EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں ہر سال خودکشی کے دس لاکھ سے زائد واقعات رونما ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ تعداد دس ہزار سالانہ کی ہے۔ گلگت بلتستان کی آبادی پندرہ لاکھ ہے۔ یہاں سالانہ بیس کے قریب خودکشیوں کے واقعات ہوتے ہیں۔ آبادی کے حساب سے گلگت بلتستان میں خودکشیوں کی یہ شرح دنیا کے دیگر معاشروں سے مختلف نہیں ہے لیکن آپس میں رشتے داریوں میں جڑے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کے لئے ایسی خبریں ہمیشہ پریشان کن ہوتی ہیں۔ یہاں خودکشی کے ہر واقع کے بعد لوگ پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔ لوگ اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خودکشیوں کے اس سلسلے کو روکا جانا چاہیے۔

خودکشیوں کے ان واقعات سے متعلق فکرمند ہونا، وجوہات معلوم کرنا اور ان کے تدارک کے لئے کام کرنا ضروری ہے مگر یہ سارا کام کسی خاص طریقے سے ہی ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے جو سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا خودکشی قرار دیا جانے والا واقع واقعی خودکشی ہے یا قتل؟ اس کے بعد کئی دیگر سوالات بھی ذہن میں آتے ہیں۔ اگر یہ خودکشی ہے تو اس کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟ کیا اس واقع میں اہل خانہ یا کسی اور کا کردار تو نہیں ہے؟ کیا یہ نفسیاتی بیماری کا نتیجہ ہے؟ اگر نفسیاتی یا ذہنی بیماری کا نتیجہ ہے تو وہ بیماری کب سے تھی اور کیا اس کے علاج کی کوئی کوشش کی گئی تھی؟

اگر خودکشی کا کوئی واقع درپردہ قتل ہے تو تفتیش کے ذریعہ ملزمان تک پہنچا جاسکتا ہے۔ اگر وہ واقعی خودکشی ہے تو ان وجوہات کو معلوم کرنا بھی کوئی ناممکن کام نہیں ہے۔ اس کے لئے صرف یہ ضروری ہے کہ ہر واقع پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ایسے واقعات کو مکمل روکا تو نہیں جاسکتا مگر ان کی شرح کم کی جا سکتی ہے۔ جس فرد میں خودکشی کے خیالات پائے جاتے ہیں وہ اگر خودکشی کے واقع سے پہلے ذہنی امراض پر کام کرنے والے ماہرین تک پہنچ جائے یا پہنچایا جائے تو اس کا علاج ممکن ہے مگر جس کی علامات ظاہر نہ ہوں اور وہ اندر سے خودکشی کرنے کا فیصلہ کر لے تو اس کو روکنا ممکن اس لئے نہیں ہے کیونکہ کسی کے دل کا حال دوسرے کو نہیں معلوم ہوتا اور نہ ہی لوگ یا اہل خانہ ہر وقت ایک دوسرے کی رکھوالی کر سکتے ہیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ خودکشی کرنے والا خفیہ طور پر اس کی مکمل تیاری کرتا ہے تاکہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ ایسے میں اس کو روکنا ممکن نہیں تاہم اہل خانہ، رشتہ داروں اور دوست احباب میں سے کوئی ایک سمجھدار فرد ہو تو وہ حرکات و سکنات سے یہ معلوم کر سکتا ہے کہ کوئی فرد خودکشی کے خیالات رکھتا ہے اور وہ کبھی خودکشی کر سکتا ہے۔ پھر ایسے فرد کی تکلیفیں اور مشکلات پر قابو پاکر یا کونسلنگ کے ذریعہ اس کو اس صورتحال سے نکلا جا سکتا ہے۔

خودکشی کو روکنا اتنا آسان ہوتا تو دنیا کے امیر ممالک یہ کام کر چکے ہوتے۔ یہ ایک پیچیدہ سماجی مسئلہ ہے یہ کسی ویکسین یا دوائی سے رکنے والا نہیں ہے۔ یہ مسئلہ انسانی سوچ سے تعلق رکھتا ہے اور انسانی سوچ کو سمجھنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ اگر خودکشی ایک فرد کا ذاتی فیصلہ ہے تو اس میں کسی اور کو سزا نہیں دی جا سکتی تاہم اگر اس میں بیرونی محرکات مثلاً تشدد، غیرت کے نام پر قتل، ذہنی اذیت دینا وغیرہ شامل ہے تو تفتیش کے ذریعہ ملزمان کی نشاندہی کر کے ان کو سزا دی جا سکتی ہے۔

خودکشی کے ہر واقع کی الگ الگ وجوہات ہوتی ہیں۔ ایسے ہر واقع کی اگر پولیس اور ذمہ دار اداروں کے ماہرین پر مشتمل ٹیم غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کرے تو اصل وجوہات معلوم ہو سکتی ہیں۔ ایسے واقعات میں سب سے پہلے ورثا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کرتے ہیں پھر اگر پوسٹ مارٹم ہو بھی جائے تو اگلے مرحلے میں اس کی رپورٹ اور پولیس انکوائری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے جی بی کی پچھلی حکومت نے ماہرین کی تجویز پر خودکشی کے ہر واقع کی شفاف تحقیقات لازمی قرار دیا تھا۔

جس پر اب اور آئندہ بھی سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ واقع کی اصل وجوہات معلوم ہو سکیں۔ غیر جانبدار انکوائری اور پوسٹ مارٹم کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم یہ ٹیم پولیس ڈیپارٹمنٹ سے اچھی شہرت اور تفتیش کے شعبہ میں مہارت رکھنے والا افسر ، ایک ماہر ڈاکٹر، ایک ماہر نفسیات، ایک قانون دان اور ایک سماجی سائنسدان پر مشتمل ہو۔ اگر خودکشی خاتون نے کی ہے تو ٹیم میں اکثریت خواتین ماہرین کی ہونی چاہیے تاکہ وہ ٹیم خودکشی کے واقع کے تمام پہلوں کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ تیار کر سکے جس کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

پوسٹ مارٹم کے دوران بھی غیر جانبدار اور ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم ہونی چاہیے جو کسی دباو میں آئے میں بغیر اصل حقائق سامنے لائیں اور ان ڈاکٹروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ گلگت بلتستان میں فرانزک لیب کا قیام بھی بہت ضروری ہے تاکہ موت کی وجوہات بروقت معلوم ہو سکیں۔ ان تمام مراحل سے گزر کر جو میڈیکو لیگل سرٹیفیکٹ جاری کیا جائے اسی کی بنیاد پر عدالت میں ملزمان کو سزاء دلائے جاسکے گی وگرنہ ہر قتل کو خودکشی کا نام دے کر اس پر پردہ ڈالنے کا عمل جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں خودکشی قرار دیا جانے والا ہر واقع خودکشی نہیں ہوتا ہے ان میں دس فیصد سے زائد واقعات غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد یا کسی اور وجہ سے قتل کے ہوتے ہیں۔ تاہم بعض خودکشیوں کے واقعات میں بیرونی وجوہات کم بلکہ اندرونی وجوہات یعنی ذہنی یا نفسیاتی امراض کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے خودکشی کے واقعات میں متاثرہ فرد کے اہل خانہ کو بھی انکوائری اور تفتیش کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کیونکہ اگر وہ خودکشی واقعی کسی ذہنی بیماری کی وجہ سے ہے تو وہ معلوم ہو سکے اور تمام شکوک و شبہات بھی دور ہو سکیں۔

میڈیا سے وابستہ حضرات بھی ایسے واقعات کو تحقیقات سے قبل خودکشی لکھنے کی بجائے پر اسرار موت لکھ دیں اور انکوائری کا مطالبہ کریں تو تحقیقات میں مدد مل سکتی ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں گوجال جیسی چھوٹی آبادی میں دو خودکشیوں کے واقعات لمحہ فکریہ ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ ایک مہینے میں گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں سے بھی خودکشیوں کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مئی اور جون کے مہینے میں کئی خودکشیاں ہوئی ہیں۔ جن میں زیادہ تر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس اہم مسئلہ پر غور و خوض اور اس کے انسداد کے لئے اپنی پالیسی مرتب کرے۔

نیز ہم بارہا یہ عرض کر چکے ہیں کہ گلگت بلتستان میں نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایک تفصیلی اور اعلی معیار کی گہری تحقیق کرانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ان وجوہات کے تدارک پر کام کیا جاسکے جن کی وجہ سے کئی خوبصورت نوجوان ایک خوشگوار زندگی گزارنے کی بجائے موت کو ترجیح دیتے ہیں اور خودکشی جیسے آخری اور خوفناک عمل کا مرتکب ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے