آخر تھپڑ کیوں نہ پڑے؟
ایک نجی ٹی وی شو میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پیپلز پارٹی کے نو منتخب رکن اسمبلی جناب عبدالقادر مندوخیل کو غصے میں آ کر تھپڑ جڑ دیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا سیاست میں وہی موٹو ہے جو ویوین رچرڈز کا کرکٹ میں : ”مارو اور مارتے چلے جاؤ“ ۔ یہ پالیسی مقبول عام پالیسی، ”مارو یا مر جاؤ“ کی زیادہ پر اعتماد شکل ہے۔ کسی نے ڈاکٹر صاحبہ کی اس پالیسی کو ایک تضمین کی شکل میں کچھ یوں بیان کیا،
” فردوس ہو عاشق بھی ہو، اعوان بھی ہو / تم سبھی کچھ ہو، کیا انسان بھی ہو“ ۔
کچھ عاقبت نا اندیش یہ کہہ رہے ہیں کہ جارحیت اور دشنام طرازی پی ٹی آئی کا سیاسی طرز عمل ہے اور اس سے سیاست پراگندہ ہو گئی ہے۔ یہ بھی کہ خود عمران خان نے شیخ رشید کو اس لئے رکھا ہوا تھا کہ، ”اے دوواں بھراواں نوں بڑا پیندا اے“ یعنی شیخ صاحب دونوں بھائیوں نواز اور شہباز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں (ایک پرانی وڈیو میں خان صاحب یہ کہتے پائے جاتے ہیں)۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خان صاحب تو مخالفین کی لڑائی کا جشن شوق سے مناتے ہیں۔
آپ کو یاد ہو گا جب اے پی سی میں لڑائی ہوئی اور خان صاحب نے فاتحانہ مسکراہٹ سے اسد عمر کو نجی ہوٹل کی لابی میں بتایا، ”پتہ چلا؟ لڑائی ہو گئی“ ۔ کچھ بدزبان تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ حکومتی مشیر اور وزیر خان صاحب کو خوش کرنے کے لئے جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہیں کیونکہ جو سیاسی پود خان صاحب نے تیار کی ہے اس کی آ بیاری کے لئے جارحیت جزو لاینفک ہے ورنہ ان کی سیاسی نا پختگی کا یہ عالم ہے کہ فورا ڈیل، ڈھیل، ناکامی اور کمزوری کی باتیں شروع کر دیں گے۔
دراصل بد خواہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ گھر کی رونق ہی جارحیت پر موقوف ہے۔ جاوید چوہدری جیسے دھیمے اور ٹھنڈے مزاج کے حامل شخص سے گلہ کر رہے ہیں کہ اس نے لڑائی جاری کیوں رہنے دی۔ بھئی وہ آپ کی طرح سیاست کو خدمت وغیرہ سمجھنے کے دقیانوسی خیال پر یقین نہیں کرتا بلکہ وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ سیاست سے اینٹرٹینمنٹ غائب ہو جائے تو سیاست محض جماعت اسلامی کا بیان بن کر رہ جاتی ہے۔ چوہدری صاحب آجکل متنوع کام کر رہے ہیں اور بیٹھے بٹھائے ایسا موقع مل جائے تو اندھا کیا چاہے دو آنکھیں!
مولانا شیرانی نے بیوی کو رومال سے مارنے کی اجازت دی ہوئی ہے اور اس لحاظ سے مخالف کو بغیر جسمانی گزند پہنچائے اگر ہلکا پھلکا تھپڑ لگ گیا تو کیا قیامت آ گئی۔ آپ کو وہ مشہور لطیفہ تو یاد ہو گا کہ ایک سردار جی اہنی خوبرو بیوی کے ساتھ جا رہے ہوتے ہیں کہ کوئی آ واز لگاتا ہے، ”واہ جی واہ سردار جی اج تے کتھے قیامت ہی برپا کرن چلے او“ ۔ بیوی نے چونک کر دیکھا اور سیدھا چلتے سردار جی سے کہا، ”اس نے مجھے چھیڑا ہے“ اور سردار جی بولے، ”چل فیر کی ہویا ساڈے ذرا ٹہور بن گئے“ یعنی تمہارا کچھ نہیں گیا اور ہماری ذرا عزت بڑھ گئی۔
ان بد خواہوں کو احساس ہی نہیں کہ اصل تھپڑ تو اکنامک سروے نے مارا ہے جس کے مطابق امریکہ، برطانیہ، بھارت، آسٹریلیا، سنگار پور سمیت ساری دنیا کا جی ڈی پی منفی آٹھ اعشاریہ نو تک گرا ہے لیکن پاکستان میں فارن ایکسچینج ریزرو چوبیس ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں اور اگر اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
پاکستان کو بنگلہ دیش اور بھارت سے بھی زیادہ ٹیکسٹائل کے ٹھیکے ملے ہیں کیونکہ پاکستانی ٹانکا زیادہ اچھا لگاتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے ٹیرف بڑھانے کا کہا اور وزیراعظم نے صاف انکار کر دیا۔ وزیراعظم صاف انکار کرنے کی خبریں چلنے کے بعد ٹیرف بڑھاتے ہیں۔ احساس پروگرام جن خاندانوں تک پہنچا ہے وہ سارا دن نیٹ فلکس پر فلمیں دیکھتے اور حکومت کو دعائیں دے رہے ہیں۔ ہم بجلی میں خود کفیل ہو گئے ہیں اور لوڈ شیڈنگ تو کسی کے شرارت کی وجہ سے مین سوئچ آف کرنے سے ہوتی ہے۔ بجلی کے بل بھی اب اتنے ہی آ یا کریں گے جتنے استور اور سکردو میں آتے ہیں۔ اب آپ خود سوچیں کہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کو تھپڑ کیوں نہ پڑے؟


