بلیم گیم نا منظور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یہ دستور رہا ہے کہ آنے والی حکومت ہر اچھائی اپنے اور ہر برائی گزری حکومت کے نام کر دیتی ہے۔ جو بہتری آ رہی ہے وہ ان کی جبکہ جو شعبہ زوال پذیر ہو وہ گزشتہ حکومت کی غلط پالیسی کا نتیجہ ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے اور ایسے رویے عوام کا حکمرانوں پر سے اعتبار ہٹا دیتا ہے کیوں کہ وہ گزشتہ حکومت کی غلط پالیسی، چوری اور مکاری سے ہی تنگ آ کر آپ کو منتخب کرتے ہیں کیوں کہ آپ ان سے گزشتہ حکومتوں کی غلط پالیسی کو بہتر بنانے کی یقین دہانی کروا رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ موجودہ دور حکومت میں ایسا نہیں کر پا رہے تو آپ عوام کے مجرم اور حکومت کرنے کے لیے نا اہل قرار دیے جانے چاہیے۔

سکون کے متلاشی تیزی سے قبر کی جانب بڑھتے دکھائی دیتے ہیں کیوں کہ ایک مہان شخص نے فرمایا تھا کہ سکون صرف قبر میں ہے، ہمارے بچے جوان، جوان بوڑھے اور بوڑھے اپنی آخری آرام گاہ کی جانب گامزن ہیں۔ حکمران جھوٹ، مکاری اور دھوکے بازی کو ثواب سمجھنے لگے ہیں۔ انسانی جان کی کوئی قدر نہیں رہی ہے۔ عوام کی سسکیاں سننے کے لیے فقط فلاحی تنظیمیں رہ گئی ہیں۔ خدا نے نا امیدی کو کفر قرار دیا ہے، لیکن وہ معصوم لوگ کیا کریں جو انہیں اس لیے منتخب کرتے ہیں تاکہ جیسی ان کی گزری ویسی ان کی آل اولاد کی نہ گزرے۔

عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے، ہر نئی حکومت آنے سے پہلے پانی، بجلی، بھوک، غربت، مفلسی، روزگار کے مسائل حل کریں گے، کبھی عوام کو روزگار کے حوالے سے بڑے بڑے خواب دکھائے جاتے ہیں تو کبھی غربت کے خاتمے پر بڑے بڑے بھاشن اور اقتدار کے آتے ہی سب زمین بوس ہو کر رہ جاتے ہیں اور ہر سوال پر قصور وار گزشتہ حکومت کو ٹھرایا جاتا ہے۔

اپنے پانچ سال مکمل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہی ہے کہ بلیم گیم کھیلتے جاؤ، پتہ ہی نہیں چلے گا کیسے 5 سال گزر جائیں گے اور پھر اگلے انتخابات میں اس ہی اسکرپٹ کے ساتھ حاضری۔ موجودہ حکومت کا اس بلیم گیم میں کوئی ثانی نہیں، ان کا بس چلے تو حال ہی میں ہونے والے واقعے کا ذمہ دار بھی ٹرین میں سفر کرنے والے مسافروں کو ہی ٹھہرا دیں، نا وہ سفر کرتے نا ٹرین چلتی اور نا یہ حادثہ پیش آتا اور ویسے بھی بقول فردوس عاشق اعوان صاحبہ اللہ کے فضل سے یہ سال کا پہلا حادثہ تھا۔

اس ہی طرح ہر بڑھتے جرم کے قصور وار عوام ہیں، لوگ گھروں سے بے جاں نکلتے ہیں تو چوریاں ہوتی ہیں، لوگوں کی غفلت ہوتی ہے تو ان کے گھروں میں ڈکیتیاں پڑتیں ہیں۔ لوگ بجلی کی چوری کرتے ہیں اس ہی لیے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔

اگر حکمران ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں ہوتے تو ملکی حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے غلطیوں کا اعتراف کریں اور یقین دہانی کروائی جائے کہ اب تک جو ہوتا رہا ہے وہ آئندہ نہیں ہوگا۔ عوام کو استعفے نہیں انصاف چاہیے، بلیم گیم نہیں کار کردگی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احسن رضوی، کراچی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *