندی کا حرس کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ شاید اس وقت بحریہ ٹاؤن 75 ہزار ایکڑ تک پھیل چکا ہے، مگر اس کی تصدیق نہیں ہو پائی۔

بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کا موقف ہے کہ پراجیکٹ میں شامل کرنے کے لئے مقامی لوگوں سے زمین خریدی گئی ہے مگر علاقہ مکینوں کا روز اول سے موقف ہے کہ انہیں ڈرا دھمکا کر یا پولیس کی مدد سے زبردستی بے دخل کر کے دیواریں کھڑی کی جاتی ہیں۔ کوئی ان کی فریاد نہیں سنتا اور پکڑ دھکڑ بھی جاری رہتی ہے، ان کو تب تک پولیس ہراساں کرتی رہتی ہے جب تک وہ کچھ رقم کے عیوض اپنی گنوائی ہوئی زمینوں کے کھاتے منتقل نہیں کرتے۔

اس موقف کو ڈیڑھ مہینے پہلے پیش آئے واقعات نے درست ثابت کیا جب بحریہ ٹاؤن کے خلاف سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے مرحوم فیض محمد گبول کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ بالکل فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر والے مناظر تھے، پولیس، حکومتی پارٹی کے مسلح غنڈے اور ملک ریاض کی اپنی بنائی ہوئی فورس نے نہتے لوگوں پر ہلا بول دیا، ٹریکٹر، بلڈوزر، ایگزیویٹر اور دیگر بھاری مشینری سے کام شروع کر دیا گیا۔

مزاحمت کرنے والے لوگوں پر بحریہ ٹاؤن کی سیکیورٹی فورس کے غنڈوں نے نہ صرف وحشیانہ تشدد کیا بلکہ رسیوں سے باندھ کر گڈاپ تھانے پہنچاتے رہے، پولیس نے ان نہتے لوگوں پر ایف آئی آر درج کرنا شروع کردیں۔ بھلا ہو سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا معاملہ سوشل میڈیا پر آیا، مختلف لوگ میدان جنگ بنے ہوئے علاقے میں پہنچے، بلاول نے معاملے کا رسمی نوٹس لیا، بحریہ ٹاؤن کے کچھ لوگوں کے خلاف برائے نام کیسز داخل ہوئے، بات ختم۔

کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ جب بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی زمین ہی نہیں تھی تو کس طرح قبضے کی کوشش کی، نہتے لوگوں پر گولیاں چلائیں اور۔ تشدد کیا؟

اس کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں اور بیرون ملک میں رہنے والے کتنے سرمایہ کاروں کے ساتھ اربوں روپے کے فراڈ ہوئے، یہ الگ قصہ ہے، جو شاید آنے والے دنوں میں سامنے آئے۔

میں پورے ملک اور دنیا بھر کے لوگوں کو باور کرواتا ہوں کہ سندھی نہ تو دہشتگرد ہیں نہ ہی ترقی کے مخالف۔

کچھ سوالات ہیں جن کے جوابات پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں۔

01۔ جب بحریہ ٹاؤن کو 16 ہزار ایکڑ زمین الاٹ ہوئی تو 44 یا 75 ہزار ایکڑ تک کیسے پھیل گیا؟

02۔ جب ملک میں بجلی، پانی اور گیس کا بحران ہے، ملک کی سب سے بڑی بستی بسانے سے پہلے کیا منصوبہ بندی کی گئی؟

03۔ کس طرح کراچی کے حصے کا پانی بحریہ ٹاؤن کو دے کر شہر کو ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے؟

04۔ کس طرح سندھ حکومت کے وسائل سے اومنی گروپ کے ذریعے نوری آباد میں بجلی گھر بنا کر بحریہ ٹاؤن کو بجلی دی جا رہی ہے؟

05۔ سب سے اہم سوال یہ کہ جب سندھ کے لوگوں پر اتنا بڑا ظلم ہو رہا ہے، اس وقت ادارے کیوں خاموش ہیں؟ عدالتیں، نیب، ایف آئی اے۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ سب ملک ریاض کے ساتھ ملے ہوئے ہیں؟

06۔ بحریہ ٹاؤن کے شیشے ٹوٹنے پر تو ملک کی سیاسی قیادت سیخ پا ہو گئی ہے، اس وقت کیوں زبان گنگ تھی جب ملک ریاض کی کمپنی سرکار غریب لوگوں کے گوٹھ بلڈوزر سے مسمار کر رہی تھی؟

یاد رکھیں کفر پر قائم معاشرہ تو قائم رہ سکتا ہے، ظلم پر قائم معاشرے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ سندھ کے لوگ مظالم سہنے کے عادی ہو چکے ہیں، ایسا نہ ہو کہ آپ قدرت کا انتقام برداشت نہ کرسکیں۔

منظر بھوپالی کہتے ہیں
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پر نہ اتراؤ، آئینہ ہمارا ہے
آپ کی غلامی کا، بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے
آبرو سے مرنے کا، فیصلہ ہمارا ہے
عمر بھر تو کوئی بھی، جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے، تجربہ ہمارا ہے
اپنی رہنمائی پر، اب غرور مت کرنا
آپ سے بہت آگے، نقش پا ہمارا ہے
غیرت جہاد اپنی، زخم کھا کے جاگے گی
پہلا وار تم کر لو، دوسرا ہمارا ہے ​

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *