EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ایک اور بجٹ۔ کچھ بدل بھی پائے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بجٹ اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہی ہوتا ہے۔ اچھے خاصے ماہرین اور معاشیات پر عبور رکھنے والے بھی فوری طور پر سمجھ نہیں پاتے۔ جب سے ہوش سنبھالا، یہی دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے کہ بجٹ پیش کرنے والی ہر حکومت اس کی تعریف کرتی ہے۔ اسے عوام دوست قرار دیتی ہے۔ دعویٰ کرتی ہے کہ اس بجٹ کی وجہ سے ملک میں ترقی و خوش حالی کا نیا دور آئے گا۔ روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہوں گی اور ماضی کی حکومتوں کے برے اثرات کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

دوسری طرف ہر دور کی اپوزیشن ان تمام حکومتی دعووں کو غلط، جھوٹے اور بے بنیاد قرار دیتی ہے۔ اس کے مطابق بجٹ عوام دشمن ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔ بد حالی اور غربت بڑھے گی۔ گویا ایک فریق کو اس میں خوبیاں ہی خوبیاں اور دوسرے فریق کو خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں۔ سو عوام دونوں کو سنتے رہتے ہیں اور شاید کسی ایک پر بھی یقین نہیں کرتے۔ خاص طور پر انہیں حکومتی دعوے، بس دعوے ہی نظر آتے ہیں۔ وہ انتظار کرتے ہیں کہ یہ بجٹ ان کی روز مرہ زندگی پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔

اس بجٹ کے بارے میں بھی، عوام کو انتظار رہے گا کہ کیا واقعی ان کی مشکلات دور ہوتی ہیں؟ کیا واقعی ان کی زندگی میں کچھ آسانیاں پیدا ہوئی ہیں؟ کیا واقعی مہنگائی میں کوئی کمی آتی ہے؟ کیا واقعی ان کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں؟ کیا واقعی انہیں تعلیم اور صحت کی بہتر سہولتیں ملتی ہیں؟ کیا واقعی ان کی غربت اور بد حالی دور ہوتی ہے؟ اگر ایسا کچھ نہیں ہوتا تو وہ بجٹ کے تماشوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔

بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بار بار کے تلخ تجربات کی وجہ سے وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ بجٹ نام کا کھیل ان کی زندگی میں کوئی بہتری لانے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ بالعموم یہی ہوتا ہے کہ بجٹ کے بعد اشیائے ضرورت کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ مہنگائی کی ایک نئی لہر اٹھتی ہے۔ روزگار کے مواقع اور بھی کم ہو جاتے ہیں اور حکومتی دعوے بس دعوے ہی رہتے ہیں۔

میں نے چند ماہرین معیشت کی آراء سنی اور پڑھی ہیں۔ وہ خوبصورت اعداد و شمار کے باوجود شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے لئے اپنے اہداف کو پانا مشکل ہو گا۔ مثلاً کہا گیا ہے ایف۔ بی۔ آر کے ذریعے 5829 ارب روپے کے محصولات جمع کیے جائیں گے۔ یہ ہدف، گزشتہ سال کے محصولات سے 24 فی صد زیادہ ہے۔ ماہرین کے خیال میں اس ہدف کو پانا، تقریباً نا ممکن ہے۔ چند ہی ماہ بعد شاید اسے اس ہدف پر نظر ثانی کرنا پڑے۔ ہمارے ہاں کے ٹیکس کلچر کو مدنظر رکھا جائے تو 5829 ارب روپے جمع کرنا ممکن ہی نہیں۔ جب آپ ان محصولات پہ اپنے ترقیاتی یا غیر ترقیاتی منصوبوں اور اخراجات کی بنیاد رکھیں گے تو سوچا جا سکتا ہے کہ ان کی تکمیل کتنی مشکل ہو گی۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں موجودہ حکومت کے دور میں مجموعی شرح نمو (GDP) اور ٹیکسوں کا تناسب بہت کمزور رہا ہے۔ سابقہ حکومت جی ڈی پی کا 12.5 فی صد ٹیکس وصول کر رہی تھی، جب کہ اب یہ شرح 9.9 فی صد تک گر گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران پچاس لاکھ کے لگ بھگ پاکستانیوں کا روزگار جاتا رہا ہے۔ اس طرح آزاد ذرائع بتاتے ہیں کہ دو کروڑ پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں یعنی ان خاندانوں کی ماہانہ آمدنی 18,600 روپے سے کم ہے۔

ان لوگوں کو کسی ٹرسٹ کی طرف سے چلائے جانے والے لنگر خانوں کے ذریعے نہ تو پالا جا سکتا ہے نہ ہی غربت کی دلدل سے نکالا جا سکتا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ حکومت تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت کے مواقع بڑھائے، نئی سرمایہ کاری لائے، نئے مواقع اور روزگار کے نئے امکانات پیدا کرے۔ اسی طرح گزشتہ کچھ عرصے سے مہنگائی آسمان کو چھونے لگی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تین سالوں سے بنیادی ضرورت کی تمام چیزوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اس وقت مہنگائی کی شرح 13 فی صد سے بڑھ گئی ہے۔ اسے قابو میں لائے بغیر عام آدمی کی زندگی میں کیسے بہتری لائی جا سکتی ہے۔

سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں دس فی صد اضافہ اچھی بات سہی لیکن یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ گزشتہ دو سالوں سے یہ تنخواہیں جامد تھیں۔ اس عرصے میں ہماری کرنسی تقریباً چالیس فی صد نیچے آ گئی۔ اسی عرصے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ بنیادی تنخواہ کا دس فیصد ایڈہاک الاونس دے کر بھی ایک دیانت دار سرکاری ملازم کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ کرنسی کی قدر میں کمی اور شدید مہنگائی کے پیش نظر یہ اضافہ کم از کم 25 فی صد ہونا چاہیے تھا۔ سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیموں نے اس اضافے کو انتہائی ناکافی قرار دیتے ہوئے احتجاج کا پروگرام بھی بنایا ہے۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے لیکن اعلیٰ تعلیم (higher education) بڑی حد تک، اب بھی، وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ نئے بجٹ میں مجموعی طور پر تعلیم کے لئے تقریباً 92 ارب روپے ( 91.97 ) رکھے گئے ہیں۔ بظاہر یہ رقم پچھلے سال کی نسبت چار فی صد زیادہ ہے لیکن اسے اب بھی بہت ناکافی خیال کیا جا رہا ہے۔ اس بجٹ کا تقریباً 85 فی صد کالج ایجوکیشن کے لئے مخصوص ہے۔ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے ترقیاتی بجٹ کے لئے 37 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

جبکہ اخراجات جاریہ کے لئے 66 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سال ناکافی بجٹ کے باعث بہت سی جامعات شدید مالی مشکلات کا شکار رہیں۔ یہاں تک کہ ان کے پاس اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے بھی پیسے نہ تھے۔ کیا اس سال ایسی صورت حال پیدا نہیں ہو گی؟ یہ ابھی دیکھنا ہے۔ اخراجات جاریہ کے لئے رکھے گئے 66 ارب روپوں کا بڑا حصہ تنخواہوں اور پنشنوں کی مد میں نکل جائے گا۔ جامعات کے لئے ریسرچ، لائبریریوں، کانفرنسوں، نئے منصوبوں اور لیبارٹریز کے لئے کیا بچے گا؟ شاید بہت ہی کم۔

دنیا میں تعلیمی بجٹ پر اوسطا جی۔ ڈی۔ پی کا 4 فیصد خرچ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ شرح 2 فیصد کے آس پاس گھومتی رہتی ہے جو بہت ہی کم ہے۔ اس خطے میں سب سے کم۔ جانے وہ وقت کب آئے گا۔ جب ہم تعلیم کے لئے زیادہ وسائل وقف کر سکیں گے۔ فی الحال تو اس کے آثار نظر نہیں آرہے۔ قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے ہمیں اپنا دفاع مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے دفاعی بجٹ میں اضافے کا جواز ہے۔ لیکن ہمارے محصولات کا بہت بڑا حصہ قرضوں کی اقساط اور سود ادا کرنے پر خرچ ہو جاتا ہے۔

چونکہ ہماری ریاست کا سارا کاروبار ہی قرضوں پہ چل رہا ہے، اس لئے آج بھی قرضے لئے جا رہے ہیں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قرضے ماضی کی شرح سے بہت زیادہ ہیں اس لئے آنے والے دنوں میں اس حکومت یا آنے والی حکومتوں کو پہلے سے بھی زیادہ ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ گویا ہمیں قرض کی قسطیں اور سود ادا کرنے کے لئے بھی قرض لینا ہوگا۔

دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ ہم اس صورتحال سے کیوں دوچار ہیں؟ بھارت کا سفر ہمارے ساتھ شروع ہوا۔ وہ ہم سے اتنا آگے کیوں نکل گیا ہے؟ بنگلہ دیش 1970 تک ہمارے جسم کا حصہ تھا۔ پھر وہ آزاد ملک بنا۔ آج وہ معیشت کے ہر شعبے میں ہم سے کیوں آگے ہے؟ ہم تو بس افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ سوال اٹھائیں تو ہماری حب الوطنی مشکوک ٹھہرتی ہے۔

۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے