EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

’بابا کا دھابہ‘ کے کانتا پرساد چھ ماہ بعد ہی ریستوراں بند کر کے واپس دلی کے دھابے پر

زویا متین - بی بی سی دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کانتا پرساد

Getty Images
گزشتہ برس کانتا پرساد کی وائرل ویڈیو کے بعد انکا ڈھابہ مشہور ہو گیا تھا

کانتا پرساد کی زندگی جہاں سے چلی تھی وہیں پر واپس آگئی ہے۔

دلی میں سڑک کنارے چھوٹا سا ڈھابہ چلانے والے 80 سالہ کانتا پرساد جنکی وائرل ویڈیو نے ان کی قسمت بدل کر رکھ دی تھی اور انھوں نے اسی علاقے میں ایک ریستوراں کھولا تھا، محض چھ ماہ بعد دلی میں سڑک کے کنارے اپنے ڈھابے پر واپس پہنچ گئے ہیں۔آخر یہ سب کیسے ہوا؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے جہاں سے شروع کیا تھا واپس وہیں نہیں آئے، ہم ہمیشہ سے یہیں تھے۔‘

مسٹر پرساد کا فوڈ سٹال، بابا کا ڈھابہ، اکتوبر 2020 میں ایک بلاگر کی جانب سے ان کی ویڈیو شائع ہونے کے بعد جس میں وہ کورونا کی وبا کے بعد کام نہ ہونے کے سبب روتے دکھائی دے رہے تھے، میڈیا اور سوشل میڈیا میں مشہور ہو گیا تھا۔

ویڈیو میں بابا نے پرنم آنکھوں سے اپنے ڈھابے کا کھانا دکھایا تھا جو انھوں نے دن بھر کے لیے تیار کیا تھا اور وبا کے سبب فروخت نہیں ہو رہا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ دن میں کتنا کما لیتے ہیں تو وہ دس روپے کے چند نوٹ دکھا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

انکا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے بعد سے زندگی پہلے جیسی نہیں رہی۔ ان کی اس ویڈیو نے انھیں اور ان کی بیوی بیما دیوی کو راتوں رات شہرت دلوائی اور انڈیا کے بالی ووڈ اور کرکٹ سٹارز سمیت کئی مشہور شخصیات ان کی اس کہانی سے متاثر ہوئیں اور لوگوں نے ان کے ڈھابے پر آنا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ان کی مدد کی گئی۔

کانتا پرساد

Getty Images
کانتا پرساد گھر کا بنا ہوا کھانا فروخت کرتے ہیں

مسٹر پرساد اور ان کی اہلیہ نے 1990 میں بابا کا ڈھبہ کھولا تھا۔

اس ڈھابے پر یہ دونوں گھر کا بنا تازہ کھانا لے کر آتے۔ اس کھانے میں پراٹھا اور ایک خاص طرح کی گول بریڈ ہوتی جو انڈیا میں خاصی مشہور ہے، اور اس کے ساتھ سالن، دال چاول اور دال سے بنا سوپ شامل ہوتا۔ بابا کے ڈھابہ سے کوئی بھی 50 روپے سے کم میں بھی پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتا ہے۔

انڈیا میں سٹریٹ فوڈ بہت مقبول ہے۔ مگر کورونا وائرس نے اس کاروبار کو بری طرح متاثر کیا اور کانتا پرساد اور ان جیسے بہت سے لوگوں کو اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور کر دیا۔

بابا کا ڈھابہ اس وقت مشہور ہو گیا جب ایک فوڈ بلاگر گوراو واسان نے انسٹا گرام پر کانتا پرساد کا ایک کلپ شیئر کیا جو وائرل ہو گیا۔ لوگوں نے اس ویڈیو پر گوراو واسان کی بھی تعریف کی جنھوں نے کانتا پرساد کی دکھ بھری داستان لوگوں تک پہنچائی۔

یہ بھی پڑھیئے

ایک ویڈیو پیغام جس نے 80 سال کے ’ پرساد بابا‘ کے کاروبار کو چار چاند لگا دیے

دلی میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز، صحت کا نظام مفلوج

لیکن کانتا پرساد نے گوراو پر الزام لگایا کہ انھوں نے ان کے لیے ملنے والے فنڈز میں گڑ بڑ کی ہے یہاں تک کے گوراو کے خلاف پولیس میں شکایت تک درج کروائی۔

کانتا پرساد کا کہنا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی تھی۔ گوراو واسان بھی کہتے ہیں کہ وہ سب بھول کر آگے بڑھ چکے ہیں۔

پرساد بابا کی یہ ویڈیو چار ملین سے بھی زیادہ بار دیکھی گئی۔ انکا ڈھابہ اتنا مشہور ہوا کے وہاں گاہکوں کی قطاروں کے ساتھ میڈیا اور کیمرے بھی نظر آنے لگے۔ کانتا پرساد کے انٹرویو ہونے لگے اور پورے ملک سے لوگوں نے دل کھول کر انھیں عطیات دینا شروع کیے۔

مدد میں ملنے والی رقم سے کانتا پرساد نے اپنے قرضے ادا کیے، اپنے بوسیدہ گھر کی مرمت کروائی اور آٹھ لوگوں کے اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کے لائق بنے۔

دسمبر میں انھوں نے باقاعدہ ایک شیف اور دو ویٹروں کو لیکر ریستوراں کھولنے کا فیصلہ کیا لیکن شروع میں ملنے والی شہرت کے باوجود بھی ان کا یہ ریستوراں نہیں چل سکا اور کچھ ہی مہینوں بعد بند ہو گیا۔

کانتا پرساد

Getty Images
کانتا پرساد نے ریستوراں شروع کیا تھا جو کامیاب نہ ہو سکا

انکا کہنا تھا کہ اس ریستوراں میں انکا خرچہ ایک لاکھ ماہانہ تھا جبکہ کمائی چالیس ہزار سے زیادہ نہیں ہو سکی۔

کورونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر کی معیشتوں پر منفی اثرات ڈالے ہیں اور کمزور لوگوں کو مزید غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے لیکن انڈیا میں معاشی بدحالی نے کانتا پرساد جیسے چھوٹے کاروباریوں کو تباہ کر دیا ہے۔

’سینٹر فار مانیٹرِنگ انڈین اکانمی‘ کے مطابق کورونا کی دوسری تباہ کن لہر کے بعد انڈیا میں تقریباً سترہ ملین لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں جن میں چھوٹے کاروباری اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے لوگ شامل ہیں۔

پرساد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ریستوراں کے خرچے بہت زیادہ تھے پینتیس ہزار روپے کرایہ جاتا تھا، 36 ہزار روپے سٹاف کی تنخواہ۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں ریستوراں کبھی نہ کھولتا اور سے مجھے شدید مالی نقصان ہوا ہے۔‘

پرساد نے فروری میں اپنا یہ ریسٹوراں بند کر دیا اور مئی میں اپنے اس ڈھابے پر واپس آگئے۔

انڈیا میں کووڈ کے کیسز میں کمی آ رہی ہے اور مختلف ریاستیں پابندیوں میں نرمی کر رہی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر احتیاط نہیں برتی گئی تو یہ تیسری لہر سے پہلے کی خاموشی ہو سکتی ہے۔

اس تمام غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود پرساد کا کہنا ہے کہ ریستوراں بند کرنے کا ان کا فیصلہ درست تھا۔ انکا کہنا ہے کہ اب انکے حالات بہتر ہیں اور وہ دن بھر کا تیرہ چودہ سو روپے کما لیتے ہیں۔

حالانکہ مشہور ہونے کے بعد ان کی کمائی اس ڈھابے پر اس سے بہت زیادہ ہو گئی تھی تاہم ان کا کہنا ہے کہ جو بھی آمدنی ہے ان کے لیےکافی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’لوگ جاننا چاہتے ہوں گے کہ انھوں نے ہمیں جو پیسے دیے اس کا کہا ہوا۔ ہم نے کچھ رقم اپنے گھر کی مرمت میں لگائی، کچھ ریستوراں پر اور کچھ ہم نے اپنے مستقبل کے لیے محفوظ کر رکھی ہے۔‘

’ہم جہاں ہیں خوش اور مطمئن ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20037 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp