دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے


نو دن تک ہم وینکوور کی خاک چھانتے رہے یا شاید یہ ترکیب لفظی ٹھیک نہیں، وہاں تو خاک دیکھی ہی نہیں ہم نے۔ صاف ستھری گلیاں، بازار اور ساحل۔ کانگریس کے مندوبین واپس جا چکے تھے مگر ہم ابھی تک وینکوور میں تھے۔ کینیڈین ہمسفر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ہم نے بینف کے لئے بس کا ٹکٹ لے لیا تھا۔ بینف (Banff) روکی ماؤنٹین کے دامن میں واقع البرٹا کا مسحورکن سیاحتی مقام ہے۔ یہ خوبصورت شہر بینف نیشنل پارک کا حصہ ہے جو کہ یونیسکو کے تاریخی ورثے میی شامل ہے۔

بینف میں ہم نے ہوٹل کے بجائے ہاسٹل میں رہنے کو ترجیح دی تھی۔ راستے کے لئے اطالوی ریستوران سے پاستہ لے لیا تھا۔ تازہ بنا ہوا پاستہ ڈبے کے خشک پاستہ سے کہیں زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ بس اسٹیشن پر پھر ایک غیر متوقع صورتحال سے واسطہ پڑا۔ بس کے لئے بھی وزن کی قید ہو سکتی ہے، کبھی سوچا نہ تھا۔ سب سے زیادہ وزن لیدر جیکٹ کا تھا جو ہم اپنی بہن سے عاریتا لائے تھے اور ابھی تک اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔ چرمی جیکٹ نکال کر پہن لی ساتھ ہی ایک آدھ سویٹر اور مفلر بھی چڑھا لئے۔

ناسٹیلجیا کی لہر میں ”سدھو بھائی“ ، یاد آ گئے۔ بچپن میں بی بی سی کے پروگرام شاہین کلب میں ان کے تہ بہ تہ گرم کپڑوں کی تفصیل مزے سے بیان ہوتی تھی۔ خیر دوبارہ وزن کیا گیا تو پورا تھا۔ اور ہمیں بس میں سوار ہونے کی اجازت مل گئی۔ بس میں زیادہ مسافر نہیں تھے۔ سیٹ پر ہم اکیلے تھے۔ نصف پر چرمی جیکٹ کو سلایا اور نصف پر خود براجمان ہوئے۔ سو کلومیٹر کے بعد چلی ویک (Chilliwack) پر ناشتے کی لئے بس ٹھہرائی گئی۔ نام پر نہ جائیے اس کا تعلق نہ چل سے ہے نہ چلی سے۔

یہاں درجہ حرارت سردیوں میں بھی صفر سے نیچے نہیں جاتا یہ کینیڈا کا warmest town کہا جاسکتا ہے یہاں کا سوئیٹ کارن مشہور ہے۔ ناشتے کے بعد بس پھر شمال کی سمت آگے بڑھنے لگی۔ باہر کا منظر اس قدر دل آویز تھا کہ کئی بار لگام کھینچ کر پڑاؤ ڈالنے کو دل چاہا۔ سچ کہتے ہیں یہ منظر کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ نیلا گنبد مینائی اور اس دشت کی پہنائی۔ ایسا وسیع اور اس قدر عریض۔ آفاق اتنے دور کہ شفق کا رنگ ملگجا لگے۔ مصور فطرت نے کس کمال حسن سے تصویر بنائی تھی۔

گلابی افق تلے برف کی ٹوپیاں پہنے تہ بہ تہ محرابی سلسلے، طویل قامت درخت، سبزہ زار اور اٹھلاتی فیروزی جھیلیں۔ ہمارا قلم قاصر ہے اس منظر کے لئے حسب شان لفظ چن سکے اور کینوس پر اتارنے کے لئے کوئی بہت بڑا مصور بھی ناکام رہے۔ باربرا کارٹلینڈ کے ناولوں میں بیان کی گئی پریری اور میڈوز (prairie and meadows) ایک کے بعد ایک گزرتی رہیں یہاں تک کہ سورج نے غروب ہو کر اسکرین آف کر دیا۔

950 کلومیٹر کا سفر طے کر کے بینف پہنچے تو سات بجے تھے مگر بس اسٹاپ پر ہو کا عالم تھا۔ یخ بستہ ہوا ہڈیوں میں سرایت کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ جیکٹ اور مفلر جو بوجھ لگتے تھے اب سکون آور تھے۔ بینف ہاسٹل مین ایوینو پر ہی تھا۔ مردانہ اور زنانہ بلاک علیحدہ تھے۔ بیسمنٹ میں کشادہ کچن اور ڈائننگ روم تھا۔ ناشتہ انتظامیہ کی جانب سے تھا تاہم کچن میں پکانے کا سب سامان موجود تھا اور لڑکے اور لڑکیاں کھانا خود پکاتے تھے۔

سنک کے اوپر لگے ہوئے انگریزی نوٹ کو پڑھ کر دیسی ذائقہ محسوس ہوا۔ اس پر لکھا تھا ”یہاں تمہاری اماں نہیں ہے اپنے برتن خود دھو کر جاؤ“ سیڑھیوں کے نیچے چھوٹی سی لائبریری تھی جہاں فکشن اور نان فکشن کتابیں تھیں اور ایک نوٹ یہاں بھی چسپاں تھا ”آپ کوئی بھی کتاب لے جا سکتے ہیں بشرطیکہ آپ نے اپنے پاس سے کوئی کتاب اس جگہ رکھ دی ہو۔“ ہم نے ٹین ایجرز کی نفسیات سے متعلق ایک کتاب اٹھا لی۔ ہماری صاحبزادی کی عمر عزیز میں پچھلے سال ہی ٹین کا ہندسہ لگا تھا۔

گراؤنڈ فلور پر لونگ روم تھا جہاں ٹی وی اور بورڈ گیم کی سہولت موجود تھی۔ شیشے کی دیواروں سے باہر کے دلکش منظر سے لطف اندوز ہوا جا سکتا تھا۔ سیلی، زوئی، صوفیہ اور اینا ہماری روم میٹ تھیں۔ اسپین کی صوفیہ اسٹڈیز میں گیپ ائر لے کر سیاحت کے لئے نکلی تھی اور چھوٹے موٹے کام کر کے خرچہ نکالتی تھی۔ ہم نے اس سے جبل طارق کی خیریت پوچھی اور اس سے مسلمانوں کے تابناک ماضی کی باتیں کیں کیونکہ اب تابناکی کی صرف باتیں ہی رہ گئی ہیں۔

ہنگری کی اینا کو ہائیکنگ کا شوق تھا سارا دن وہ دلفریب ٹریکس ناپتی رہتی اور شام کو تھک کر سو جاتی۔ زوئی ایک ویٹریس تھی۔ سیلی کیلگری سے تعلق رکھتی تھی اور ہماری اچھی سہیلی بن گئی۔ انٹرویو کے لئے جاتے وقت ہم نے اپنے میچنگ پمپس اسے آفر کیے ۔ شام کو لونگ روم میں اس نے اپنے کینیڈین دوستوں سے تعارف کرایا تو ایک نوجوان نے ہاتھ جوڑ کر کہا

”ست سری اکال“ (سکھ وہاں کافی تعداد میں ہیں )
سیلی نے اپنی بھاری آواز میں قہقہہ لگا کر کہا
”یہ پاکستانی ہے“
وہ کہنے لگا ”کیا پاکستانی انڈین سے الگ ہوتے ہیں“
ہم نے کینیڈا کے اس چھوٹے سے قصبے کے نوجوان کو اپڈیٹ کرتے ہوئے کہا ”ستر سال پہلے الگ ہو چکے“

اگلے دن بینف گنڈولا کے لئے شٹل بس میں سوار ہو کر پہاڑ کے دامن میں پہنچے۔ گنڈولا ایک شیشے کی لفٹ ہے جو سلفر ماؤنٹین کی چوٹی پر لے جاتی ہے اور وہاں سے بینف کا پینورامک نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

لیکن ہمیں بتایا گیا گنڈولا سالانہ دیکھ بھال کے لئے بند ہے۔ وائیٹ میوزیم آف کینیڈین راکیز اور بینف پارک میوزیم پبلک ہالیڈے کی وجہ سے پبلک کے لیے بند تھے بینف پارک میوزیم کی عمارت کے اوپر یونین جیک لہرا رہا تھا۔

