سوشل میڈیا اور ختم ہوتی ہوئی پرسنل سپیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سوشل میڈیا کے دور میں زندہ ہیں۔ ان پلیٹ فارمز نے ہمیں یہ سہولت دی ہے کہ ہم آسانی سے دنیا میں کہیں بھی رہنے والے افراد سے جڑ سکیں۔ ساتھ ہی یہ ایک سے انٹرسٹ رکھنے والے لوگوں کو قریب لانے میں مددگار ہے۔ سوشل سائٹس نے جہاں لوگوں ایک دوسرے سے جوڑا ہے وہیں ایسی سائٹس اور ایپس بھی وجود میں آئی ہیں جہاں آپ اپنے ٹیلنٹ کو ظاہر کر سکتے ہیں ویڈیوز، تصاویر یا کانٹینٹ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ ایک سہل طریقہ ہے کہ آپ اپنے ہنر کو دنیا کو دکھا سکتے ہیں۔ یا اپنی زندگی کے مختلف پہلووں کے متعلق بات کر سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بہت تیزی سے دنیا میں پھیلی ہے۔ ہم جیسے پسماندہ سماج میں اس کا پھیلاو جتنی تیزی سے ہوا ہے کہ ہم اسے پوری طرح سے سمجھ پائے نہ ہی اس کے سیلاب کو سنبھال سکے۔ ایک چھوٹا سا موبائل جام جمشید ہے جس میں سب دیکھا جا سکتا ہے جانا جا سکتا ہے۔ ایک دور دراز پسماندہ گاؤں کا رہنے والا شخص بھی ان چیزوں تک پہنچ رکھتا ہے جو آج سے کچھ عرصہ پہلے خواب و خیال تھیں۔

سوشل میڈیا نے ہماری سماجی زندگی پہ مثبت اور منفی دونوں طرح اثرات مرتب کیے ہیں ایک طرف تو ہم مختلف علاقوں کے لوگوں سے جڑ گئے ہیں۔ ہمیں نئے دوست اور نئی سوچ ملی ہے اپنے ہنر آزمانے کا آسان موقع ملا ہے دوسری طرف اس نے حقیقی دنیا کے قریب لوگوں کو دور کیا ہے۔ خاص طور پہ ہمارے معاشرے میں کوئی بھی جگہ ہو آفس، سکول، کالج، دوران سفر، گھر میں یا محفل میں لوگوں کا فوکس سوشل میڈیا پہ ہوتا ہے۔ اس نے ہماری زندگیوں کو مصنوعی بنا دیا ہے۔ ہم خود کو دوسروں کے سامنے وہ پیش کرتے ہیں جو ہم نہیں ہیں۔

پرسنل سپیس کی سمجھ بوجھ ہمارے معاشرے میں ویسے ہی کم ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے جو آپ کا دوست، رشتہ دار یا قریبی شخص ہے اس پہ آپ کا خوامخواہ کا حق ہے۔ پھر اس کی کوئی ایکٹیوٹی، بات، تصویر یا ویڈیو ہے آپ بلا اجازت اسے شیئر کر سکتے ہیں۔ اس کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہے۔ بلکہ آپ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ آپ اس کی ذاتی زندگی میں نہ صرف مداخلت کریں بلکہ یہ بھی توقع رکھیں کہ آپ کی کہی گئی بات، مشورہ یا فیصلہ قبول کیا جائے۔

شعور کی کمی کا یہ حال ہے کہ انتہائی نجی محافل میں بھی لوگ فیس بک پہ لائیو آ جاتے ہیں اور وہاں بیٹھے لوگوں کے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ ہوتا ہے دنیا انہیں دیکھ اور سن رہی ہے۔ بلا اجازت تصاویر شیئر کرنا یا خاندان اور دوستوں کی محفل کی ویڈیو شیئر کرنا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ یہ ایک طرح کی اوبسیشن ہے۔ پھر آپ تو پتہ نہیں ہوتا لیکن آپ کی تصاویر، ویڈیوز فیس بک، ٹک ٹاک، یو ٹیوب یا دیگر پلیٹ فارمز کی زینت بنی ہوتی ہیں۔

اور کہیں سامنے آ جائیں تو آپ منہ کھول کے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ کب ہوا کس نے بنائی اور کیوں بلاوجہ اپ لوڈ کی۔ آپ دوستوں کے سامنے سر پھوڑ لیں انہیں سمجھ نہیں آئی گی کہ یہ آپ کی اپنی سپیس کا معاملہ ہے یا انٹیلیکچوئل پراپرٹی ہے بنا اجازت ایسا کچھ شیئر کرنا اخلاقی طور پہ غلط ہے بلکہ جرم ہے۔ انہیں صرف یہ پتہ ہو گا کہ یہ کون سا بڑی بات ہے کر دیا تو کر دیا۔

ہمارے سماج کا المیہ ہے کہ اس میں پروان چڑھی یہ سوچ کی فرد کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ اکائی کے طور پہ کسی اہمیت کا حامل نہیں ہے بلکہ گروہ کی شکل میں ہی قابل قبول اور اسی کے اصولوں، روایات اور رواج کے مطابق چلنے پہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سوچ نے بظاہر جدید خیال کے لوگوں میں بھی پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ منع کرنے پہ بالکل روایتی سوچ کے لوگوں کی طرح برا ماننا اور ایسا ری ایکٹ کرنا کہ کہنے والا شرمندہ ہو جائے۔ اور ساتھ ہی یہ جتانا کہ بھئی ہم تو تمہیں پروموٹ کر رہے ہیں انسان پوچھے کہ ہمیں کون سی مارکیٹنگ کی ضرورت پیش آئی ہے۔

یا کون سی مجبوری ہے کہ آپ نے ہمیں وائرل کرنا ہے۔ بھئی پرسنل سپیس کی اہمیت سمجھیں ہر انسان کی اپنی ترجیحات اپنا رہن سہن کا طریقہ ہے ضروری نہیں ہے کہ آپ ہر وقت کیمرہ ہاتھ میں لیے ساری دنیا کو بتائیں کہ آپ کی یا جو آپ کے ساتھ افراد ہیں ان کہ زندگی میں کیا چل رہا ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ آپ باہمی رضامندی سے کچھ بھی شیئر کریں۔ اجازت مانگنے میں ‌ کچھ نہیں جاتا اور نہ ملنے پہ آپ کی توہین نہیں ہوتی۔ خود جئیں اور دوسروں کو ان کے انداز سے سے جینے دیں۔ آپ یا کوئی سماجی گروہ ٹھیکہ دار نہیں ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے کرے کہ انہیں کس طرح جینا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *