EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بے حیا سی لڑکی اور دین دار سا داڑھی والا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس لڑکی نے کبھی دوپٹہ نہیں اوڑھا تھا۔ کبھی بولڈ مغربی لباس تو کبھی دیسی اسٹائل کے کپڑے۔ بال کھلے ہوتے تھے، میک اپ کی دلدادہ تھی۔ آتے جاتے لڑکوں سے مسکرا کر بات کر لیا کرتی تھی۔ کھلی طبعیت کی لڑکیوں یا لڑکوں کے قصے نہ بھی ہوں تو بنا لیے جاتے ہیں، زبانوں اور کانوں سے نکلی کہانیوں کا سفر جاری رہتا ہے، بلاوجہ لوگوں کو ان کے بارے میں باتیں کر کے سکون ملتا ہے، کہانیاں گڑھ کے مزہ آتا ہے۔

میں جب بھی کسی کے پاس کھڑا ہوتا، اس لڑکی کا ذکر آتے ہی مرد کیا خواتین بھی یہی کہتیں کہ وہ ”بے حیا“ سی لڑکی ہے، اس کا کیا ہے بھلا، اسے اچھے برے کی تمیز ہی کیا ہے، اپنی روایات بھول چکی ہے اور جن لوگوں کی تربیت نہیں ہوتی ایسی حرکتیں ہی کرتے ہیں۔

لیکن حیرت کی بات ہے کہ یہ ساری باتیں اس کے ظاہری حلیے کی وجہ سے ہوتی تھیں۔ اس لڑکی نے کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کیا تھا، کسی کی برائی نہیں کی تھی، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا لیکن ارد گرد کے سبھی ”نام نہاد اچھے مسلمان“ اسے برا سمجھتے تھے۔

اصل میں ہمارے معاشرے میں انسانوں کو پرکھنے اور جانچنے کا ایک عام سا طریقہ ان کا ظاہری حلیہ ہے یا دوسرا پیمانہ دین کا ہے۔ اگر ظاہری حلیہ اسلام سے مطابقت رکھتا ہے تو وہ شخص اندر سے چاہے، رشوت خور کیوں نہ ہو، اخلاق جتنے بھی برے کیوں نہ ہوں، ہیرا پھیری عروج پر کیوں نہ ہو، تنہائی میں چاہے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ ہی کیوں نہ بناتا ہو، ہمارے لیے وہ نیک اور قابل احترام ہی ٹھہرتا ہے۔ ہم اس کے ظاہری حلیے کی وجہ سے اسے دوسرے انسانوں پر ترجیح دینا شروع کر دیتے ہیں۔

دوسری طرف اگر کسی لڑکی یا لڑکے کا ظاہری حلیہ اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا، لڑکے کی صرف داڑھی نہیں ہے، لڑکی کے سر پر دوپٹہ نہیں ہے، تو اچھا انسان ہونے کے باوجود، تمام تر خوبیوں کے باوجود، دوسرے لوگوں کی مدد کرنے کے باوجود ہم اسے ”برا لڑکا یا بری لڑکی“ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، اس کی ٹھیک بات بھی ہمیں چبھتی ہے، تیر کی طرح لگتی ہے۔

تو اس لڑکی کے ساتھ بھی ایسا ہو رہا تھا۔ مجھے بھی بچپن سے ایسے ہی پیمانے سکھائے گئے تھے۔ ”برا کون ہے اور اچھا کون“ اس کے ظاہری پیمانے ویسے ہی تھے، جو مسجد سے لے کر گھر تک سب بتائے جاتے تھے۔

لیکن کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں، جو آپ کی زندگی میں ”اچھا یا برا“ جیسے الفاظ کے معنی ہی الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ اس لڑکی کا واقعہ بھی ان واقعات میں سے ایک تھا۔

ایک دن وہ ”بے حیا“ سی لڑکی میرے پاس آئی، اس دن وہ ایک بچے کی وجہ سے ایک عجیب سی تکلیف میں تھی۔ وہ پاکستان میں اس بیمار بچے تک جلد از پیسے پہنچانا چاہتی تھی۔ وہ اس بچے اور اس کے اہلخانہ کی حالت بیان کر رہی تھی کہ اس ”بے حیا“ سی لڑکی کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے اور نیچے جا گرے۔

میں سوچتا رہ گیا کہ دوسروں کا دکھ اور تکلیف محسوس کرنے والی اس ”بے حیا سی لڑکی“ کے یہ آنسو کسی ”دین دار کی ریا کاری کے آنسوؤں“ سے کس قدر مقدس ہوں گے؟

لیکن اس ”بے حیا“ سی لڑکی کے بارے میں باتیں مسلسل ہوتی رہیں۔ پھر ایک دن ایسے ہی چلتے چلتے ہماری ملاقات ہوئی تو وہ بڑے ہی آہستہ انداز میں بولی کہ امتیاز تم کسی کو بتانا نہیں، اپنے کسی جاننے والے سے پتا کرو، مجھے ایک قرآن اور جائے نماز چاہیے۔ میں نے اس ”بے حیا“ سی لڑکی کی طرف پہلے تو حیرانی سے دیکھا لیکن پھر کہا کہ ٹھیک ہے، میں پتا کرتا ہوں۔

جب تک وہ لڑکی یہاں رہی، میں نے نہیں دیکھا کہ اس لڑکی نے کسی کو تکلیف دی ہو یا دکھ پہنچایا ہو۔ لیکن دوسری طرف چند ”باکردار اور اچھے دوست“ ہیں۔ اب بھی وہ بات کر رہے ہوتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ وہ تو بہت ”بری اور بے حیا“ سی لڑکی تھی۔

میں یہی سوچتا رہتا ہوں کہ ہمیں اپنے اندر موجود کمیاں، کوتاہیاں، عیب اور نقص نظر کیوں نہیں آتے؟ ہم کیوں ہمیشہ دوسروں کو پرکھنے، جانچنے، دوسروں کو ”اچھا یا برا“ ہونے اور جہنم میں جانے کے سرٹیفیکیٹ بانٹتے رہتے ہیں۔ ہم کیوں وہ فیصلے کرنے پر تلے رہتے ہیں، جو خدا نے اپنے لیے مخصوص کر رکھے ہیں۔ ہم کیوں ظاہری حلیے کو دیکھتے ہی دوسروں کے بارے میں فیصلے صادر کرنا شروع کر دیتے ہیں؟

ایسے ہی ”اچھے اور برے“ ہونے کے میرے بت میٹرک میں بھی ٹوٹے تھے۔ ایک مخصوص جگہ پر کھڑے ہونے والے لڑکوں کو محلے میں ہر کوئی کہتا تھا کہ یہ بہت برے لڑکے ہیں۔ پھر ہم بھی آہستہ آہستہ انہیں برا ہی سمجھنے لگے، بے وجہ نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ پھر ایک وقت آیا کہ اس مخصوص جگہ پر میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔ جب بھی وہاں کھڑا ہوتا تھا تو یہی خیال آتا تھا کہ اب ہمیں بھی کہا جاتا ہو گا کہ یہ بہت برے لڑکے ہیں۔ اس دن سمجھ آیا کہ کسی کو ظاہری حلیے، ایک مخصوص جگہ پر کھڑے ہونے، داڑھی نہ رکھنے یا شیو وغیرہ کروانے پر برا سمجھ لینا کس قدر احمقانہ بات ہے۔

پھر مسجد اور محلے میں یہ بات کان میں پڑی کہ امیر لوگ بہت عیاش ہوتے ہیں۔ ان کا نیک یا اچھے انسان ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن یہ بت بھی جلد ہی ٹوٹ گیا۔ ایک مرتبہ دیکھا کہ سڑک پر ایک بوڑھا سائیکل سوار گرا ہے۔ ’غریب پارساؤں‘ میں سے کوئی اس کی مدد کے لیے نہیں آیا لیکن ایک شخص کار کھڑی کر کے اس کی مدد کے لیے لپکا ہے۔ مجھے اس دن احساس ہوا کہ امیر لوگ ایسے برے تو نہیں ہوتے، جیسا ہمیں بتایا گیا ہے۔

پھر ایک دن بس کی چھت پر بیٹھا سفر کر رہا تھا۔ میں نے ایک کار کی طرف دیکھا کہ ایک خاتون نے میک اپ کیا ہوا ہے، سن گلاسز لگائی ہوئی ہیں، فرنٹ سیٹ پر براجمان ہے لیکن جھولی میں قرآن رکھا ہوا ہے، وہ دنیا سے بے خبر تلاوت کر رہی ہے۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ مذہبی حلقوں اور گلی محلے میں سیکھے گئے ہمارے معیار اور لوگوں کو ظاہری حلیے سے جانچنے کے طریقے کس قدر ناقص ہیں! جن لوگوں کو ہم برا سمجھتے ہیں، وہ تو ہم سے کہیں زیادہ اچھے ہیں۔

پھر ایک دوسرا نظریہ بھی تھا۔ یہی سیکھا تھا کہ سبھی داڑھی والے نیک ہوتے ہیں، دین دار ہوتے ہیں، اچھے اخلاق والے ہوتے ہیں۔ پنجگانہ نماز پڑھتے ہیں تو دوسروں کا بھلا چاہتے ہیں، کسی کو نقصان نہیں پہچانتے، یہ لوگ نماز نہ پڑھنے والوں کی نسبت بہت ہی اچھے اور قابل اعتبار ہوتے ہیں۔ باپردہ لڑکیاں بے پردہ لڑکیوں سے کہیں زیادہ ”اچھی اور باکردار“ ہوتی ہیں، ہر برے کام سے دور رہتی ہیں۔ یہی سیکھا تھا یا کم از کم میری سمجھ میں یہی آیا تھا۔

یہ بت بھی ایسے ہی ٹوٹا۔ جن کو میں معتبر، دین دار، نیک اور صالح سمجھتا تھا ان میں سے کئی ایسی حالت میں پکڑے گئے کہ بیان کرتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کل لاہور کے ایک مذہبی رہنما کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔

میں ایک صوفی صاحب کو بہت نیک، صالح اور دین دار سمجھتا تھا۔ پیمانہ وہی تھا، حلیہ اسلام سے مطابقت رکھتا تھا۔ شاید وہ نیک ہوں بھی لیکن میرے ایک دوست نے بتایا کہ وہ اس کے ساتھ کیا کچھ کرتے ہیں۔ میں ایک عرصے تک یہی سوچتا رہا کہ یہ اتنے نیک اور اچھے شخص مشہور ہیں، یہ ایسے کیسے کر سکتے ہیں؟

لیکن یہ سبق تھا کہ ظاہری حلیے صرف لبادے ہیں، کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے یہ ظاہری حلیے کوئی معیار نہیں ہیں۔

چند برس پہلے جرمنی میں مجھے ایک باریش پاکستانی ملے، ماتھے پر محراب کا نشان بھی تھا۔ ان کے پاس بلیو پاسپورٹ تھا اور یہاں چند دنوں کے لیے کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے پہلے دن مجھے بہت نصحیتیں کیں، یہ بھی سمجھایا کہ اس معاشرے میں ”باکردار طریقے“ سے کیسے زندگی بسر کرنی ہے۔ وہ تبلیغ کرتے رہے اور میں با ادب طریقے سے سنتا رہا۔ لیکن اگلے دن ان کی فرمائش تھی کہ وہ کسی ریڈ لائٹ ایریا کے کلب میں جانا چاہتے ہیں۔

مجھے ان کی فرمائش پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن میں سوچتا رہا کہ ابھی کل تو یہ مجھے تبلیغ کر رہے تھے۔ وہ اصل میں اس سے مختلف تھے، جو ظاہری حلیے سے میں ان کے بارے میں سمجھا تھا۔ خیر بطور انسان میرے لیے وہ قابل احترام تھے اور اب بھی ہیں، بات صرف اتنی سی ہے کہ ظاہری حلیے دھوکا دیتے ہیں۔

ہمارے ایک بہت ہی قریبی دوست پاکستانی سفارتخانے کا ایک واقعہ سناتے ہیں۔ جب سفارت خانہ بون شہر میں تھا تو وہ بھی وہاں ملازمت کرتے تھے۔ پاکستان کی ایک مشہور مذہبی شخصیت بون آئی تو ہمارے دوست کو ان کی میزبانی کرنا تھی۔

اپنے دینی علم اور مرتبے کی وجہ سے وہ پاکستان بھر میں مشہور تھے اور ایک اسلامی ادارے کے سربراہ بھی تھے۔ دو دن وہ امامت کرواتے رہے ہمارے دوست ان کے پیچھے نماز بھی پڑھتے رہے لیکن تیسرے دن انہوں نے ایک اعلی برینڈ کی شراب پینے کی فرمائش کر دی۔ جب پیگ بنا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ پلیز شراب میں جوس کی ملاوٹ نہ کیجیے! میں ہمیشہ خالص پیتا ہوں، جوس ساتھ شامل کرنے سے شراب کی توہین ہوتی ہے۔

کچھ پینا یا نہ پینا ان کا ذاتی فعل ہے لیکن میرے دوست کو ایک دھچکا ضرور لگا کہ بھائی میں دو دن سے تمہارے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ وہ ایک دنیا کو اس کی ممانعت کرتے تھے لیکن بات وہی ہے کہ ان کا وہ ظاہری حلیہ تھا، جس کی بنا پر میرے دوست نے ان کے بارے میں اپنی رائے قائم کر رکھی تھی۔

میں نے یہی دیکھا ہے کہ ایسے واقعات ظاہری حلیے کے بت پاش پاش کر دیتے ہیں۔

ایسے کئی واقعات ہیں، جنہوں نے میرے ”اندر اچھائی اور برائی“ کے معیاری بتوں کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں یہی سیکھا ہے کہ ظاہری حلیے کی بجائے، مذہب کی کسوٹی کی بجائے، انسانوں کی انسانیت کی بنیاد پر قدر کی جائے۔ کسی کو اچھا یا برا سمجھنے یا قرار دینے سے پہلے اپنے گریبان میں ایک مرتبہ ضرور جھانکا جائے۔

جس کو آپ ظاہری حلیے کی وجہ سے ”اچھا یا برا“ سمجھ رہے ہیں، لازمی نہیں وہ اندر سے ویسا ہی ہو۔ کسی کا نماز پڑھنا یا نہ پڑھنا، اس کا ذاتی فعل ہے۔ کسی کا دوپٹہ لینا یا نہ لینا، کسی کا داڑھی رکھنا یا نہ رکھنا، شراب پینا یا نہ پینا اس کا ذاتی فعل ہے، یہ اس کا اور اس کے رب کا معاملہ ہے۔ لوگوں کے بارے میں فوری طور پر رائے مت قائم کیجیے، بطور انسان سب کی عزت کیجیے! چند اعمال تو ناپسندیدہ ہو سکتے ہیں انسان نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “بے حیا سی لڑکی اور دین دار سا داڑھی والا

  • 17/06/2021 at 11:41 صبح
    Permalink

    کیوں کہ حلیہ کی اہمیت ہے آپ کا اس حدیث مبارکہ کے متعلق کیا خیال ہے”جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اُنہی میں سے ہے) ابو داود، (4031) اور البانی رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔”
    س حدیث کا کم از کم یہ تقاضا ہے کہ کفار سے مشابہت حرام ہے، اگرچہ ظاہری طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان سے مشابہت رکھنے والا شخص کافر ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی میں ہے:
    (وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ) المائدة/51
    ترجمہ: جو تم میں سے انکے ساتھ دوستی رکھے گا تو وہ اُنہی میں سے ہوگا۔

    لہٰذا مسلمان اگر لعن طعن سے بچنا چاہے تو اعلی کردار کے ساتھ حلیہ بھی مناسب اختیار کرے

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے