فوج کیوں حکومت گرائے گی، وزیراعظم کی اصل پریشانی کیا ہے؟
وزیر اعظم پاکستان نے کچھ دن پہلے پھر سے حزب اختلاف پر الزام داغ دیا کہ اپوزیشن فوج کو میری حکومت گرانے کی دعوت دے رہی ہے، بلکہ وزیراعظم صاحب کا الزام کچھ یوں تھا کہ ”خود کو ڈیموکریٹک موومنٹ کہتے ہیں اور فوج کو کہہ رہے ہیں کہ میری حکومت گرا دو“ ۔
اگر دیکھا جائے تو یہ الزام صرف اپوزیشن پر نہیں، لیکن وزیراعظم حکومتی سربراہ ہونے کے ناتے اپنی فوج پر بھی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگا رہے ہیں، یہ کڑوا سچ اپوزیشن تو آئے دن بیان کرتی رہی ہے، لیکن جب وزیراعظم ایسی بات کر دیں تو پھر اس کی اہمیت اور حیثیت بڑھ جاتی ہے۔
وزیراعظم صاحب جو بات کر رہے ہیں اس پر یہ دو سوال اٹھتے ہیں کہ کیا وزیراعظم سوچ سمجھ کر ایسے بیانات دے رہے ہیں یا وزیراعظم کی زبان بالکل اسی طرح پھسل رہی ہے جس طرح اس سے پہلے ایران یا امریکہ میں پھسل گئی تھی؟
ایران میں جب وزیراعظم کی زبان پھسلی تو یہ جملے سننے کو ملے کہ ”پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی۔“ اس طرح امریکہ میں ہمارے وزیراعظم کی طرف سے ہمیں یہ بات سننے کو ملی کہ ”پاکستان نے طالبان کو پیدا کیا اور ان کی تربیت کی۔“
شکر ہے یہ زبان لاڈلے وزیراعظم عمران خان کی تھی، اگر یہ بات مسلم نواز یا پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کرتے، یا حزب اختلاف کی جماعت کے کسی سربراہ یا رکن سے گناہ سرزد ہوجاتا تو زبان تو حلق سے کھنچ ہی چکی ہوتی، لیکن پاکستانی تھانوں میں پرچے بھی درج ہو چکے ہوتے۔
پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وزیراعظم خان فوج اور اپوزیشن کو مل ملا کر جہ بیانات دے رہے ہیں اور وہ مکمل ہوش حواس اور اپنی عقلی شعوری حیثیت میں دے رہے ہیں تو پھر یقین جان لیجیے کہ وہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف ان کا نشانہ اپوزیشن ہے جبکہ دوسری طرف وہ اپنے ( اسٹبلشمنٹ نہیں ) سیاسی حامیوں، ساتھیوں اور مددگاروں کو ہوشیار کر رہے ہیں کہ فوج ان کا تختہ الٹ سکتی ہے، وہ پہلے سے ان کو سمجھا بجھا رہے ہیں کہ اگر کل کچھ بھی ہوا تو اسے فوج اور اپوزیشن کا گٹھ جوڑ یا ملی بھگت سمجھا جائے۔
لیکن عمران خان کی حکومت کوئی کیوں گرائے گا، ان کو حکومت میں لانے کا مقصد باقی سیاسی جماعتوں کی منجی ٹھوکنا، گندا سیاسی کلچر پیدا کرنا، مفاہمت، مشاورت کا تیا پانچہ کرنا، سیاسی عدم برداشت، گالم گلوچ، لڑائی جھگڑے، ہاتھا پائی، گریبان سے پکڑنا، مار دھاڑ اور آن ائر پروگرام میں تھپڑ رسید کرنے کا کلچر پیدا کرنا تھا، وہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے۔
جب ہم گڈمڈ سیاسی نظام اور اس میں غیر سیاسی و غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت کی بات کرتے ہیں تو پھر اس گناہ میں سیاسی جماعتیں بھی برابر کی شریک ہیں، اب سیاسی جماعتیں کی حد نگاہ راولپنڈی سے آگے جاتی نہیں، سیاسی قیادت نے خود کو دھند کا عادی بنا دیا ہے، اب سیاسی فکر، نظریہ یہاں تک کہ سیاسی منثور بھی گیٹ نمبر چار پر قربان۔ اب فکر، افکار، بحث مباحثے، عوام کے بھلے اور ملک کے مفادات کی بات اقتدار کی کرسی کے گرد گھوم کر ختم شدہ ہوجاتی ہے۔ سیاستدانوں کی نظریں راولپنڈی صدر سے کچھ فاصلے سے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی ہیں، پنڈی کی دعوتیں، وہاں کی بریفنگز، ہر کوئی دوڑ میں لگا ہے کہ مجھے کبھی بلایا جاتا ہے۔
بات وزیراعظم سے نکل کر کہیں اور چلی جاتی ہے ویسے وہاں جاتی ہے جہاں سے وزیراعظم برآمد ہوئے ہیں، یہاں اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم کس فرسٹریشن کا شکار ہو کر ایسی بیان بازی کرتے ہیں؟ کیا وہ اندر سے خوفزدہ ہیں؟ کیا ادارے ان کی پشت پناہی سے درگزر کر چکے اور اب ان کی پیٹھ پر دست شفقت نہیں رہا؟ کیا ان کے اپنے رفیق ان کے رقیب بن چکے؟ کیا ان کی جماعت میں کوئی بڑی دراڑ پڑنے والی ہے؟ کیا ان کے اتحادی ان سے زیادہ خفا ہیں؟
کیا اپوزیشن سے زیادہ ڈرے ہوئے ہیں؟ کیا ان کے وفادار ساتھی سچ مچ ناقابل اعتبار ساتھی بن چکے ہیں؟ یا حکومت کی ناقص کارکردگی ان کے لیے گڑھے کھود رہی ہے؟ کیا انہیں واقعے کوئی الٹیمیٹم دیا گیا ہے؟ کیا وزیراعظم روز کی ناکامیوں، اسکینڈلز، سیاسی بے وفائیوں یا اپوزیشن سے ڈیل کے بارے ملنے والی رپورٹس سے اکتا چکے ہیں؟
ان کو ایک سلیبرٹی، ایک جگ مشہور ہستی اور ماہر چندہ جات کی کوالیٹیز کے بنیاد پر لاکر وزیراعظم لگایا گیا، لانے والوں نے سمجھا اس چندے اکٹھے کرنے کے ماہر کے ذریعے اس ملک کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے اپنی ہر بات منواتے رہیں گے، آگے یہ ہوں گے باقی کنٹرول پیچھے والوں کے پاس ہو گا، سب کچھ ہوا لیکن وزیراعظم کی اپیلوں پر قومی خزانے نہیں بھرے جا سکے، سلیکٹرز نے ان کے سیاسی تجربہ کو دیکھا بھی نہیں لیکن ان کی کینسر ہسپتال، نمل یونیورسٹی اور کپتانی کے تجربے کو سامنے رکھ کر 22 کروڑ عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑا دیا، جس کا نتیجہ سب ہی بھگت رہے ہیں۔
پارلیمنٹ میں عددی اکثریت پورا نہ ہونے کا خوف، جہانگیر ترین فیکٹر کا بے قابو ہوتا ہوا جن، اب تو وزیراعظم یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ ترین کن کے ہاتھوں، کیوں اور کس کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، اور پھر خان کو نصیب میں ایسے اتحادی ملے جو ایک تالی کی مار ہیں، یہاں سے اڑے تو نیا بسیرا بنا لیں گے۔ سوال بجٹ کا بھی ہے، یہ بجٹ منظور ہو گا کہ نہیں ہو گا، کیوں کہ جہانگیر ترین کے دس بارہ بندے صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں چھپن چھپائی کا کھیل جاری ہے۔
اگر حکومت بجٹ منظور کروانے میں ناکام رہی تو اس کے پاس باقی دو سال رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچتا، ہاں یہ بات الگ ہے کہ یہاں اخلاقیات اور اصولوں کو اقتدار پر قربان کیا جاتا رہا ہے۔ اپنی ناکامیاں، ناقص کارکردگی، دست شفقت کا ڈھیلا پڑ جانا، حزب اختلاف سے ڈیل کی خبریں، اسکینڈلز پر اسکینڈلز، پنی جماعتوں کے حر بنے ممبران اور ناقابل اعتبار اتحادیوں کے رویوں نے وزیراعظم کو پریشان کر کے رکھ دیا اس میں اگر وہ ایسے بیانات نہیں دیں گے تو اور کیا کریں گے؟


