کورونا ویکسین اور ہمارا المیہ
کسی بھی نئی ایجاد یا بلا کے آنے سے ہمیشہ اس کی تائید کے ساتھ اس پر تحفظات، خدشات اور مفید و مضر اثرات پر رائے کا اظہار کیا جاتا ہے، انسانی فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے مگر چونکہ اب جدید ٹیکنالوجی، معلومات کی بہتات اور سماجی ابلاغی ویب سائٹس کا اثر و رسوخ سماج میں بڑھا ہے اس نے انسان کو قدرے زیادہ ذہنی انتشار کا شکار کیا ہے، جس کے سبب دنیا میں ہونے والے کسی بھی واقعہ پر بہت سی افواہوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور وقوعہ کے اسباب و حقائق چھپ جاتے ہیں۔ ہم چند دن شور شرابا کر کے، جذبات کا اظہار کر کے اس واقعہ کو بھول جاتے ہیں۔
کورونا وبا کے حوالے سے بھی مقامی اور عالمی سطح پر یہی رویہ دیکھنے کو ملا، چین نے امریکا کی سازش کہا، امریکا نے چائنہ پر الزام دھرا، صدارتی انتخابی مہم میں ٹرمپ اور جو بائیڈن ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہے، ہمارے خطے میں بھی یہود و نصاری سے تانے بانے ملائے جاتے رہے، مگر آنکھیں دیکھ رہی تھیں گھر کے گھر خالی ہو گئے انسان مر رہا تھا، اس وقت بھی مر رہا ہے مگر اب بحث کورونا کی وبا سے آگے بڑھ کر کورونا ویکسین کروانے نہ کروانے، اس کے اثرات پر پہنچ چکی ہے اور وہی افواہی تھیوریاں جو اس سماج اور دنیا کی جدید ثقافت کہہ لیں تو زیادہ مناسب ہوگا چل رہی ہیں، کوئی کہہ رہا ہے نہیں لگوانی چاہیے دو سال بعد موت واقع ہو جائے گی، یہ مسلمانوں کی مردانگی کے خاتمے کا نسخہ ہے فلاں فلاں۔
ہمارا یہ رویہ بالکل درست نہیں ہے، ابلاغی ویب سائٹس کے آنے سے ہر شخص خود کو صاحب الرائے سمجھتا ہے، جو جی چاہتا ہے دنیا کے کسی بھی گوشے کے کسی بھی مسئلہ پر بلا تحقیق اپنا حق سمجھ کر رائے دیتا ہے اور لوگوں کو ذہنی انتشار میں دھکیل دیتا ہے، ہمیں ہر مسئلہ پر اپنا قلم، زبان چلانے سے قبل اس مسئلہ سے متعلقہ معتبر افراد کی رائے معلوم کرنا چاہیے۔
تہذیب یافتہ معاشرہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ پیش آمدہ حالات میں ان ہی کی رائے معتبر مانی جائے جو اس شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں، دین کا مسئلہ ہو تو علماء، سیاست کا معاملہ ہو تو سیاستدانوں، صحت کے مسائل ہوں تو ڈاکٹرز، دفاعی امور کا معاملہ ہو تو دفاعی اداروں، انتظامی امور کا معاملہ ہو تو حکومتی حلقوں سے رائے لینی چاہیے۔
لیکن ہم اداروں کے اختیارات کے تجاوز کی شکایت تو کرتے ہیں مگر بطور شہری ہم ہر مسئلہ پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں، قانون کو توڑتے ہیں اور اس پر بڑے فخریہ بتاتے ہیں کہ آج ہم نے فلاں کارنامہ کر کے قانونی اداروں کو پاگل بنایا ہے، اسی سماج سے حکومتوں اور اعلی اداروں کے سربراہ بننے والے لوگ اسی عادت کے سبب اپنے اختیارات اور قانون سے تجاوز کرتے ہیں اور پورے سماج کو انتشار کی جانب لے جاتے ہیں۔
، کورونا ویکسین معاملے پر بھی طبی ماہرین کی ہی رائے معتبر ہے اور ان ہی کی رائے کے مطابق ہمیں ویکسین بالضرور کرانی چاہیے، البتہ جو لوگ مختلف بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں ان کو چاہیے کہ احتیاطاً وہ اپنے ڈاکٹرز سے مشورہ کر کے ان کی ہدایات پر عمل کریں، خود خدشات پال کر نہ اپنی زندگی داو پر لگائیں نہ اپنے اردگرد بسنے والے انسانوں پر عرصہ حیات کم کریں۔