جی صحیح پڑھا آپ نے یونین جیک۔ اگرچہ 1982 کے دستور کے مطابق کینیڈا اپنے معاملات میں خودمختار ہے لیکن آئینی طور پر اب بھی ملکہ برطانیہ سربراہ مملکت ہیں۔ کینیڈین سکے اور بیس ڈالر کے نوٹ پر ملکہ الزبتھ کی تصویر اس کی دلیل ہے۔ یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ عوامی سطح پر ایک ڈالر کو لونی (loonie) اور دو ڈالر کو ٹونی (toonie) کہا جاتا ہے۔ لون ایک ڈالر کے سکے کی پشت پر ثبت بطخ کو کہتے ہیں۔ خوش قسمتی سے بفیلونیشن میوزیم اور گفٹ شاپ کھلا تھا۔

1950 میں قائم کیے گئے اس میوزیم میں قدیم مقامی باشندوں کی ثقافت، بودو باش اور رہن سہن کی عکاسی کی گئی ہے۔ اب ان کی حیثیت کو تسلیم کیا جانے لگا ہے اور انہیں تاریخی ورثے کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ امریکہ میں انہیں native American کہا جاتا ہے۔ اسٹریلیا اور کینیڈا میں فرسٹ نیشن کا ٹائٹل مروج ہے۔ تاہم aboriginal یا اصیل کی اصطلاح زیادہ جامع ہے جس میں فرسٹ نیشن کے علاوہ اسکیمو اور دوسرے چھوٹے قبائل بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ ریڈ انڈین یا انڈین کا لفظ ناقابل قبول اور اشتعال انگیز ہے۔

اگرچہ کچھ مقامات تک رسائی نہ حاصل کرسکے لیکن بینف کے دلکش اور مسحورکن مناظر کو بھلا کون بند کر سکتا تھا۔ ہر روز کسی جپسی کی طرح کسی گوشے کو سر کرنے نکل جاتے۔

ہم نے سنا تھا اچانک ہرن، یا ریچھ سے ملاقات ہو سکتی ہے آخر بینف وائلڈ پارک کا حصہ ہے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ بینف اوینیو پر گرم کپڑوں اور سوینیرز کی چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں وہیں ایک بہت وسیع و عریض شراب فروخت کرنے کی دکان دیکھی۔ ان گنت اقسام کی بوتلوں نے تجسس بیدار کیا اور ہم ان کے لیبل پڑھنے لگے۔ ہم حیران اور پریشان ہو گئے کہ لیبل پر سگریٹ کے پیکٹ کی طرح ہیلتھ وارننگ درج نہیں تھی حالانکہ شراب نوشی سے صحت کو عارضی اور طویل المیعاد خطرات لاحق ہیں۔

کینیڈا کی اسی فیصد آبادی کسی نہ کسی درجے کی شراب نوشی کرتی ہے۔ اگرچہ لیگل عمر اٹھارہ سال ہے لیکن پندرہ سال سے اوپر طلبہ بھی شراب نوشی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آن الکوحل ابیوز نے لو رسک ڈرنکنگ گائیڈ لائن جاری کی ہے لیکن دنیا بھر میں پراڈکٹ وارننگ کو زیادہ اثر پذیر تسلیم کیا گیا ہے۔ اگرچہ کینیڈا میں اشیائے خورد و نوش اور مشروبات پر اسٹینڈرڈ پراڈکٹ لیبل پر عمل کیا جاتا ہے جس میں اس کے اجزائے ترکیبی، کیلوریز اور الرجی کے بارے میں نشاندہی شامل ہے مگر مقام حیرت ہے کہ یہ شرط سب سے مضر صحت مشروب پر لاگو نہیں۔

دنیا بھر میں لییں ل پر الکوحل پرسنٹیج تو درج ہے لیکن ہیلتھ وارننگ بہت کم ممالک میں ہے۔ امریکہ میں 1989 کے قانون کے تحت شراب کی بوتل پر ہیلتھ وارننگ لکھنا لازم ہے تاہم یہ ایک نامکمل اور بے اثر ٹیکسٹ وارننگ ہے۔ سگریٹ کے پیکٹ پر تحریری انتباہ (text warning) بے اثر ثابت ہونے کے بعد تصویری انتباہ (image based warning) سے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں اس لئے کینیڈا میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری انتباہ لازمی ہے۔ لیکن شراب کی بوتل اس فکر سے آزاد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کینیڈا میں یکون yakoon اور شمال مغربی علاقہ جات north western territories میں مقامی طور پر شراب کی بوتل پر ہیلتھ وارننگ لکھنا لازم ہے۔ ہمارا دل چاہا اس بڑی سی دکان کے ماتھے پر لکھوا دیں

اے ذوق دیکھ اس دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

چوتھے دن صبح سات بجے کیلگری Calgary کے لئے بس سے بکنگ کرا لی تھی۔ کیلگری سے ایک بجے دوپہر کر ٹورنٹو کی پرواز تھی۔ بس ہاسٹل کے دروازے پر ٹھہرتی تھی۔ بینف سے 126 کلومیٹر دور کیلگری پٹرولیم انڈسٹری کا مرکز ہے۔ پروگرام یہ تھا کہ ٹورنٹو اڑان بھرنے پہلے چند گھنٹے اس چھوٹے سے جدید شہر کی سیر کر لیں گے۔ رات کو ٹم سے گزارش کی تھی کہ ناشتہ ساڑھے چھ بجے تیار کردے۔ اگلی صبح ٹم کی جگہ جارج کو دیکھ کر کہا

”ٹم نے آپ کو بتایا ہوگا آج ناشتہ ساڑھے چھ بجے چاہیے“
”لیکن اب تو ساڑھے سات بجے ہیں“
ہم نے کلائی کی گھڑی اسے دکھاتے ہوئے کہا ”ساڑھے چھ بجے ہیں“
اس نے بھی ترکی بہ ترکی وال کلاک دکھاتے ہوئے کہا ”، ساڑھے سات بجے ہیں ’

اور ہم دونوں صحیح تھے۔ دراصل ہم لاعلم تھے کہ البرٹا، برٹش کولمبیا سے ایک گھنٹہ آگے ہے۔ ہماری گھڑی ابھی تک BC کے ٹائم پر سیٹ تھی۔ بس جا چکی تھی۔ بات تو گھبرانے والی تھی لیکن ہم گھبرائے نہیں۔ بس سروس کے آفس فون کیا اور خوش قسمتی سے ساڑھے دس بجے کی بس میں سیٹ مل گئی۔ وقت پر کیلگری ائرپورٹ تو پہنچ گئے لیکن شہر بس کی کھڑکی سے ہی دیکھ پائے۔

ٹورنٹو ائرپورٹ پر خوشگوار حیرت منتظر تھی۔ میاں جی کی کزن لینے آئی ہوئی تھی۔ ٹورنٹو میں صرف دو دن کا قیام تھا جو ہم نے نیاگرا کے لئے وقف کیا تھا پہلے دن آپی سے باتیں ہوتی رہیں لنچ پہ ان کے ہاتھ کا پکا ہوا عمدہ کھانا اور مینگو ڈیلائٹ کھایا۔ رات کو جیراد اسٹریٹ پر لاہور تکہ ہاؤس پر ڈنر کیا۔ دوسرے دن نیاگرا جانا تھا۔ رات کو میاں جی کا فون آیا اور انہوں نے ایک کام ہمارے سپرد کر دیا۔

اگلی صبح آپی ایک گھنٹہ شاپنگ کے لئے لے گئیں باقی سارا دن میاں جی کے کام میں گزر گیا اور ہم نیاگرا نہ جاسکے۔

تیسری صبح اتحاد ائر لائن سے واپسی تھی۔ ابوظہبی ائرپورٹ پر دو گھنٹے کی ٹرانزٹ تھی۔ ہم بغیر ویزے کے مزے سے ائرپورٹ پر گھومتے رہے۔ باتھ روم میں مسلم شاور دیکھ کر ”ایٹ ہوم“ کا احساس ہوا اور اپنی زنبیل سے 500 مل کی پانی کی بوتل نکال کر کوڑے دان میں پھینک دی۔ اب اس کی ضرورت نہیں تھی۔ سہ پہر تک گھر پہنچ گئے۔ رات کو بیٹھ کر حساب کتاب کیا تو فگر دیکھ کر لمحے بھر کو چکرائے پھر سوچا پیسہ تو ہاتھ کا میل ہے حالانکہ ہم یہ بھی کہتے ہیں ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔

Facebook Comments HS