جادوئی چھڑی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں یقیناً آپ تمام کو ایک قسم کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہوگا بالخصوص والدین کی جانب سے اور سب سے زیادہ مار بھی اس پر پڑی ہوگی کہ گھر سے باہر نہیں نکلنا یا پھر رات ہونے سے پہلے گھر کو لوٹ آنا ہے وغیرہ۔ اس کے علاوہ بھی ضروری یا غیر ضروری پابندیوں کا سامنا ہوا ہوگا لیکن ہر گھر میں ایسا کوئی بچہ بھی ہوگا وہ لیٹ بھی آتا ہوگا لیکن ڈانٹ اور مار سے محفوظ رہتا ہوگا اور یہ وہی بچا ہوتا ہے جس کے پاس گھروں والوں کا اعتماد بحال کرنے کی جادوئی چھڑی ہوتی ہے جس سے باقی بچے محروم ہوتے ہیں اور محروم دکھائی بھی دیتے ہیں۔

میں ذاتی تجربہ رہا ہے گھر ہو ادارہ یا پھر ریاست کسی بھی معاملے میں نزدیکی لوگوں کا زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا اس کی ایک وجہ وہ نزدیکی ہوتے ہیں ان کی شکایتیں اپنی سمجھی جاتی ہیں اور معاملات کو لے کر نہیں بلکہ کچھ دے کر ختم کر دیا جاتا ہے۔ اور دور رہنے والے یا جن کو دور رکھا گیا ہو ان پر نظر رکھنی لازمی ہوتی ہے ان کے ساتھ نرمی انا میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوتی ہے۔ تو اس غرض سے دور والے نظر میں رہتے ہیں اور تذکرے میں بھی۔

آپ تھوڑا ذاتی طور پر تفتیش کریں تو وطن عزیز میں آپ کو جس گاڑی پر زیادہ جھنڈے لگے نظر آئے یا پھر مارخور یا آرمی سلوگن لکھا ہوا نظر آئے یا جس گھر کی دیواروں پر زیادہ فلیگ بنے نظر آئے ان میں اکثریت ایک ذمہ دار ادارے سے محبت کے اظہار کی آڑ میں ہر اس کاروبار میں مشغول نظر آتے ہیں جس کا منافع زیادہ ہوتا ہے مگر یہ قانون کے حق میں نہیں ہوتا۔ ان میں بھی اکثریت کی قسمت ان ہی بچوں کی طرح ہوتی ہے جن کے پاس جادوئی چھڑی ہوتی ہے۔

ایک قریبی دوست کے بقول چند سال قبل ہمارے حلقے میں ایک 14 اگست کی ریلی نکالی گئی ریلی نکالنے والے سے لے کر حصہ لینے والے وطن عزیز میں غیر قانونی کاموں میں ملوث لوگ تھے۔ 61 سے زائد گاڑیاں ریلی میں شریک تھی جن میں کسٹم پیڈ صرف 2 تھی۔ اب ایسے فراڈیے جہاد کریں گے، کشمیر بنے گا پاکستان، اسرائیل بنے گا فلسطین کے نعرے لگا کر کام پر لگ جاتے ہیں درحقیقت ان کو پاکستان کب آزاد ہوا یا قرارداد پاکستان یا قومی نظریہ کا الف ب پتا نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں ہنسی تو آئے گی نا۔ لیکن خیر ان کے پاس بھی جادوئی چھڑی ہوتی ہے جو گھر کے مخصوص بچے کے پاس ہوتی ہے۔

دیکھا جائے تو پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شعبے میں کئی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کے پاس جادوئی چھڑی ہوتی ہے۔ چند ایک کے پاس چھڑی کی ایسی قسم ہوتی ہے جس سے ذاتی مفادات کے ساتھ ساتھ ادارے کے ادارے یا لوگ ان کے اختیار میں رہتے ہیں۔ پھر چھڑی جہاں گھمائی جائے کام ہوجاتا ہے۔ خیر یہ بڑی چھڑی ہوتی ہے لیکن چھوٹی چھڑی والے بھی اپنی اوقات سے زیادہ کچھ کر جاتے ہیں اور بغیر چھڑی کے کام چلانے والے میری طرح دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

لیکن ضرورت اس امر کی ہوتی ہے یہ جادوئی چھڑی رکھنے والے یا ایسی قسمت جنہوں نے پائی ہے جو اس چھڑی کی بدولت قانون سے بالاتر ہوتے ہیں اور ملک سے محبت کا اظہار تمام غیر قانونی اقدامات سے کرتے ہیں۔ ان سے یہ چھڑی واپس لی جائے یا پھر باقی عوام کو بھی یہ چھڑی فراہم کی جائے تاکہ بے غرض وطن عزیز سے محبت کرنے والے محب وطن لوگوں کی محبت رائیگاں نہ جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *