EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ڈاکٹر فلک شیر خان بلوچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ برس آج ہی کے دن یعنی 13 جون کو ڈاکٹر فلک شیر خان اپنے چاہنے والوں کو دل شکستہ چھوڑ کر اس جہان فانی سے رحلت فرما گئے تھے۔ ان کے عرصہ زیست کے دوران ہمیشہ ان کی کوشش رہی کہ مخلوق خدا کو خوش رکھیں اور ان کے لئے کسی نہ کسی طور ان کے کاموں میں سہولت پیدا کرتے رہیں۔ ان کے ساتھ جس کا بھی کوئی تعلق واسطہ رہا اس کے دل کی گہرائیوں سے ڈاکٹر صاحب کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے دعا نکلتی ہے۔

نشتر میڈیکل کالج ہسپتال میں ہاؤس جاب کے زمانے میں میرے رجسٹرار ڈاکٹر افضل قمر اکثر اپنے ایک دوست کا ذکر کیا کرتے تھے جو ان کا کلاس فیلو بھی تھا۔ یوں مجھے ان کے دوست کا اچھا خاصہ غائبانہ تعارف ہو چکا تھا۔ ایک روز قدرے فرصت تھی ڈاکٹر افضل قمر کہنے لگے چلو تمہیں اپنے دوست سے ملواتا ہوں۔ کچھ دیر بعد ایک صاحب ہمارے وارڈ میں تشریف لائے۔ آنے والے صاحب درمیانے قد کے، بھرا ہوا مسکراتا چہرہ اور سر پر گھنے بال تھے۔

افضل قمر کہنے لگے ان سے ملیں یہ ہیں ڈاکٹر فلک شیر۔ ڈاکٹر صاحب بڑی گرم جوشی سے ملے۔ ہم تینوں آفس میں بیٹھے گپ شپ کرنے لگے۔ ڈاکٹر فلک شیر کی شخصیت اتنی جاذب تھی کہ پہلی ملاقات میں ہی لوگ ان کے گرویدہ ہو جاتے۔ ان کی گفتگو اتنی دلچسپ ہوتی کہ مخاطب چاہتا کہ سنتا ہی جائے۔ لہجے میں بے ساختگی اور بذلہ سنجی ایسی کہ سننے کو جی چاہے۔ دوران گفتگو چھوٹے چھوٹے چٹکلے بھی سناتے۔ چائے کا دور ختم ہوا تو محفل برخواست ہوئی۔ ملاقات کے اختتام پر لگا کہ ڈاکٹر فلک شیر میرے پرانے دوست ہیں۔

اس کے بعد کی ہر ملاقات میں ہم تینوں اکٹھے ہوتے اور ڈاکٹر فلک شیر کی شخصیت کے دلچسپ، متاثر کن اور قابل تقلید پہلووں سے روشناس ہوتے گئے۔ اس کے بعد ہماری ملاقات ہر روز ہوا کرتی۔ اکثر ہم کھانا ایک ساتھ کھانے کا اہتمام کرتے۔ ہمارے مشاغل و تفریح اکٹھے ہوتی اور فراغت کا تمام تر وقت ایک ساتھ گزرتا۔ میں اور ڈاکٹر افضل قمر انہیں فلکو کہہ کر پکارتے تھے۔ جب کبھی تعطیلات کے موقعہ پر میں راولپنڈی آتا تو واپسی پر والہانہ استقبال کرتے اور سب سے پہلے مجھ سے روداد سفر سننے کی فرمائش کرتے۔

ہماری ملاقاتوں کے دوران باہمی گپ شپ کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کسی کا کوئی کام یا مسئلے کا ذکر کرتے کہ انھیں فلاں کام کرنا ہے۔ شروع شروع میں تو ہم مذاق کرتے کہ انہوں نے ہر شخص کے کام کی ذمہ داری کیونکر اٹھا رکھی ہے اور اس کے لئے ہلکان ہوتے جا رہے ہیں لیکن بعد میں ایک وقت آیا کہ ہم بھی ان کے کاموں کی تکمیل کے لئے حتی المقدور حصہ ڈالنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں اخلاص کی صفت مثالی تھی۔ انتہائی مخلص دوست ہونے کے علاوہ اپنے ہر رشتے کے ساتھ مخلص تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بنا کسی رشتہ کے وہ ہر ایک سے مخلص تھے۔ اگر کوئی انجان شخص بھی کسی کام کا بتاتا تو تندہی سے اسے کرتے اور جب تک کام ہو نہ جاتا چین سے نہ بیٹھتے۔ بسا اوقات کسی کے کام کی انجام دہی میں اپنا نقصان بھی کروا لیتے۔

دوستوں کے دلدادہ تھے۔ اور اپنے پیارے دوستوں سے ہمیں ضرور ملواتے۔ دوستوں کا دوست یا کوئی جاننے والا اگر آ جاتا تو تپاک سے ملتے اور اگر کوئی کام یا فرمائش ہوتی تو کبھی مایوس نہ کرتے۔ زندگی کے ہر پہلو سے لطف اندوز ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ دوستوں کی محفلوں اور سیر و تفریح کے پروگرام میں ہمیشہ بھر پور شرکت کرتے۔ بعض اوقات تو احساس ہوتا کہ ان کا مقصد حیات ہی دوستوں اور تعلق داروں کو خوش رکھنا تھا ان کی مدد کر کے یا ان کی غمی اور خوشیوں میں شریک ہو کر یا کسی بھی معاملے میں ان کی دلجوئی کر کے۔ کسی کی کوئی خوبی عیاں ہوتی تو تحسین سے نوازتے۔

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دوستی کے علاوہ ایک اور رشتہ بھی بنا۔ وہ میرے بہنوئی بھی تھے۔ اگرچہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہر تعلق کو اچھا نبھایا تاہم دوستی کے رشتہ کو انہوں نے ہمیشہ مقدم رکھا۔ وقت کا پہیہ چلتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب تین سال کے لئے الجیریا چلے گئے اور تقریباً اسی دوران مجھے تین سال کے لئے نائیجیریا جانے کا اتفاق ہوا۔ ڈاکٹر صاحب سے خط و کتابت ہوتی رہی کہ رابطے کا یہی ایک واحد ذریعہ تھا۔ خطوط میں اکثر مجھے الجیریا آنے کا لکھتے۔ ان کی پر خلوص دعوت نے اثر دکھایا اور الجیریا میں بھی ہماری یادگار اور دلچسپ ملاقات ہوئی جس کا تفصیلاً تذکرہ میں قبل ازیں کسی تحریر میں کر چکا ہوں۔ وہاں میرا قیام ہفتہ بھر رہا اور مجھے جان کر خوشی ہوئی کہ وہاں کے مقامی لوگ بھی ڈاکٹر صاحب کے معتقد تھے۔

الجیریا سے واپس آنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے چند برس لاہور میں قیام کیا اور آخر میں تقریباً تیس سال خان پور کٹورہ میں بچوں کا ہسپتال بنا کر خدمت کرتے رہے۔ انہی خدمات کے دوران وہ کوڈ۔ 19 میں مبتلا ہوئے اور وبا کے دوران خدمات کی انجام دہی کے اولین شہیدوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ان کو اپنے جوار رحمت میں رکھے، ان کے درجات بلند کرے اور لا زوال نعمتوں سے سر فراز فرمائے۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے