اب تو وہ ٹرین بھی نہیں گزرتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں جب تفکرات زمانہ کی سدھ بدھ نہ تھی، جب ہم اپنے عہد بچپن میں تھے، تب ٹرین کے صرف ایک دیدار کے واسطے بڑوں کو دیوانہ وار منت سماجت کرتے۔ ٹرین کی میلوں دور سنائی دینے والی سیٹی سننے کو کان ہر وقت چوکس رہا کرتے، لیکن اب میں سوچتا ہوں کہ شاید نئی نسل اس ٹرین کا تصور بھی نہ کرسکے۔

میں اکثر اوقات ٹرین کی پٹڑی کو دیکھتا تھا تو سوچ کے ایک لامتناہی سمندر میں غوطہ زن ہوجاتا۔ سوچتا تھا، پوچھتا تھا، جاننے کی تگ و دو میں رہتا کہ یہ بنانے والوں نے بنائی کیسے، کب بنائی، کتنا وقت لگا ہوگا اسے بنانے میں، یہ کہاں ختم ہوتی ہے، کہیں اختتام پذیر بھی ہوتی ہوگی یا نہیں۔ اگر اسی پٹڑی پر ہم سیدھا سیدھا چلیں تو کیا ٹرین کے آخری سرے کو پہنچ پائیں گے۔

میں سوچتا تھا کہ تھر کے صحراؤں کو یہ ٹرین کیسے عبور کرتی ہے، تھر کی آگ اگلتی ریت سے یہ ٹرین کیسے گزرتی ہے۔ برف پوش علاقوں کو چیر کر کیسے آگے بڑھتی ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کا سامنا کیسے کرتی ہے۔ ویران جگہوں سے اسے گزرتے ڈر نہیں لگتی، کہیں کسی بھاؤ سے اس کا سامنا ہو جائے تو۔

ریلوے کے اب بوڑھے، کمزور اور ناتواں کھڑے کوارٹرز کو جب میں دیکھتا ہوں، تو گویا ماضی سے دوبدو ہوجاتا ہوں۔ کسی زمانے میں ان کوارٹرز میں بھی کوئی بابو لوگ لوگ رہتے ہوں گے ۔ جو اپنی ڈیوٹی کے وقت ان کوارٹرز کو تالا لگا کر جاتے ہوں گے ۔ بارش، گرمی، سردی، آندھی، طوفان، ہر موسم اور ہر وقت یہ اپنا فریضہ بخوبی نبھاتے ہوں گے ۔ جب بارش پڑے تب یہ منظر آنکھوں کے گرد گھیرا ڈال بیٹھ جاتا ہے کہ کوئی ریلوے ملازم اپنے کوارٹر کو تالا لگا کر، جسم کو رین کوٹ سے ڈھانپ کر، ایک ہاتھ میں سر کے اوپر سے چھتری تھامے، دوسرے ہاتھ میں ٹارچ لائٹ پکڑے، کیچڑ سے بچ بچاتا، اپنی ڈیوٹی پر وقت پر پہنچنے کے لئے جلدی میں جا رہا ہے۔ لیکن، یہ سب تصورات بھی اب گویا قصۂ ماضی لگتے ہیں۔

یہ سوچ کر دل مغموم ہوجاتا ہے کہ اب تو نہ وہ ٹرین گزرتی ہے، نہ وہ سیٹی کانوں کو سرور بخشنے کے لئے بجتی ہے اور پٹڑیاں تو اکثر بد نظروں کی نذر ہو گئیں باقی جو بچی کچھی ہیں وہ بھی ان کی آنکھوں میں اٹکی ہوئی ہیں۔

ہم نے جب سے ہوش سنبھالا تب سے ریل کے سفر کو ہمیشہ خوبصورت سوچا اور سمجھا۔ ریل تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، ڈبے کی کھڑکی میں سے تیزی سے کھیت کھلیان گزرتے دکھائی دے رہے ہیں، کہیں کوئی مویشی چراگاہ میں بھوک مٹا رہی ہے، کہیں کسان کھیتوں میں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے سپنے سانجھے دکھائی دے رہا ہے، کہیں دریاء، ندیاں، جھیلیں، ریلوے کی پٹڑیوں کے نیچے سے بہ رہی ہیں، اس وقت اکثر ایسا محسوس ہوتا جیسے ہم پانی کو چیر کر کسی نہیں دنیا میں داخل ہوجائیں گے۔ لیکن، نئی نسل کے لئے اب یہ تخیلات بھی کہاں۔

اداس اسٹیشنز آج بھی یادوں کے دریچے میں سپنوں کی سابھیانی کے لئے جاتے ہوئے کسی بیٹے، کسی سانجھے کو خدا حافظ کہنے اسے الوداع کرنے کی علامت کے طور پر محفوظ ہیں۔ یہ اسٹیشنز محض اداس اور ویران کوٹھیاں ہی نہیں، یہ اپنے آپ میں دور ماضی کی پوری داستانیں و قصے ہیں۔

ریلوے اسٹیشنز پر لگے بڑے بڑے نیم کے درخت بھی کسی شریف انسان کی بھوک کے بھینٹ چڑھ گئے

اب بچے کچھے درخت بھی مایوس ہیں، وہیں درخت کے سائے میں لگے چائے کے کھوکھے بھی اداس ہیں۔ کھوکھے پر ایک ریڈیو بجا کرتا تھا لیکن، اب تو وہ اس کی بھی آواز نہیں آتی، شاید زمانے اور لوگوں کے ستم میں وہ ریڈیو بھی مفقود ہو چکا۔ اسی، کھوکھے پر سیاست، سماج اور اکثر اوقات شوبز پر بھی بات ہوا کرتی تھی لیکن وہ بات کرنے والے بھی اب وہاں نہیں آتے۔ ٹرین کی کھڑکی سے اشارہ دے کر آب تو کوئی چائے کا آرڈر بھی نہیں دیتا۔ اب کوئی قلی بھی تو نہیں دکھائی دیتا۔ درختوں کو سائے میں بالکل اسٹیشن کی زبوں حال عمارت کے عین سامنے اب تو وہاں پتھر کی سلیں بھی نہیں۔ وہ، ٹرین کا وقت معلوم کرنے کے لئے بھی کوئی نہیں آتا۔ شاید، اسی لئے کیونکہ اب تو ٹرین بھی نہیں گزرتی نا۔

یہ تحریر لکھنے کا اتفاق کچھ ایسے ہوا کہ ہم نے گئے دن اکثر سفر سندھ میں نظام ریلوے کی بودہ پڑی پٹڑی، کھنڈرات نما اسٹیشنز کے پاس ہی سے کیا۔ یہ وہی ریلوے لائنز ہیں جس پر چلتی ہوئی ٹرینیں (بقول مقامی لوگوں کے ) اکثر مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہوتی تھیں۔ لیکن پھر حکومت نے بغیر وجہ بتائے اکثر 90 کی دہائی میں اور کچھ ابھی وبائی دنوں میں بند کردیں جو تاحال بحال نہیں ہو سکیں اور لگتا تو یہی ہے کہ اب یہ ٹرین پھر سے کبھی بحال ہوگی بھی نہیں۔

ایک وجہ جو ہمارے نزدیک معقول دکھائی دیتی ہے وہ تو یہ ہے کہ اکثر لوگ بغیر ٹکٹ خریدے ہی ان ٹرینوں میں دوڑ چڑھتے۔ لیکن، لوگوں کو ٹکٹ لینے پر آمادہ کرنا بھی تو انتظامیہ اور حکومت ہی کا کام ہے۔ کیوں حکومت اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہوئی۔ کیوں ان لوگوں کو سستے اور آسودہ سے سفر سے محروم کیا جا رہا ہے۔

سندھ کے ویران ریلوے اسٹیشنز، کھنڈرات بنے ریلوے کوارٹرز اور زبوں حال ریلوے لائنز دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے جیسے اس علاقے کو دانستہ ریلوے نظام سے محروم کیا جا رہا ہے۔

ہمیں تو پرلطف زندگی جینے کے لئے محض گلزار کی نظمیں اور ٹرین کا سہانا سفر ہی درکار ہے۔ لیکن، اب تو وہ ٹرین بھی نہیں گزرتی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments