EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

معافی مانگتا صحافی اور رازوں سے پردہ اٹھاتا جج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حامد میر نے اپنی ’گستاخانہ‘ تقریر پر معذرت کر لی ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا۔ تاہم جیو نیوز کے اینکر اور عالمی شہرت یافتہ نامور صحافی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے جیو یا آئی ایس آئی سے معافی مانگ لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معذرت تکنیکی ضرورت پوری کرنے کے لئے صحافیوں کی کمیٹی کو دی گئی ہے تاکہ وہ چھ مختلف شہروں میں ان کے خلاف درج کروائے گئے مقدمات میں ان کا دفاع کرسکیں۔

ملک میں جس طرح اچانک کسی کی ’غداری‘ اور ملک دشمن سرگرمیوں کا انکشاف ہوتا ہے، اسی پراسرار طریقے سے معافی کو معذرت کہہ کر معاملات طے کرنے کی کوشش کی بھی جاتی ہے۔ اب صحافیوں کی حفاظت کے لئے کی گئی تقریر میں استعمال کئے گئے الفاظ پر افسوس کے لئے معذرت کا لفظ استعمال کیا جائے یا اسے معافی کہا جائے ، اس کا مقصد بہر حال ایک ہی ہے ۔ کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ڈٹ جانے والے صحافی کو ہی ایک قدم پیچھے اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ کسی صحافی کی کمزوری نہیں ہے بلکہ حالات کا جبر ہے جس میں کوئی بھی ایک ایسے نظام کے خلاف کھڑا نہیں رہ سکتا جس میں قومی مفاد کے نام پر آئینی آزادی و حقوق سلب کرتے دیر نہیں کی جاتی۔ اب یہی دیکھ لیا جائے کہ اسد طور کے حق رائے اور آزادی اظہار کی حفاظت کا عزم کرنے والے حامد میر کو کام سے محروم ہونے اور پے در پے مقدمات کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر یہ اقرار کرنا پڑا ہے کہ گزشتہ ماہ کے احتجاج میں تقریر کرتے ہوئے وہ اپنی ’حد ‘ سے باہر نکل گئے تھے۔

اس حوالے سے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے ) نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حامد میر نے آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کمیٹی کے سامنے بیان میں کہا ہے کہ ’ گزشتہ ہفتے 28 مئی کو پریس کلب اسلام آباد کے باہر پی ایف یو جے کے مظاہرے میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی مذمت کی جارہی تھی۔ اور افسوس کا اظہار کیا جارہا تھا کہ بشمول مجھ پر ہونے والے حملے کے، ان حملوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا۔ اس موقع پر کچھ صحافیوں نے سخت تقریریں کیں۔ میری تقریر سے پیدا ہونے والے غلط تاثر کا مجھے بخوبی احساس ہے۔ میں بغیر کسی دباؤ کے اپنے ضمیر، احساسِ ذمہ داری اور مروجہ صحافتی اقدار کے تحت یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنی تقریر میں کسی فرد کا نام نہیں لیا اور نہ میری فوج سے کوئی لڑائی ہے۔ میں فوج کا بطور ادارہ احترام کرتا ہوں۔ میں نے سیاچن سے لے کر لائن آف کنٹرول تک اور فاٹا سے بلوچستان تک فوجی بھائیوں کی قربانیوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ اور ان کی کوریج کو باعث فخر سمجھا ہے۔ میرا مقصد کسی کی دل آزاری یا جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا لیکن میرے الفاظ سے پہنچنے والی تکلیف پر تہہِ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ صحافیوں پر حملوں کا سلسلہ رکوایا جائے اور ان کے ذمہ داران کو گرفتار کرکے ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس ضمن میں صحافیوں کے تحفظ کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں قانون سازی بھی کی جائے‘۔ بیان کے آخر میں کمیٹی نے اس بیان سے اتفاق کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ اب معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوجائے گا۔

ہوسکتا ہے یہ بیان ایک اشتعال انگیز اور ہوشربا تقریر پر معافی نہ ہو بلکہ صرف ’غلط فہمی‘ کی وضاحت کے لئے جاری کیا گیا ہو لیکن اس سے یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ کوئی بھی صحافی خواہ وہ حامد میر کے مرتبے اور مقام پر ہی کیوں فائز نہ ہو ’گھر کی باتیں سامنے لانے‘ کی دھمکی تو دے سکتا ہے لیکن اس دعوے پر عمل درآمد کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ حامد میر نے جیو ٹی وی کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ سے ہٹانے کا اعلان سامنے آنے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ اب ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے، ان کے اہل خاندان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اب وہ کسی بھی حد تک جانے کےلئے تیار ہیں۔ یہ حد بظاہر صحافی کمیٹی کے روبرو فوج کی قصیدہ گوئی پر مجبور ہو کر عبور کرلی گئی ہے۔ اب اگر جیو کو بھی مزاج یار کی برہمی دور ہونے کا اشارہ مل گیا تو شاید آر یو جے کمیٹی کی امید بر آئے اور حامد میر پھر سے ٹی وی پر پروگرام کرنے لگیں۔

صحافیوں کا تحفظ بنیادی اہمیت کا مسئلہ ہے۔ حامد میر نے اس حوالے سے طویل جدوجہد کی ہے اور 2014 میں خود بھی قاتلانہ حملے کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس وقت بھی ان کی طرف سے آئی ایس آئی پر الزام لگانے کے بعد اپنا مؤقف تبدیل کرنا پڑا تھا۔ اب بھی اگرچہ انہوں نے کسی فرد یا ادارے کا نام نہیں لیا تھا لیکن ان کی باتیں سن کر کسی کو اس بارے میں شبہ بھی نہیں تھا کہ ان کا اشارہ آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جانب تھا۔ اب معذرت کرتے ہوئے بھی جس دل آزاری کی بات کی جا رہی ہے، اس کا اشارہ جنرل فیض ہی کی جانب ہے۔ البتہ عام ہاضمے کے لئے قابل قبول بناتے ہوئے بیان میں فوج کی قربانیوں اور شجاعت کا ذکر کر کے، ملک کے خفیہ اداروں کی قانون شکنی کو وہ عذر فراہم کردیا گیا ہے جس کے پردے میں نہ صرف صحافیوں پر حملے ہوتے ہیں، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اٹھا لئے جاتے ہیں بلکہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو دھمکایا جاتا ہے۔ اس کا کچھ احوال اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں اپنی برطرفی کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت کے دوران بیان کیا ہے۔

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں جمع کروائے گئے بیان میں شوکت صدیقی نے نہ صرف درپردہ سرگرم عمل کرداروں کا نام لے کر احوال بیان کیا بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کس مقصد سے ججوں سے ملتے ہیں، ان کے بازو مروڑتے ہیں اور انہیں کسی بھی طرح اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد میں ناکام ہونے پر جج ہی کے خلاف کارروائی کا ڈول ڈالا جاتا ہے اور ملک کی سپریم جوڈیشل کونسل بھی اس خواہش کو پورا کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ شوکت صدیقی کے بیان پر ریمارکس دیتے ہوئے بنچ میں شامل ججوں نے اس بات پر تو کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ اعلیٰ عدالتوں کے لئے یہ صورتحال کس حد تک پریشان کن ہے اور اس سے ملک میں انصاف کا عمل کیوں کر متاثر ہوتا ہے بلکہ اس بات پر تشویش کا اظہار ضرور کیا کہ’ گھر پر ہونے والی ملاقاتوں کو پبلک تقریر میں بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی‘۔

گویا ملک کی اعلیٰ ترین عدالت صورت حال کی اصلاح کا عزم ظاہر نہیں کررہی بلکہ جسٹس عمر عطا بندیال کے الفاظ میں یہ کہہ رہی ہے کہ ’آپ نے آئی ایس آئی کے سامنے تو مزاحمت دکھائی لیکن پھر بعد میں عوامی مقام پر جا کر بند کمرے میں ہوئی ساری باتیں بول دیں اور ادارے کے بارے میں تحقیر آمیز الفاظ کا چناؤ کیا۔ آپ کو اپنے اداروں کے تخفظ کے لیے بھی مزاحمت دکھانی چاہیے تھی‘۔ معزز جج کے ان ریمارکس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ کی قیادت کرنے والے جج کو اس بات پر پریشانی نہیں تھی کہ ملک کے ایک اہم ادارے کے ذمہ دار عہدیدار غیر آئینی طور سے ججوں کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ایک جج اس وقت انصاف کے لئے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور دو سابقہ چیف جسٹسز کا نام لے کر دہائی دے رہا ہے کہ انہوں نے اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ سماعت کے آخر میں ججوں کے ریمارکس پر اپنا مؤقف واضح کرنے کے لئےشوکت صدیقی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ ’سارے ججز ریمارکس دیتے ہیں لیکن میرے ریمارکس پر شوکاز نوٹس جاری ہو جاتے ہیں‘۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’ہمیشہ وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔ ہم سب ادارے اور ملک تعمیری عمل سے گزر رہے ہیں۔ اس کی وجہ ملک کے ارد گرد جاری حالات بھی ہیں۔ ہمیں اپنے ادارے کا تحفظ کرنا ہے، ججز پر اعتماد بحال کروانا ہے‘۔ یہ ساری وہی باتیں جو جسٹس منیر کے بدنام زمانہ نظریہ ضرورت کی بھی بنیاد تھیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پس پردہ ملاقاتیں ہوتی ہیں لیکن وہ آپ کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئیں۔ آپ کے فیصلے بولنے چاہئیں۔ لکھے ہوئے الفاظ بھی مناسب ہونے چاہئیں جبکہ بولتے ہوئے تو بہت احتیاط کی ضرورت ہے‘۔ یہ ریمارکس ایک ایسے جج کی طرف سے عطا ہوئے ہیں جو کچھ ہی عرصہ پہلے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواستیں سننے والے لارجر بنچ کی بھی سربراہی کرچکے ہیں۔ یادش بخیر جسٹس قاضی کا قصور یہی تھا کہ جو باتیں شوکت صدیقی نے راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے بیان کی تھیں، فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں سپریم کورٹ کے حکم کا حصہ بنا دیا تھا۔

گزشتہ روز کی سماعت کے آخر میں شوکت صدیقی نے کہا کہ ’معزز عدالت نے مجھ سے عوامی مقام پر تقریر اور انکشافات کی وجہ پوچھی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے ہی ادارے سے دکھی ہوں۔ میرے اپنے ہی ساتھیوں، جن میں ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ کے نام شامل ہیں، نے میری پیٹھ پیچھے چھرا گھونپا‘۔ رپورٹ کیا گیا ہے کہ ابھی شوکت صدیقی نے اتنا ہی کہا تھا کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں روک دیا اور کہا کہ ’آپ پہلے ہی ایک متنازع تقریر کر چکے ہیں، جس کا اب مقدمہ لگا ہوا ہے۔ عدالت میں اب دوسری کوئی تقریر نہ کریں‘۔ رپورٹر بتاتا ہے کہ ’شوکت صدیقی دہائیاں دیتے رہ گئے کہ انہیں تھوڑا سن لیا جائے لیکن ججز سُنی ان سُنی کرکے کمرہ عدالت سے چلے گئے‘۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سپریم کورٹ میں شوکت صدیقی کے انکشافات اور خاص طور سے پاناما کیس میں فیصلہ کے لئے دباؤ ڈالنے کے انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے شوکت صدیقی کے بیان میں سامنے آمنے والی معلومات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ لیکن یہ تحقیقات کون کرے گا؟ سچائی سے منہ موڑ کر جانے والا جج یا اعلیٰ ترین صلاحیتوں سے لیس وہ ادارہ جو صحافی سے معافی منگوانے کے لئے ہر ہتھکنڈا اختیار کرسکتا ہے اور ججوں کو ’تعاون ‘ کا مشورہ دیتا ہے تاکہ سب مل جل کر خوشی خوشی رہ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1915 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے