امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی کم ہوتی اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ خیال اس حد تک درست ہے کہ امریکہ کی موجودہ فارن پالیسی میں پاکستان مارجنلائزڈ یعنی کم اہم ہو گیا ہے لیکن اس جملے کو ایسا نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ گزشتہ 73 برسوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ دراصل پاکستان امریکہ کی خارجہ پالیسی میں 73 برسوں سے ہی حقیقی طور پر اہم نہیں تھا بلکہ امریکہ نے پاکستان کو اپنے خاص مقصد یعنی کولڈوار میں سوویت یونین کے خلاف ایک اہم ٹول کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں گاہے بگاہے اہمیت دی۔

امریکہ کے نزدیک پاکستان کی جیوسٹریٹجک اہمیت کم ہو جانے کی ایک وجہ سوویت یونین کا ختم ہو جانا تھا۔ البتہ افغانستان کے معاملات کی وجہ سے پاکستان کی تھوڑی بہت اہمیت برقرار رہی اور اب بھی افغانستان میں مستقبل کے ممکنہ خطرات کے باعث پینٹاگون کے نزدیک پاکستان ایک حد تک اہم رہ سکتا ہے۔ تاہم اس اہمیت کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو امریکہ کی مدد کے لیے کچھ حساس اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ علیحدہ بات کہ ان حساس اقدامات کے پاکستان پر خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

جہاں تک سوال ہے کہ ٹریڈیشنل نیشنل سیکورٹی اب دنیا کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور اس کی جگہ ہیومن سیکورٹی یا انسانی تحفظ کے ماڈل نے لے لی ہے، اس کے جواب میں تحریر ہے کہ مغربی تاریخ دانوں کے نزدیک نیشن سٹیٹ یا قومی ریاست کا تصور 17 ویں صدی میں سامنے آیا اور اسی وقت سے نیشنل سیکورٹی کی بنیاد پڑی۔ تاہم میرے نزدیک انسانی فطرت کے مطالعے سے اس بات کا امکان ابھرتا ہے کہ انسان نے پہلے گروہوں، قبیلوں اور پھر قوموں کی صورت میں اپنے آپ کی شناخت کروائی اور پھر انہی اکائیوں کو سیکورٹی بھی فراہم کی جسے ٹریڈیشنل نیشنل سیکورٹی بھی کہا جاسکتا ہے۔

خاص بات یہ کہ اپنی شناخت کے ان اجزائے ترکیبی میں انسان نے اپنے علاقے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جن میں رنگ، نسل، زبان اور رسم و رواج وغیرہ شامل تھے۔ اس طرح نیشنل سیکورٹی کا بنیادی تصور 17 ویں صدی میں نہیں بلکہ پری ہسٹورک پیریڈ سے موجود ہے۔ اب انسانی تحفظ یا ہیومن سیکورٹی کے آج کل کے نئے ماڈل کو لیں تو اس کا اولین تصور پاکستان کے ڈاکٹر محبوب الحق نے پیش کیا تھا۔ یہ ماڈل ایک فرد کے تحفظ جس میں اس کی معاشی سیکورٹی، خوراک کی سیکورٹی، ہیلتھ سیکورٹی، ماحولیاتی سیکورٹی، انفرادی سیکورٹی، کمیونٹی سیکورٹی اور سیاسی سیکورٹی وغیرہ شامل ہیں پر مبنی ہے۔

دیکھا جائے تو اس وقت اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر تمام اہم انٹرنیشنل ادارے انہی مندرجہ بالا ایریاز کو انسانیت کی بھلائی کا مرکز مان بیٹھے ہیں۔ انہی منصوبوں کا نام ملینیم گولز، ایس ڈی جیز، نوون لیفٹ بی ہائنڈ، رائٹ ٹو انفارمیشن اور فریڈم آف ایکسپریشن وغیرہ ہیں۔ غور کیا جائے تو صرف انہی ایریاز کے لیے زیادہ تر انٹرنیشنل فنڈز اور امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہیومن سیکورٹی کا دلفریب ماڈل جسے مغرب بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اس کے اصل موجد یا فلاسفر ڈاکٹر محبوب الحق تھے لیکن مغرب نے ان کا نام اس ماڈل کے موجد یا فلاسفر کے طور پر مٹا دیا ہے تاکہ پاکستان کو دانشمندی میں کسی طرح کا کریڈٹ نہ مل سکے۔

اگر فرض کر لیں کہ انسانی تحفظ یا ہیومن سیکورٹی کا ماڈل پوری دنیا میں رائج ہو جائے تو پھر شاید دنیا کی بڑی طاقتوں کا اگلا قدم یہ ہو کہ ہیومن سیکورٹی کے ہوتے ہوئے جغرافیائی سرحدوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جغرافیائی سرحدیں نیشن سٹیٹس کی ضرورت ہوتی ہیں۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ مغرب یا امریکہ جو ماڈل بھی پروان چڑھاتے ہیں اس میں سب سے پہلے وہ اپنا مفاد دیکھتے ہیں جسے وہ پریگمیٹک یا نیشنل انٹرسٹ کا نام دیتے ہیں۔

اس تناظر میں یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ انسانی تحفظ یا ہیومن سیکورٹی پر مکمل عملدرآمد کے لیے مسلم ممالک اور چین کو ٹارگٹ کیا جائے گا جبکہ مغرب اور امریکہ اپنے ایسے اعداد و شمار پیش کریں گے جن میں وہ خودبخود انسانی تحفظ یا ہیومن سیکورٹی کے گراف میں بہت اونچے نظر آئیں گے۔ اس طرح وہ اپنی ٹریڈیشنل نیشنل سیکورٹی کو اپنی جغرافیائی حدود کے ساتھ برقرار رکھتے ہوئے دنیا کے مختلف حصوں میں ٹارگٹڈ ایریاز کو ہیومن سیکورٹی کی زد میں لاتے رہیں گے۔

اب اس بات پر کہ پاکستان ہیومن سیکورٹی کے حوالے سے امریکہ کے نزدیک کم اہم ہو گیا ہے پر مختصر دلیل یہ دی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں بھی 222 ملین یا 22 کروڑ انسان بستے ہیں۔ کیا ہیومن سیکورٹی کے ویسٹرن ماڈل میں انسانوں کی تعداد کا کوئی ذکر ہے؟ یقیناً اس حوالے سے انسانی تعداد کا تعین نہیں ہو سکتا۔ تو پھر یہ کہنا کہ ہیومن سیکورٹی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے نزدیک کم اہم ہو گیا ہے شاید درست نہ ہوگا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مغرب اور امریکہ پاکستان میں ہیومن سیکورٹی کے ایشوز بناتا ہے اور اس حوالے سے پاکستان پر مختلف طریقے سے دباؤ ڈال رہا ہے اور ڈالے گا۔

اس دلیل کے بعد یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ چونکہ پاکستان مغرب اور امریکہ کے لیے جیوسٹریٹجک پلان میں ایک استعمال شدہ ٹول ہے جس کی اب ضرورت نہیں لہٰذا اب اسے امریکی خارجہ پالیسی کے کم اہم خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ میرے نزدیک دنیا پر حکمرانی کے لیے ہیومن سیکورٹی کی نئی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پاک بھارت مذاکرات میں امریکہ کی مداخلت یا سہولت کاری کا امکان نہیں ہے، میں اس جملے کو اس طرح پڑھوں گا کہ امریکہ نے پاک بھارت مذاکرات میں کبھی بھی مداخلت یا سہولت کاری نہیں کی بلکہ پاکستان کو چاکلیٹ دے کر چپ کروائے رکھا اور بھارتی مفاد میں سندھ طاس معاہدہ، تاشقند علانیہ اور شملہ معاہدہ وغیرہ ہو گئے۔

اس لیے ہمیں اپنی ہسٹری میں اس خام خیالی پر اعتراض کرنا چاہیے کہ کبھی بھی امریکہ نے اپنے یا بھارتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر صرف پاکستان کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہو۔ لہٰذا اگر امریکہ نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا تو اب اس کا امکان سوچنا بھی اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہوگا۔ یہ کہنا بھی آدھا سچ اور آدھا غلط ہے کہ پاک بھارت مذاکرات میں امریکی مداخلت نہ ہونے کی وجہ عالمی رجحان کی طرف دیکھنا ہے اور امریکہ چین کے گھیراؤ کے لیے بھارت کی معاونت جاری رکھے گا۔

اس بات میں آدھا غلط یہ ہے کہ گلوبل ٹرینڈ امریکہ پر اثرانداز ہوتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ گلوبل ٹرینڈ بناتا ہے۔ مندرجہ بالا بات میں آدھا سچ یہ ہے کہ امریکہ چین کے گھیراؤ کی پالیسی کے لیے بھارت کو معاونت فراہم کرے گا۔ یعنی بھارت کا اب وہ کردار ہوگا جو پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف ادا کیا۔ بھارت میں ہندو انتہاپسندی کے رجحان کی وجہ بھی بالکل ویسی ہی ہے جیسے سوویت یونین کے خلاف جہادی نظریے کو ابھارا گیا۔

مطلب آسان ہے کہ انٹرنیشنل پالیسی کے تحت بھارت میں ہندو انتہاپسندی کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ فی الحال اس کا ٹارگٹ بھارت کی مسلم آبادی اور دیگر اقلیتیں ہیں لیکن حتمی نتیجے کے لیے اسی انتہاپسندی کو چین کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ برصغیر کے ملک پاکستان کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا گیا، بھارت کو چین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ برصغیر کے تیسرے ملک بنگلہ دیش کو کس کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *