لائسنس۔ مابعد منٹو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکیسویں صدی اپنی عمر کی بیس بہاریں دیکھ چکی تھی۔ نانیوں دادیوں سے سنتے آئے تھے لڑکیاں جلدی بڑی ہو جاتی ہیں اور لڑکے بے چارے باپ کے کاندھے تک آتے آتے بہت وقت لگا دیتے ہیں حالانکہ بچاروں کی داڑھی پیٹ میں ہوتی ہے مگر کون مانے۔ صدی بھی مونث ٹھہری سو پیدائش کے ساتھ ہی جوانی چلی آئی۔ مگر یہ موصوفہ ایسے رنگ ڈھنگ بدلے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی پری نے سب کے ہاتھوں میں جام جم تھما دیے اور دور دراز بستے لوگوں کو ہجرت کروائے بغیر گلوبل ویلج میں لا بٹھایا۔

موسم گرما کی جاتی رات آنے والی صبح کے لیے راستہ ہموار کرتی دھیرے دھیرے سمٹ رہی تھی۔ صبح سویر کی ہلکی روشنی آشیانے پر پھیلتی زندگی کو خوش آمدید کہنے کو آگے بڑھ رہی تھی۔ رات کی بارش درختوں پر ہلکا کھلتا ہرا رنگ بکھیر گئی تھی ہوا سے پتے کھلکھلاتے تو بوندیں شرارت سے نیچے ٹپک پڑتیں۔

آشیانے کے مکیں ائر کنڈیشنز کی خنک فضا میں پرسکون نیند کے ہنڈولوں میں جھولتے تھے۔ یہ سٹیلا جیکسن کا آشیانہ ہے جو سب کی ممی ہے۔ اس گھر کا ماحول صفائی اور پاکیزگی کا حامل ہے کیونکہ وہاں محبت کرنے والی ممی رہتی ہے۔

ممی کافی عرصے سے یہاں مقیم ہے۔ جب اسے پونا سے شہر بدر کیا گیا تو غریب نواز بلک بلک کر رویا۔ چڈہ نے اسے غصے بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا تم حیدرآبادیوں کی آنکھ کا مثانہ بہت کمزور ہوتا ہے وقت بے وقت ٹپکنے لگتا ہے یہ کہتے ہوئے چڈہ نے اپنی آنکھیں پونچھ ڈالیں اور سب نے ممی کو محبت سے خدا حافظ کہا۔

شہر شہر گھومنے کے بعد بالآخر سٹیلا جیکسن نے ایک بڑے شہر کے مضافات میں ایک مکان خرید لیا۔ زندگی نے ذرا سکھ کا سانس لیا تو ممی نے اردگرد کے لوگوں سے میل ملاقات شروع کی اور جلد ہی سب کے دلوں میں جگہ بنا لی۔ ممی ایک عظیم عورت تھی جس کے دل میں سارے جہاں کا درد تھا۔ وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کے لیے ممتا کے جذبات رکھتی تھی اس لئے یہاں بھی سب اسے ممی کہنے لگے۔ مگر اب دنیا بہت مصروف ہو چکی تھی اور کسی کے پاس اتنا وقت نہ تھا جو وہ دوسروں سے بانٹ سکے۔

تنہائی سے تنگ آ کر ممی نے گھر کو گرلز ہوسٹل میں تبدیل کر دیا تھا۔ شہر کے تعلیمی اداروں میں علم حاصل کرنے اور مختلف دفاتر میں کام کرنے والی لڑکیاں جو دوسرے شہروں سے آتی تھیں یہاں قیام پذیر تھیں۔ ممی ان کا خیال ماں کی طرح رکھتی تھی۔ اس گھر کو گرلز ہوسٹل میں تبدیل کرنے کے لئے اس نے حکومت سے باقاعدہ لائسنس حاصل کر رکھا تھا۔ شہر بھر میں اس ہوسٹل کی شہرت بہت اچھی تھی اس لئے والدین بے فکری سے اپنی بیٹیوں کو یہاں چھوڑ جاتے تھے۔ ماہانہ کچھ رقم کے عوض لڑکیوں کو قیام و طعام کی سہولت حاصل تھی

ممی اپنے کمرے سے باہر آئی اور آہستہ سے لاؤنج کی کھڑکی کے پردے ہٹائے باہر روشنی ہوا پر تیرتی اتر رہی تھی۔ نیند کی پریاں اپنے پر سمیٹنے کی تیاری میں تھیں اور زندگی بیدار ہونے کو تھی۔ دن کی روشنی پھیلتے ہی ہوسٹل میں چہل پہل شروع ہو گئی۔ سب لڑکیاں تیار ہو کر ناشتے کی میز پر آ گئیں اور ناشتہ کرتے ہی باری باری ممی کو بائے بائے کہہ کر اپنے اپنے کام پر روانہ ہو گئیں۔

عنایت عرف نیتی باہر اپنی گاڑی کے ساتھ موجود تھی۔ نیتی اسی ہوسٹل کے ایک کمرے میں رہتی ہے۔ اسے تانگہ چلانے کا لائسنس تو نہ مل سکا تھا ویسے بھی اب تانگے رہے کہاں۔ وقت کی تیز رفتاری کا ساتھ چرخ چوں کرتے تانگے بھلا کہاں دے سکتے ہیں۔ یوں بھی اس بڑھتی مہنگائی میں انسان اپنا پیٹ پالے یا گھوڑے کا۔ اس لیے نیتی نے گھوڑا تانگہ اور وہ جھمکے بیچ کر جو اسے ابو کوچوان نے بنوا کر دیے تھے اور نہ جانے کیسے سنتری کی نگاہوں سے بچ گئے تھے بیچ کر بینک سے آسان قسطوں پر گاڑی خرید لی تھی۔

شہر کے اچھے ڈرائیونگ سکول سے گاڑی چلانا سیکھ کر شہر کی سڑکوں پر دن بھر مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے لگی۔ اب اس کا ڈرائیونگ لائسنس ہر وقت اس کے پاس ہوتا۔ ممی کے ہوسٹل کی لڑکیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے ہوسٹلز سے بھی لڑکیوں کو ان کے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں پہنچاتی اور شام کو محنت کا وقار چہرے پر اور آنکھوں میں روشنی لے کر واپس آجاتی۔

پولی ڈریس ڈیزائننگ کا ڈپلومہ کرچکی تھی۔ نت نئے ملبوسات تیار کرنے کا شوق تو اسے تھا ہی اسی لئے اس نے اسے اپنے روزگار کا ذریعہ بنا لیا۔ ہوسٹل میں رہائش پذیر سلطانہ بھی کالی شلوار کی بد رنگی اور یکسانیت سے اکتا چکی تھی۔ زینت اپنی تمام تر سادگی اور معصومیت کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتی تھی تینوں نے مل کر بوتیک بنا رکھا تھا ان کی محنت سے ان کا کام اتنا پھیلا کہ ملک بھر سے آن لائن آرڈر موصول ہونے لگے۔

ان تینوں کی خواہش تھی کہ ایکسپورٹ کا لائسنس حاصل کر کے ان ملبوسات کو بین الاقوامی منڈی میں متعارف کرائیں جس کے لئے وہ مسلسل کوشش کر رہی تھیں۔ زینت نے اس سلسلے میں بابو گوپی ناتھ سے بات کی تو وہ بہت خوش ہوا اس کی دلی خواہش تھی کہ زینت کسی کی محتاج نہ رہے۔ اس نے بھاگ دوڑ کر کے انہیں لائسنس بنوا دیا۔ اب زینت آزاد تھی۔

اسی ہوسٹل میں بیگو جانکی اور شاردا بھی تھیں۔ انہوں نے بیوٹیشن کے مختلف کورسز کرنے کے بعد ایک مارکیٹ میں دکان کرائے پر لے کر پارلر کھول لیا تھا یہ کورسز انہوں نے خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے بنائے گئے حکومتی اداروں سے کیے تھے اس لئے انہیں پارلر چلانے کا لائسنس بھی مل گیا تھا۔ شروع شروع میں مارکیٹ میں موجود دوسرے دکانداروں کے لیے یہ انوکھی بات تھی مگر جلد ہی سب نے اسے قبول کر لیا اب تو بہت سے دکاندار باہر کے کاموں میں ان کی مدد بھی کر دیتے تھے۔ ان کا کام خوب چل نکلا اور وہ اپنا روزگار کمانے میں آزاد تھیں۔

ممی نے جب فی لس کو اس کے والدین کے پاس کشمیر واپس بھیجا تو وہ پندرہ سال کی تھی۔ دیکھنے میں کمزور اور زرد رو فی لس کے والدین کو ممی نے ساتھ ہی پیغام بھیجا تھا کہ وہ بیٹی کی تعلیم پر دھیان دیں۔ جب فی لس نے انٹرمیڈیٹ کر لیا تو اس کے والدین نے یونیورسٹی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ممی کے پاس واپس بھیج دیا۔ ممی فی لس سے بہت پیار کرتی تھی ایسے جیسے کوئی اپنے سب سے چھوٹے بچے کو چاہے۔ فی لس اب سمجھدار ہو چکی تھی۔

ممی اپنے خیالات سے باہر آئی تو دیکھا فی لس ابھی تک سو رہی تھی۔ اس نے آواز لگائی کہ وہ جلدی آ کر ناشتہ کر لے تاکہ وقت پر یونیورسٹی پہنچ سکے۔ بلو جینز پر ڈھیلی سی سفید کرتی پہنے بالوں کو پونی ٹیل اور پاؤں کو جوگرز میں قید کیے فل لس نے جلدی جلدی چائے کے گھونٹ بھرے اور ایک پراعتماد لاپروائی سے ممی کو بائے بائے کہہ کر پورچ میں آئی جہاں اس کی نئی موٹر بائیک موجود تھی۔ فی لس نے موٹر بائیک کو کک لگائی اور سڑک پر آ گئی۔ اس کی کمر پر لدے بیگ میں کتابوں کے ساتھ پانی کی بوتل اور موبائل فون کے ساتھ موٹر بائیک چلانے کا لائسنس بھی موجود تھا۔

سب اپنے اپنے کام پر جا چکے تو ممی کو یاد آیا کہ کئی دن سے اس نے موذیل سے بات نہیں کی ممی سب لڑکیوں کا دھیان رکھتی مگر موذیل کے لیے وہ ہمیشہ فکرمند رہتی۔ موذیل شروع سے سرپھری تھی۔ سماج کے لگے بندھے اصولوں کو توڑنے میں اسے ہمیشہ لطف آتا۔ وہ نت نئے تجربے کرنے کی شوقین تھی۔ اب بھی اس نے روایتی تعلیم اور کام کرنے کی بجائے نیا راستہ تلاش کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے کمرشل پائیلٹ کی ٹریننگ حاصل کی اور اب اس کے پاس ہوابازی کا لائسنس تھا اور وہ عموماً اندرون اور بیرون ملک پروازیں لے کر جاتی۔ موذیل کی دیکھا دیکھی نیلم نے بھی ائر ہوسٹس بن کر اپنی خدمات ایک بین الاقوامی ہوائی ایجنسی کو دے رکھی تھیں۔

ممی نے ایک نظر لاؤنج پر ڈالی ہرطرف زندگی بکھری ہوئی تھی۔ ممی کو اس بات پر بڑی طمانیت تھی کہ اس کی بیٹیاں آزاد و خود مختار تھیں اس نے سکون کی سانس بھر کر سوگندھی کو آواز دی۔ یہ لڑکی کچھ عرصے سے یہاں تھی۔ گھریلو کام کاج کے سلسلے میں ممی کو کسی مددگار کی ضرورت تھی۔ اس نے ایمپلائمنٹ ایکسچینج فون کر کے کسی گھریلو ملازمہ کو بھیجنے کی فرمائش کی۔ دفتر والوں نے سوگندھی نامی لڑکی کو اس کے پاس بھیج دیا۔ ممی نے اس کا شناختی کارڈ اور دفتر کا اجازت نامہ دیکھ کر اسے اپنے ہاں ملازم رکھ لیا۔

سوگندھی بڑی محنتی تھی۔ دن بھر خاموشی سے اپنا کام کرتی اور رات کو ہوسٹل میں موجود اپنے کمرے میں چلی جاتی۔ وہ یہاں بہت مطمئن تھی اور پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ ممی نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اسی طرح ایمانداری سے کام کرتی رہی تو ہمیشہ یہاں رہ سکتی ہے۔ آج بھی اس نے رات کے کھانے کے برتن سمیٹ کر باورچی خانہ صاف کیا اور اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس کمرے میں ایک دیوار کے ساتھ اس کی چارپائی تھی جس پر صاف ستھرا بستر بچھا تھا۔ دوسری طرف ایک میز تھی جس پر اس کی کنگھی اور بالوں کی پنیں رکھی تھیں جو وہ اپنے جوڑے میں لگاتی تھی میز کے اوپر دیوار میں آئینہ لگا تھا۔ الماری میں اس کے کپڑے اور استعمال کی دو سری اشیاء رکھی تھیں۔ کمرہ چھوٹا مگر صاف ستھرا تھا جس کے ساتھ غسل خانے کی سہولت بھی تھی۔

دن بھر کی تھکی ہاری سوگندھی چارپائی پر لیٹی تو اس کے جسم میں طمانیت آمیز تکان بھری تھی۔ وہ ایک طرف کروٹ لے کر لیٹی تھی۔ چاند کی کرنیں کمرے کی کھڑکی سے فرش پر پڑ رہی تھیں۔ سوگندھی بے حس و حرکت خیالوں میں گم لیٹی تھی۔ اچانک اس نے روشنی کے چوکٹھے میں ایک شبیہ ابھرتی محسوس کی آہستہ آہستہ اس شبیہ نے گاڑی میں بیٹھے سیٹھ کی شکل اختیار کر لی۔ سوگندھی شفاف آنکھوں سے اسے کچھ دیر دیکھتی رہی پھر اچانک ”اونہہ“ کہہ کر شبیہ کے چہرے پر تھوکا اور کروٹ بدل لی۔ نیند نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے اور وہ پلکیں موندے سپنوں کی وادی میں اترتی چلی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *