امام غزالی کے فلسفیوں کے خلاف بیس نکات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میں نے ایک ایسے گروہ کو دیکھا ہے جو اپنے ہمعصروں پر محض ذکاوت کے ذریعے امتیاز حاصل کرتے تھے۔ ان کو اسلامی فرقوں سے کوئی واسطہ نہ تھا نہ عبادت سے کوئی سروکار، وہ شعائر اسلام کی تحقیر کرتے تھے اور انہوں نے تمام قیود و شریعت سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ ان کے کفر کا صرف یہی سبب تھا کہ چند لغو باتیں ان کے کان میں پڑ گئیں تھیں۔ انہوں نے سقراط، بقراط، افلاطون، ارسطا طالیس کے دہشت انگیز نام سن پائے تھے نیز ان کے متبعین کے ذریعے انہیں ان فلاسفہ کے عقول کی تعریف اور ان کے مختلف علوم ( جیسے ہندسہ ) منطق، طبیعات، الہٰیات میں تبحر اور ان کی کمال ذکاوت کے متعلق بہت کچھ واقفیت حاصل ہو گئی تھی اور یہ بھی معلوم ہو اکہ یہ لوگ باوجود اپنی کمال دانشمندی اور اعلیٰ فضیلت کے مذہب اور شریعتوں کے منکر ہیں اور مذہب کے تفصیلی امور کے قائل نہیں۔۔۔۔ جب وہ لوگ جو محض دانشمندی کے لحاظ سے ہمسروں میںامتیاز حاصل کرنا چاہتے تھے ان کے اس قسم کے خیالات سے آشنا ہوئے اور فلاسفہ کے ان اعتقادات کو اپنی طبعی میلانات کے مطابق پایا تو انہوں نے خود کو کفر سے آراستہ کر لیا اور اپنے زعم میں خود کو فضلا کے گروہ میں شمار کرنے لگے، جمہور کی امداد سے بے نیاز ہو گئے اور آبا و اجداد کے عقاید کو اپنے لیے ننگ و عار سمجھنے لگے۔ “(تہافتہ الفلاسفہ، امام غزالی۔ )

 یہ پیراگراف تہافتہ کے دیباچے سے لیا گیا ہے، نثر اِس قدر بلند آہنگ اور لہجہ ایسا دبنگ ہے کہ پڑھنے والا امام غزالی کی کسی دلیل سے پہلے ہی خود کو اُن سے متفق پاتا ہے۔ آگے چلنے سے پہلے یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔ تہافتہ الفلاسفہ میری نظر سے ضرور گذری ہے البتہ پوری کتاب میں نہیں پڑھ سکا کہ یہ دقیق فلسفیانہ ترکیبات سے اٹی پڑی ہے، تاہم اِس کتاب پر مختلف حکما اور فلاسفہ کی لکھی ہوئی شرحیں ضرور دیکھی ہیں (یہ اور بات ہے کہ بعض شرحیں اصل متن سے بھی زیادہ پیچیدہ ہیں)، انہی میں سے ایک کتاب میں یہ اقتباس پڑھنے کو ملا۔ امام غزالی کی یہ کتاب مسلم فلسفے کی تاریخ کی غالباً سب سے اہم کتاب ہے، اس کے بعد ابن رشد نے جواب میں تہافتہ تہافتہ الفلاسفہ لکھی جو اپنی جگہ ایک شاندار علمی کارنامہ ہے۔ ابن رشد کو امام کی کتاب کا جواب دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی، یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے امام غزالی کے مقدمے کو سمجھ لیا جائے جو انہوں نے فلسفیوں کے خلاف قائم کیا تھا۔ امام غزالی یہ سمجھتے تھے کہ یونانی فلسفیوں، خاص طور سے ارسطو، کے زیر اثر مسلمان حکما نے مذہب کے بارے میں کچھ ایسے نظریات قائم کر لیے تھے جن کی روح مذہب کے منافی تھی۔ بظاہر یہ افکار مدلل لگتے تھے اور مذہب کی عقلی توجیہہ پیش کرتے تھے مگر اصل میں اِن کے نتیجے میں مذہب کو نا قابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ اِس بات کو امام غزالی نے بھانپ لیا اور تہافتہ الفلاسفہ میں اُن تمام فلسفیانہ عقاید کی پڑتال کرکے انہیں رد کردیا جن پر مسلمان فلسفیوں نے اپنے دلائل کی عمارت کھڑی کی تھی۔ تاہم اِس ضمن میں مصری عالم سلیمان دنیا کا تبصرہ خاصا دلچسپ ہے، انہوں نے تہافتہ کے مقدمے میں لکھا کہ ’غزالی نے اس کتاب کی تصنیف اس وقت کی ہے جبکہ وہ شہرت و جاہ کے طالب تھے اور اس مذہب کی تائید کرنا چاہتے تھے جو مقبول عوام تھا نہ کہ مذہب حق کی فی نفسہہ۔ ‘تاہم سلیمان دنیا نے یہ لکھتے ہوئے ساتھ معذرت بھی کی ہے کہ اِس کا مقصد امام کی بے توقیری نہیں بلکہ محض انسانی لغزش کی طرف اشارہ ہے جس سے کسی بشر کو مفر نہیں۔

امام غزالی نے فلاسفہ کے بیس افکار کا خلاصہ تیار کیا اور پھر ایک ایک کرکے اُن دلائل کی پڑتال کی۔ وہ بیس مسائل کچھ یوں ہیں۔ 1۔ فلاسفہ کا یہ دعوی ٰ باطل ہے کہ عالم ابدی ہے۔ 2۔ اُن کا یہ دعوی ٰ باطل ہے کہ عالم ازلی ہے۔ 3۔ حکما کا یہ دعوی ٰ کہ خدا عالم کا خالق ہے، باطل ہے، کیونکہ اُن کے مطابق اگر عالم قدیم ہے تو خدا صانع کیوں کر ہوا؟ 4۔ خدا کا وجود ثابت کرنے میں فلاسفہ کی بے بسی۔ 5۔ خدا کی وحدانیت پر دلائل پیش کرنے سے فلاسفہ کا قاصر رہنا۔ 6۔ فلاسفہ کا یہ دعوی ٰ کہ خدا صفات کا حامل نہیں۔ 7۔ فلسفیوں کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ خدا کی ذات جنس و فصل نہیں۔ 8۔ ان کا یہ دعویٰ کہ خدا کی ذات بلا ماہیت ہے یعنی وہ کوئی مادی وجود نہیں۔ 9۔ فلاسفہ کا خدا کی جسمیت ثابت کرنے سے قاصر رہنا۔ 10۔ اِن فلاسفہ کا دہریہ ہونا لازم ہے۔ 11۔ فلاسفہ کا یہ ثابت کرنے سے قاصر رہنا کہ خدا کو اپنے غیر کا علم ہے۔ 12۔ فلاسفہ یہ بھی ثابت کرنے سے قاصر ہیں کہ خدا کو اپنی ذات کا علم ہے۔ 13۔ فلاسفہ کا یہ ماننا کہ خدا کو جزئیات علم نہیں یعنی وہ جزئیات سے بے غرض ہے۔ 14۔ فلاسفہ کا یہ دعوی ٰ باطل ہے کہ آسمانوں (مراد غالباً اجسام فلکی )کی حرکت بلاکسی ارادے (شاید مراد مقصد )کے ہے۔ 15۔ فلاسفہ نے سماوات کی حرکت کا جو مقصد بیان کیا ہے وہ باطل ہے۔ 16۔ فلاسفہ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ آسمان کو عالم میں جزئیات حادثہ کا علم ہوتا ہے (اللہ جانے اِس کا کیا مطلب ہے )! 17۔ فلاسفہ کا یہ کہنا کہ خرق عادت ممکن نہیں یعنی فلسفی علت و معلول کے قائل ہیں جبکہ معجزات اِس قانون کے برخلاف رونما ہوتے ہیں اور یہی مذہب کی بنیاد ہے۔ 18۔ روح کو جوہر ثابت کرنے میں فلاسفہ کا عجز۔ 19۔ فلاسفہ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ روح کا فنا ہونا ممکن نہیں۔ 20۔ فلاسفہ کا اِس بات سے انکار کرنا کہ اجساد کو حشر کے روز زندہ کیا جائے گا۔

اپنی طرف سے میں نے کوشش کی ہے کہ اِن بیس نکات کو جس قدر ممکن ہو عام فہم بنا کر پیش کیا جائے لیکن یہ کوشش ایک حد تک ہی کی جا سکتی تھی۔ امام غزالی نے فلسفیوں کے دلائل میں پوشیدہ نقائص کو آشکار کیا اور پھر ایک ایک کرکے اُن پر کاری ضرب لگاتے چلے گئے۔ امام کا مقدمہ ہی یہی تھا کہ کوئی شخص ایک ہی سانس میں فلسفے اور مذہب دونوں کا داعی نہیں ہو سکتا کہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مثلاً معجزات کے باب میں دلیل دیتے ہوئے امام کہتے ہیں کہ خدا کا ارادہ کسی علت و معلول کے قانون کا محتاج نہیں، ایک طرف تو فلسفی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا کے علم کا بندے کی دانش سے موازنہ ممکن نہیں مگر دوسری طرف باری تعالی ٰ کی مشیت اور انسان کے ارادے کا تقابل بھی کرتے ہیں، یہ دونوں باتیں متضاد ہیں۔ دراصل امام غزالی نے جس انداز میں اپنے استدلال کو استعمال کیا وہ اِس قدر پر تاثیر تھا کہ اُسے رد کرنا بے حد مشکل ہو گیا۔ غزالی اصول مذہب کو اُس وقت تک غلط تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے جب تک اِس ضمن میں ناقابل تردید اور ٹھوس دلائل کا انبار نہ لگا دیا جائے جبکہ دوسری طرف وہ فلسفے کو یہ رعایت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اِس بات کا اندازہ ان کے بیس نکات پڑھنے سے ہو جاتا ہے جہاں وہ بار ثبوت فلسفیوں پر ڈالتے نظر آتے ہیں جبکہ مذہب کے ضمن میں اُن کے نزدیک یہ دلیل کافی ہے کہ ہر بات ممکن ہے تاوقتیکہ وہ منطقی اعتبار سے کسی دوسری بات کی ضد نہ ہو۔ اِن حالات میں ابن رشد نے تہافتہ کا جواب دیا، یہ جواب کس حد تک مدلل تھا، اِس کا بیان آئندہ کالم میں۔

کالم کی دُم :چند ماہ پہلے اِس عاجز نے ایک کالم میں مختصراً ان دلائل کا ذکر کیا تھا جو تہافتہ میں امام نے بیان کیے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ ابن رشد کے جوابی دلائل کا ذکر آئند ہ کسی کالم میں کروں گا۔ آج یہ اُس کالم کا پہلا حصہ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 203 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *