مفاہمت کی سیاست


مریم نواز شریف آج کل قدرے خاموش ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف آج کل پارلیمانی سیاست میں خاصے ایکٹو نظر آ رہے ہیں۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں خصوصاً پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ بگڑے تعلقات کو ایک بار پھر سے بہتر کر رہے ہیں جو پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے ٹوٹتے ساتھ ہی خراب ہو گئے تھے اور حالات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شہباز شریف صاحب نے پیپلز پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو منانے کے ساتھ ساتھ اے این پی کے ناراض رہنماؤں کو بھی منا لیا ہے۔

31 مئی 2018 کو مسلم لیگ نون کی حکومت ختم ہونے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے مسلم لیگ نون کا طرز سیاست بہت دلچسپ رہا ہے۔ ایک طرف میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف جارحانہ سیاست کرتے ہیں اور دوسری طرف میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف مفاہمت کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ جب مریم نواز ٹویٹر پر ایکٹو اور جلسوں میں شرکت کرتی ہیں تو وہ جارحانہ ٹویٹس اور جارحانہ تقاریر کرتی ہیں میاں نواز شریف اداروں کے خلاف جارحانہ اور سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اس دوران میاں شہباز شریف خاموش ہو جاتے ہیں۔

اور جب میاں شہباز شریف سیاست میں ایکٹو ہوتے ہیں تو میاں نواز شریف اور مریم نواز خاموش ہو جاتے ہیں آج کل بھی کچھ ایسی ہی صورتحال چل رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب پی ڈی ایم متحد تھی مسلم لیگ نون کی طرف سے مریم نواز شریف پارٹی کو فرنٹ سے لیڈ کر رہی تھیں جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری فرنٹ سے لیڈ کر رہے تھے۔

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر منتخب کروانے میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ نون نے پارلیمنٹ میں ایک بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن پی ڈی ایم میں یوسف رضا گیلانی کی بطور چیئرمین، سینٹ کے الیکشن میں پراسرار شکست کے بعد بداعتمادی کی فضا پیدا ہو گئی۔ اور اس کے بعد پی ڈی ایم کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس کے اختتام پر پی ڈیم ایم کا شیرازہ بکھر گیا۔ اور مولانا جو پی ڈیم ایم کے سربراہ تھے ناراض ہو کر گھر چلے گئے۔

کچھ ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے حالات اس وقت خراب ہوئے جب بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ نون کے رہنما اور شہباز شریف کے صاحبزادے میاں حمزہ شہباز شریف سے ملنے ان کے گھر گئے۔ ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مریم نواز شریف کو بلاول کا الگ سے حمزہ شہباز شریف سے ملنا ناگوار گزرا۔

لیکن میری ناقص رائے میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ میاں شہباز شریف ہوں یا مریم نواز یا پھر حمزہ شہباز و دیگر لیگی رہنما۔ سب میاں نواز شریف کی ہدایات پر ہی من و عن عمل کرتے ہیں۔

رہی بات مسلم لیگ نون کے بیانیے کی۔ وہ سیاست اب تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکی یہاں تک کہ مسلم لیگ نون کے اکثر رہنما بھی میاں نواز شریف، مریم نواز اور میاں شہباز شریف کی طرز سیاست کو سمجھ نہیں پار رہے۔ وہ اس وقت کنفیوز ہیں کہ انھوں نے میاں نواز شریف اور مریم نواز کے بیانیے کو لے کر آگے چلنا ہے یا پھر پارٹی صدر میاں شہباز شریف کی مفاہمتی سیاست کی پالیسی پر عمل کرنا ہے۔

خیر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف صاحب کا ان حالات میں طرز سیاست جیسا بھی ہو۔ مقصد صرف ایک ہے کہ کسی نہ کسی طرح مشکلات سے نکل کر اپنے اوپر لگے الزامات اور سیاسی مقدمات ختم کروائے جائیں اور پارٹی کوایک بار پھر مضبوط بنا کر سیاست کی جائے خواہ اس مقصد کے لیے گڈ کاپ یا بیڈ کاپ کا فارمولا ہی کیوں نہ اپلائی کیا جائے۔

دوسری طرف اگر پیپلز پارٹی کی طرز سیاست پر نظر ڈالی جائے تووہ ایسا تاثر دیتی نظر آ رہی ہے کہ وہ میاں نواز شریف اور مریم نواز سے ناراض اور میاں شہباز شریف کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے۔ اور میاں شہباز شریف سے بات چیت کے ذریعے آئندہ کی مشترکہ سیاسی حکمت عملی بنانے کی خواہاں ہے جبکہ اے این پی بھی اس معاملے میں برابر کی شریک ہے۔

میری رائے میں مسلم لیگ نون اور مولانا فضل الرحمان کو پیپلز پارٹی اور اے این پی سے علیحدگی اختیار نہیں کرنی چاہیے تھی اور زرداری صاحب کی موجودہ حالات کے تناظر میں رائے کو اہمیت دینی چاہیے تھی۔ خیر جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب پرانی باتوں کو درگزر کر دینا چاہیے۔

مسلم لیگ نون کو چاہیے کہ تمام جماعتوں کو پھر سے متحد کرے اور پی ڈیم ایم جہاں سے ٹوٹی وہیں سے اسے دوبارہ بحال کیا جائے۔ مسلم لیگ نون اور جے یو آئی ایف کا پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی سے پی ڈی ایم میں دوبارہ شامل ہونے سے پہلے معافی مانگنے کی شرط رکھنا ایک ناجائز مطالبہ ہے۔

تمام اپوزیشن جماعتوں کو آپس کے اختلافات بھلا کر عوام کے لیے دوبارہ اکٹھا ہونا چاہیے۔ اسی میں تمام اپوزیشن جماعتوں کی بقا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا مقصد اپنے لیے بہترین ڈیل حاصل کرنے کی بجائے غریب عوام کے مسائل کا حل ہونا چاہیے۔ اور غریب عوام کا کیس اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں متحد ہو کر لڑنا چاہیے۔ حکومت سے عوامی مسائل پر بات کرنی چاہیے اور حکومت سے عوامی مسائل حل کروانے چاہئیں۔ ورنہ عوام بہت سمجھدار ہیں۔

 

Facebook Comments HS

منصور احمد قریشی

Mansoor Ahmed Qureshi is an independent journalist, columnist, blogger, researcher and content writer. He writes about politics, international affairs and social issues.

mansoor-ahmed-qureshi has 7 posts and counting.See all posts by mansoor-ahmed-qureshi