آخر کب تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک میں ٹرین حادثات کی خبریں اب معمول کی خبریں بنتی جا رہی ہیں۔ حادثے میں ہلاکت ایک سے شروع ہوتے ہوئے درجنوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ریلوے ہیڈ کوارٹر رپورٹ کے مطابق سال 2018 سے سال 2021 جون تک 455 ٹرین کے حادثات پیش آچکے ہیں۔ پچھلے دو سالوں پر نظر ڈالی جائے تو نہ بھولنے والے چند ٹرین حادثات آج بھی اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔ 31 اکتوبر 2019 میں رحیم یار خان کے قریب بوگی میں آگ لگنے سے 74 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ آگ کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی تین بوگیوں میں لگی تھی۔ رحیم یار خان میں ہی گیارہ جولائی 2019 کو کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ایک مال گاڑی سے ٹکرائی اور 24 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ فروری 2020 میں روہڑی کے قریب جاڑے ماں ریلوے کراسنگ پر ٹرین اور بس کے ہولناک حادثے میں 19 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

6 اور سات جون دو ہزار اکیس کی درمیانی شب گھوٹکی کی تحصیل ڈہرکی میں رات تین بج کر 45 منٹ پر ایک اور ناقابل فراموش حادثہ پیش آیا۔ ٹرین حادثات کی کتاب میں ایک اور صفحے کا اضافہ ہوا، 65 افراد سفر آخرت پر اور 100 سے زائد افراد اسپتال کی طرف روانہ ہوئے۔ کہیں والدین اپنے بچوں سے بچھڑ گئے تو کہیں بچے اپنے ماں باپ کی محبت اور شفقت سے محروم ہو گئے، کہیں ایک ہی گھر سے 5 پانچ جنازہ اٹھے۔

ہر حادثے کی طرح اس حادثے کے بعد بھی وزرا جاگے۔ دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا، ذمے داروں کو سزا دینے کے دعوے کیے گئے۔ وفاقی وزیر ریلوے کے دکھ کا اندازہ ان کی اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے استعفے سے اگر یہ جانیں واپس آ جائیں تو میں استعفا دینے کے لئے تیار ہیں۔ جبکہ وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق نے اس سال کے پہلے ٹرین حادثے پر اللہ کا شکر بھی ادا کیا۔

آخر کب تک ہر حادثے کے بعد یہ ہی سوالات اٹھیں گے کہ ٹریک کی مرمت کب ہوگی؟ بوگیوں کی حالت کب تسلی بخش ہوگی؟ کب تک سگنل سسٹم ٹھیک ہوگا؟ کب ریلوے انتظامیہ غفلت کی نیند سے جاگے گی؟ کب تک بیشتر محکموں کی طرح ریلوے محکمہ میں کرپشن ہوتی رہے گی؟ کب تک نا اہل لوگوں کی بھرتیاں ہوں گی ؟ کب تک نا اہل لوگ ذمے دار عہدوں پر فائز رہیں گے؟ کب تک ہر موجودہ حکومت سابقہ حکومت کو ذمے دار قرار دیتی رہے گی؟ کب تک ان حادثات میں لوگ اپنے پیاروں کی موت کا دکھ سہتے رہیں گے۔ آخر کب ذمے داروں کو سخت سزا دی جائے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *