انٹرنیٹ سروسز میں تعطل، برطانیہ کی سرکاری ویب سائٹس سمیت دنیا کے بڑے ادارے متاثر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو

ویب ڈیسک — امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے بیشتر خطوں میں انٹرنیٹ سروسز میں تعطل کے باعث برطانیہ کی حکومت کی سرکاری ویب سائٹس سمیت کئی بڑے بین الاقوامی اداروں کی ویب سائٹس تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق دنیا کے بڑے کانٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک ’فاسٹ لی‘ کی سروسز متاثر ہونے کے بعد لاتعداد ویب سائٹس بند ہونا شروع ہو گئی تھیں اور ایک گھنٹے سے زائد تک یہ تعطل برقرار رہا۔

خیال رہے کہ فاسٹ لی کی سروسز کئی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے اداروں سمیت بڑی کمپنیوں نے بھی حاصل کی ہوئی ہیں جن میں امریکہ کا نشریاتی ادارہ سی این این، برطانوی ادارہ گارجین، دنیا کے بڑے اخبارات میں شمار ہونے والا امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ دیگر کانٹینٹ فراہم کرنے والے بڑے پلیٹ فارمز جیسے ایچ بی او میکس، ریڈیٹ، اسپوٹی فائے، ٹوئچ وغیرہ کی سروسز بھی فاسٹ لی میں آنے والی خرابی سے متاثر ہوئیں۔

شاپنگ کے سب سے بڑے آن لائن پلیٹ فارم ایمیزون بھی متاثرہ اداروں میں شامل ہے۔ جب کہ برطانیہ کی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ نے بھی اس سے خرابی سے متاثر ہوئی ہے۔

برطانیہ نے بعد ازاں خرابی درست ہونے اور سرکاری ویب سائٹس کی بحالی کا بیان بھی جاری کیا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ‘ پریس کے مطابق امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں قائم کمپنی فاسٹ لی نے سروسز میں خرابی تسلیم کرنے کے ایک گھنٹے بعد بیان میں کہا کہ خرابی کو درست کر دیا گیا ہے۔

اس کے بیان کے کچھ ہی دیر میں ویب سائٹس واپس آن لائن آنا شروع ہو گئیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق فاسٹ لی کی سروسز میں اچانک بندش سے انٹرنیٹ کی سروسز پر اثر پڑا۔ اس کلاؤڈ سروسز فراہم کرنے والے ادارے کے بیان کے مطابق مسئلے کی نشان دہی ہو گئی تھی جس کو درست کر لیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق مسئلہ حل ہونے کے ساتھ ہی تمام اداروں کی معطل ہونے والے سروسز بھی بحال کر دی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق انٹرنیٹ کی سروسز میں آنے والے تعطل سے امریکہ، یورپ، ایشیا اور جنوبی افریقہ کے خطے زیادہ متاثر ہوئے۔ فاسٹ لی دنیا کے بڑے اداروں اس کی صارفین کے پاس لوڈنگ کا وقت کم کرنے سمیت انٹرنیٹ، ایپلی کیشنز اور دیگت پلیٹ فارمز میں معاونت کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2212 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *