EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سب کو ’خوش ‘ کرنے والا بجٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے مالی سال 22۔2021 کے لئے 8487 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔  یہ بجٹ 3420 ارب روپےخسارہ پر مشتمل ہے کیوں کہ حکومتی اخراجات بدستور اس کی آمدنی اور ٹیکسوں میں ریکارڈ اضافے کے دعوؤں کے باوجود سے بہت زیادہ ہیں۔ اس خسارہ کو قرض لے کر پورا کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے نئے بجٹ کو سب کو خوش کرنے والاقرار دیا ہے جبکہ اپوزیشن اسے غریب دشمن بجٹ کہتی ہے۔ ان معنوں میں یہ بجٹ سب کو خوش کرے گا کہ حکومت اس کی تعریف میں بلند بانگ دعوے کرے گی اور اپوزیشن بجٹ کی کمزوریوں پر خوش ہوگی اور حکومت کو نشانہ بنائے گی۔ درحقیقت یہ عام سا بجٹ ہے جس میں کوئی انقلابی یا معیشت کو نیا موڑ دینے والا کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا۔ بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج بھی کیا۔ وزیر خزانہ نے اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کو ملک کے مالی بحران کا حقیقی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے۔ شوکت ترین نے بجٹ تقریر کا آغاز عمران خان سے احسان مندی کا اظہار کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ ان کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کررہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح حکومت نے معیشت کو سنبھالا اور ایک بار پھر روشن مستقبل کی طرف گامزن کردیا۔ تقریر کے دوران وزیر خزانہ وقتاً فوقتاً وزیر اعظم کی عظیم الشان قیادت کو خراج تحسین پیش کرنے سے نہیں چوکے جن کے بغیر ایسے ’انقلابی‘ فیصلے کرنا ممکن نہ ہوتا جو ملک کو مالی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہوئے۔

وزیر خزانہ کی پر جوش باتوں اور وزیر اعظم کے اس اعلان کے باوجود کہ ’بجٹ سے سب خوش ہوں گے‘ نہ تو اپوزیشن مطمئن ہے اور نہ ہی عوام کو بجٹ سے کوئی زیادہ توقع وابستہ کرنا چاہئے۔ پاکستانی قومی اسمبلی میں ایسی بجٹ تقاریر کی طویل تاریخ ہے جن میں بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن عوام کی حالت زار تبدیل ہونے کی نوبت نہیں آتی۔ اسی طرح اپوزیشن کا احتجاج اور یک طرفہ تنقید بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ جس بجٹ میں ایک تہائی اخراجات کو قرض لے کر پورا کرنے کی نوید دی جارہی ہو ، اس پر تنقید کرنے کے ہزار پہلو تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ اپوزیشن کی کوشش ہوتی ہے کہ بجٹ کو بنیاد بنا کر اپنا سیاسی پیغام لوگوں تک پہنچائے۔ بجٹ تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے ذریعے یہ کام کرنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی۔ آنے والے دنوں میں لیڈروں کی طرف سے مزید لفظی گولہ باری کی توقع کی جاسکتی ہے۔

لیکن اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ اپوزیشن اپنے بھاری بھر کم حجم اور حکمران اتحاد میں دراڑوں کی نشاندہی کے باوجود بجٹ کو نامنظور کروانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک پارلیمنٹ کی دونوں بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے اور دوسری یہ کہ اپوزیشن کی کوئی بھی جماعت دعوے کرنے کے باوجود حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی کوئی تحریک لانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ گو کہ بلاول بھٹو زرداری نے آج اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور بجٹ پر ’حکومت کو ٹف ٹائم‘ دینے پر اتفاق رائے کیا گیا ۔ لیکن یہ مقصد محض گرما گرم تقریروں سے ہی پورا کیا جائے گا۔ معاملہ اس سے آگے بڑھنے کا امکان نہیں ہے۔

ملک میں ’آئینی مزاحمت اور مصالحتی سیاست‘ کی جو فضا پہلے پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے اختلافات کی صورت میں اور پھرشہباز شریف کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد دیکھنے میں آرہی ہے ، اس میں احتجاج اور عوام کے حق انتخاب کے لئے ڈٹے رہنے کا سیاسی رویہ اب کمزور پڑ چکا ہے۔ تحریک انصاف کو اسی حکمت عملی سے اندیشہ تھا جو اب کسی حد تک ٹالا جاچکا ہے۔ دوسرا اندیشہ جہانگیر ترین گروپ کی مستعدی اور انتباہ کی صورت میں سامنے آیا تھا لیکن اس گروپ سے پارٹی کا وفادار رہنے کا وعدہ حاصل کرلیا گیا ہے۔ اور انصاف کا علم اٹھائے حکومت نے ناراض ارکان کو مطمئن و خوش کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں علاقہ پولیس افسران کے تبادلوں سے لے کر گزشتہ روز ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کو اچانک تبدیل کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔ واجد ضیا پاناما کیس تحقیقات کے لئے بننے والی مشترکہ کمیٹی کی سربراہی کے دوران نمایاں ہوئے تھے اور عمران خان نے اس کمیٹی میں ان کی قابل قدر خدمات کے پیش نظر ہی انہیں نومبر 2019 میں ایف آئی اے کا سربراہ بنایا تھا۔ تاہم اب شوگر مافیا کے خلاف تحقیقات کے دوران ممکنہ طور پر ان کی صلاحیتوں کے بارے میں شبہات نے جنم لیا ہوگا جس کی وجہ بجٹ اجلاس سے عین پہلے ان کو کسی ’بے ضرر‘ آسامی پر منتقل کرنا ضروری سمجھا گیا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے دعوے ضرور کئے ہیں لیکن اس میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالے دو ماہ سے بھی کم مدت ہوئی ہے۔ ان سے پہلے حماد اظہر کو دو ہفتے کے لئے وزیر خزانہ بنایا گیا تھا ۔ اس دوران شوکت ترین کی تجاویز اور صلاحیتوں سے متاثر ہوکر وزیر اعظم عمران خان نے حماد اظہر کی بجائے ترین کو یہ عہدہ سونپا تھا۔ جن معاشی حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر موجودہ بجٹ تیار کیا گیا اور جسے عمران خان کے ’ویژن اور تدبر‘ سے تعبیر کیا جارہا ہے، اس کی بنیاد اپریل 2019 سے مارچ 2021 تک پہلے مشیر اور پھر وزیر کے طور پر وزارت خزانہ کی نگرانی کرنے والے حفیظ شیخ نے رکھی تھی۔ انہی کی قیادت میں پاکستانی وفد نے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ موجودہ معاہدہ کیا تھا جس پر ملکی مالی پالیسی کی بنیاد استوار ہے۔ البتہ دو وجوہات کی بنا پر حفیظ شیخ کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا اور آج بجٹ پیش کرتے ہوئے ’کامیابیوں ‘ کا سہرا ان کی بجائے شوکت ترین نے اپنے سر باند ھ لیا۔ بجٹ تقریر کے دوران اپنے علاوہ انہوں نے صرف عمران خان کی قصیدہ گوئی ضروری سمجھی اور تحریک انصاف کی حکومت میں معاشی پالسیوں کی صورت بدلنے والے حفیظ شیخ کو یاد رکھنا اہم نہیں سمجھا۔

حفیظ شیخ کی حکومت سے علیحدگی کی پہلی وجہ سینیٹ انتخاب میں غیر متوقع ناکامی تھی جس کا عمران خان کو شدید صدمہ تھا ۔ انہوں نے اس کا اظہار بار بار کیا۔ بلکہ اسی ناکامی کی وجہ سے عمران خان کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ بھی لینا پڑا۔ تاہم ان کی حقیقی ناکامی ان کا یہ اصرار تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر پوری طرح عمل کیا جائے اور ملکی معیشت میں مصارف کم رکھتے ہوئے آمدنی بڑھانے کی حکمت عملی جاری رکھی جائے۔ اس پالیسی میں بجلی و گیس کے ٹیرف اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم حفیظ شیخ چونکہ ٹیکنوکریٹ ہیں ، اس لئے وہ عمران خان کی اس سیاسی مجبوری کو نہیں سمجھ سکے کہ حکومت میں تین سال گزارنے کے بعد اب کچھ ایسا جادو دکھانے کی ضرورت ہے جس سے عوام خوش ہوسکیں اور تحریک انصاف آئیندہ انتخابات میں جاتے ہوئے ان کی سہولت کے لئے کئے گئے اقدمات کا حوالہ دے سکے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام پر سختی سے عمل کرتے ہوئے یہ اہداف حاصل کرنا مشکل تھا اور حفیظ شیخ اس میں کسی تبدیلی کو اپنی ہی طے کردہ حکمت عملی کے لئے نقصان دہ سمجھتے تھے۔

شوکت ترین نے اخرجات میں اضافے کے ذریعے جی ڈی پی بڑھانے اور عوامی معیشت میں بہتری دکھانے کی امید دلائی ہے۔ اسی لئے آئی ایم ایف سے طے شدہ معاہدہ کے باوجود بجلی و گیس اور پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ سے گریز کیا جارہا ہے تاکہ مہنگائی کے بارے میں عام تاثر پر قابو پایا جاسکے ۔ اس کے ساتھ ہی ترقیاتی مصارف میں اضافہ کے ذریعے ملک میں روزگار پیدا کرنے کی کوشش کا منصوبہ بنایا گیاہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس طرح عوام مطمئن ہو سکیں گے اور مہنگائی کے خلاف اپوزیشن کا مؤقف بھی کمزور پڑے گا ۔ حالانکہ قومی بجٹ میں بھی مہنگائی کا اعتراف موجود ہے اور آئیندہ مالی سال کے دوران اس میں کسی خاص کمی کا وعدہ بھی نہیں کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے افراط زر کے پہلے سے مقرر کئے گئے ساڑھے چھ فیصد کے ہدف کی بجائے افراط زر کی شرح کا تخمینہ 8 اعشاریہ2 فیصد بتایا ہے۔ جو موجودہ دس فیصد سے بہت کم نہیں ہے۔

اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ جب ترقیاتی اخراجات میں 37 فیصد اضافہ کے بعد اس کی حد 2135 ارب روپے مقرر کی جائے گی تو معیشت میں وسائل آنے سے اجناس کی مانگ اور قیمتوں میں اضافہ فطری امر ہے۔ اسی لئے وزیر خزانہ کے علاوہ وزیر اطلاعات یہ دعوے کررہے ہیں کہ مہنگائی میں اضافہ ہؤا ہے تو لوگوں کی آمدنی بھی بڑھی ہے جسے عوام کی قوت خرید میں اضافہ قرار دے کر بہتری کا اشارہ کہا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ سب اعداد و شمار اور تخمینوں کا کورکھ دھندا ہے جن کا زمینی حقائق اور عوام کی معاشی حالت زار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کے علاوہ کم از کم آمدنی کی حد بیس ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ حکومت اگر اس فیصلہ پر عمل کروانے میں کامیاب ہوجاتی ہے اور قومی پیداوار میں حقیقی اضافہ نہ ہؤا تو اس کا اثر مہنگائی ہی کی صورت میں برآمد ہوگا۔ وزیر خزانہ اکنامک سروے میں اقرار کرچکے ہیں کہ ملک میں بیروزگاری میں اضافہ ہؤا ہے اور زرعی اجناس درآمد کرنے کی وجہ سے مقامی منڈیوں میں قیمتیں بڑھی ہیں۔

کسی مصنوعی طریقہ سے بیروزگاری میں کمی یعنی سرکاری وسائل پر انحصار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہؤا اور ملک میں زرعی و صنعتی پیداوار میں بڑھوتی سے عام لوگ معاشی طور سے خود مختار نہ ہوسکے تو ’احساس‘ کے نام سے جن منصوبوں کو معاشی فلاح کا نام دیا جا رہا ہے ، وہ ملکی معیشت کے پاؤں کی بیڑی بھی بن سکتے ہیں۔ آئیندہ بجٹ میں ٹیکسوں سے آمدنی کا تخمینہ 5800 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود یہ ہدف آئی ایم ایف کے ساتھ طے کی گئی حد سے کم ہے۔ یعنی آئی ایم ایف جن بنیادوں پر ملکی معیشت کی بحالی کا اندازہ قائم کرتی ہے، انہیں بھی کمزور کیا جا رہا ہے اور قومی آمدنی اور جی ڈی پی میں اضافہ کے لئے کوئی حقیقت پسندانہ اقدامات بھی تجویز نہیں کئے گئے۔

چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس کم کرکے یا بجلی سے چلنے والی کاروں کی پیداوار شروع کرنے جیسے منصوبوں سے نمو میں اضافہ قیاس کرنے سے سرکاری سوچ کی خام خیالی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ گویا غریب کا انحصار خیرات پر بڑھا کر متوسط طبقے کو رعایت دی جائے تاکہ معیشت میں چہل پہل شروع ہو۔  ایسے بجٹ پر حکومت کامیابی کے جھنڈے گاڑے گی تو اپوزیشن اس کے بخیے ادھیڑے گی۔ لیکن عوام بدستور بد حال اور مستقبل قریب میں ملک قرضوں کا محتاج رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1918 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے