ایران صدارتی انتخاب 2021: ایران کا انوکھا سیاسی نظام کیسے چلتا ہے اور یہاں کس ادارے کے پاس کتنے اختیارات ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران صدر انتخاب

Reuters

ایران کے شہری آج ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں ہونے والی پولنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ موجودہ صدر حسن روحانی کے جانشین بننے کے لیے چار امیدوار میدان میں اُترے ہیں جن میں سے تین امیدواروں کو ’سخت گیر خیالات‘ کا حامی قرار دیا جاتا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق عدلیہ کے موجودہ سربراہ اور قدامت پسند شیعہ رہنما ابراہیم رئیسی کی فتح کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان جائزوں کے مطابق ایران کے مرکزی بینک کے سابق گورنر اور اعتدال پسند رہنما عبدالناصر ہیماتی اُن کے سب سے بڑے حریف ہیں۔

ایرانی سیاسی نظام کے بعض ناقدین اور اصلاح پسندوں نے اس انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اُن کا مؤقف ہے کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خواہشمند کئی امیدواروں پر پابندی کے بعد ابراہیم رئیسی کے لیے جیت کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

ایران میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کی صبح اپنا ووٹ ڈالا اور لوگوں کو بھی ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ہر ووٹ اپنی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ آؤ، ووٹ ڈالو اور اپنا صدر چُن لو۔ یہ ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے۔‘

تین سال قبل امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدہ معطل کیے جانے کے بعد ایران پر تجارتی پابندیاں عائد ہوئی تھیں جس سے یہاں کے شہریوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

اعتدال پسند ایرانی صدر حسن روحانی دوبارہ صدارت کے لیے امیدوار نہیں بن سکتے کیونکہ وہ دو مرتبہ چار، چار سال کی مدت کے لیے صدر منتخب ہو چکے ہیں اور کسی ایک شخص کے لگاتار تیسری مرتبہ صدر بننے پر پابندی ہے۔

ایران میں صدارتی انتخاب کے امیدوار کون ہیں، یہ ہم آپ کو آگے چل کر بتائیں گے مگر پہلے آپ کے لیے یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ ایران کا سیاسی نظام دیگر ممالک کے سیاسی نظاموں سے کتنا مختلف ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے۔


ایران: ایک ایسا ملک جس کا سیاسی نظام سب سے الگ

ایران کا سیاسی نظام کسی کے لیے پیچیدہ ہے تو کسی کے لیے غیر معمولی۔ اس میں جدید دینی طرز حکومت کو جہموریت کے ساتھ ایک منفرد انداز میں ملایا گیا ہے۔

ایران میں صدر اور پارلیمان کو تو لوگ ہی منتخب کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ غیر منتخب شدہ اداروں کا ایک نیٹ ورک قائم ہے جس کی سربراہی رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔

ایران کا سیاسی نظام اور کس کے پاس کتنی طاقت؟

سپریم لیڈر (رہبر اعلیٰ)

ایران کے سیاسی نظام میں سب سے طاقتور عہدہ رہبر اعلیٰ یا سپریم لیڈر کا ہے اور اس عہدے پر آج تک صرف دو لوگ ہی آ سکے ہیں۔

پہلی بار یہ عہدہ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی کو ملا تھا اور ان کے بعد اس پر موجودہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای آئے تھے۔

ایرانی حکمران رضا شاہ پہلوی کی حکومت گِرانے کے بعد خمینی نے اس عہدے کو ایرانی سیاسی ڈھانچے میں سب سے اہم منصب بنایا تھا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای

Reuters
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای

سپریم لیڈر ایرانی دفاعی فورسز کا کمانڈر اِن چیف بھی ہوتے ہیں اور ملک میں سکیورٹی کے معاملات پر نگرانی رکھتے ہیں۔ وہ عدلیہ کے سربراہ، اثر و رسوخ رکھنے والی نگہبان شوریٰ کے نصف ممبران، نماز جمعہ کے امام اور سرکاری ٹی وی و ریڈیو نیٹ ورکس کے سربراہان کو تعینات کرتے ہیں۔

اس رہبر اعلیٰ کے کنٹرول میں ایسے اربوں ڈالرز کے خیراتی ادارے بھی ہوتے ہیں جو ایرانی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

سنہ 1989 میں خمینی کی موت کے بعد علی خامنہ ای سپریم لیڈر بنے تھے۔ گذشتہ عرصے میں انھوں نے اپنی پوزیشن اور طاقت کو مستحکم کیا ہے اور حکمرانی کے اس نظام کو درپیش چیلنچز کو دبا کر رکھا ہے۔

صدر

حسن روہانی

EPA
ایرانی صدر حسن روہانی

ایران میں ایک صدر کو چار سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے، اور کوئی بھی شخص مسلسل ادوار کے بعد تیسری بار صدر نہیں بن سکتا۔

آئین میں اس عہدے کو ملک میں دوسرا سب سے بڑا عہدہ قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر ایگزیکٹیو (امور کی انجام دہی کے ذمہ داران) کا سربراہ ہوتا ہے۔ صدر کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں آئین کی عملداری یقینی بنائی جائے۔

مقامی پالیسی اور خارجی اُمور پر صدر کا اثر و رسوخ ہوتا ہے لیکن تمام ریاستی معاملات پر سپریم لیڈر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔

رواں ماہ ایران کے شہری موجودہ صدر حسن روحانی کا جانشین منتخب کریں گے۔ گذشتہ دو صدارتی انتخابات میں روحانی نے بڑے مارجن سے فتح حاصل کی تھی۔ انھوں نے پہلے راؤنڈ میں ہی 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جس سے مزید کسی مقابلے کی ضرورت نہیں پڑی۔

تمام صدارتی امیدواروں کو نگہبان شوریٰ سے منظوری درکار ہوتی ہے۔ یہ عالم دین اور قانونی ماہرین پر مبنی ایک ادارہ ہے جس میں 12 ممبران ہوتے ہیں۔

سنہ 2021 میں ہونے والے ایرانی صدارتی انتخاب کے لیے 590 افراد نے امیدوار بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر صرف سات افراد کے کاغذات نامزدگی کو منظور کیا گیا۔ خواتین کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں ملی۔

پارلیمان

پارلیمان

EPA

ایرانی پارلیمان یا مجلس میں 290 اراکین ہوتے ہیں۔ ان ممبران کو عام انتخابات کے ذریعے ہر چار سال بعد منتخب کیا جاتا ہے۔

پارلیمان نئے قوانین متعارف کروا سکتی ہے، سالانہ بجٹ کو مسترد کر سکتی ہے اور حکومتی وزرا یا صدر کو طلب کرنے کے علاوہ اس کے مواخذے کا حق رکھتی ہے۔ تاہم پارلیمان سے منظور شدہ تمام قوانین کو نگہبان شوریٰ سے حتمی منظوری حاصل کرنا ہوتی ہے۔

سنہ 2020 کے پارلیمانی انتخابات میں سخت گیر رہنماؤں نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان سے قبل نگہبان شوریٰ نے سات ہزار سے زیادہ ممکنہ امیدواروں کو نااہل قرار دیا تھا جن میں بعض رہنما اعتدال اور اصلاح پسند بھی تھے۔

نگہبان شوری

احمد جنتی

AFP
مجلس خبرگان رہبری اور شوریٰ نگہبان کے سربراہ آیت اللہ احمد جنتی

ایران میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا ادارہ نگہبان شوریٰ (گارڈئین کونسل) ہے۔ اس کے پاس پارلیمان سے منظور شدہ قوانین کو مسترد کرنے کا حق ہے۔ یہ پارلیمان، صدارت اور مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات کے لیے لوگوں کو امیدوار بننے سے روک سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران میں ’رہبرِ اعلیٰ‘ کا کردار آج بھی کتنا اہم ہے؟

شیعہ مراجع کون ہیں اور ان کی اہمیت کیا ہے

کیا سخت گیر ابراہیم رئیسی ایران کے اگلے صدر ہوں گے؟

اس میں سپریم لیڈر کے تعینات کردہ چھ عالم دین جبکہ عدلیہ کی جانب سے نامزد اور پارلیمان کی جانب سے منظور کردہ چھ قاضی ہوتے ہیں۔ ممبران کو مرحلہ وار چھ سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے اور ہر تین سال بعد آدھے ممبران تبدیل کیے جاتے ہیں۔

اس کونسل میں اس وقت سخت گیر رہنماؤں کی اکثریت ہے اور ان کے سربراہ آیت اللہ احمد جنتی ہیں۔

مجلس خبرگان رہبری

اس مجلس میں 88 عالم دین ہوتے ہیں اور یہ رہبر اعلیٰ کو تعینات کرنے یا اس کی کارکردگی کی نگرانی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ اگر یہ مجلس محسوس کرے کہ سپریم لیڈر اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں تو اس کے پاس انھیں ہٹانے کا بھی حق ہے۔

اگرچہ ایسا کبھی دیکھا نہیں گیا کہ اس مجلس نے سپریم لیڈر کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہو تاہم یہ مجلس اس لیے اہم ہے کیونکہ موجودہ 82 سالہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

اگر سپریم لیڈر کی وفات ہوتی ہے یا وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں رہتے تو ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے یہ مجلس ایک خفیہ رائے شماری کرے گی اور سادہ اکثریت کی بنا پر نئے رہبر اعلیٰ کا فیصلہ کرے گی۔

مجلس کے اراکین کے براہ راست انتخابات ہر آٹھ سال بعد ہوتے ہیں۔ آخری بار یہ انتخابات 2016 میں ہوئے جس میں اعتدال اور اصلاح پسند رہنماؤں نے قریب 60 فیصد سیٹیں جیتیں۔ گذشتہ مجلس میں ان کی تعداد 25 فیصد سے کم تھی۔

اس کے موجودہ سربراہ آیت اللہ احمد جنتی ہیں جو شوریٰ نگہبان کے بھی سربراہ ہیں۔

مجمع تشخیص مصلحت نظام

یہ کونسل سپریم لیڈر کی مشاورت کرتی ہے۔ اور پارلیمان اور شوریٰ نگہبان کے درمیان قانون سازی میں اختلاف کی صورت میں قانونی حل تلاش کرتی ہے۔

سپریم لیڈر اس کے 45 اراکین کو تعینات کرتے ہیں۔ یہ تمام افراد معروف مذہبی، سماجی اور سیاسی رہنما ہیں۔ ان کے موجودہ سربراہ آیت اللہ صادق آملی لاریجانی ہیں جو عدلیہ کے سابق سربراہ ہیں اور انھیں سخت گیر رہنما قرار دیا جاتا ہے۔

عدلیہ کے سربراہ

ابراہیم رئیسی

EPA
ابراہیم رئیسی

ایران کے چیف جسٹس کو سپریم لیڈر تعینات کرتے ہیں اور وہ انھیں کو جوابدہ ہیں۔ ان کی ذمہ داری اپنی عدالتوں اور ججوں کے ذریعے ملک میں اسلامی و قانونی قوانین کا نفاذ ہے۔

موجودہ چیف جسٹس ابراہیم رئیسی ہیں، جو صدارتی امیدوار بھی ہیں۔

سکیورٹی اور انٹیلیجنس سروسز کے ساتھ مل کر عدلیہ اختلاف کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ مختلف لوگوں کو قومی سلامتی سے متعلق غیر منصفانہ مقدمات کا سامنا رہتا ہے اور ان مقدمات کی سماعت یہی ججز کرتے ہیں۔

الیکٹوریٹ

ایران میں سنہ 2020 کے پارلیمانی انتخابات

AFP
ایران میں سنہ 2020 کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا تھا

ایران کی آٹھ کروڑ 30 لاکھ کی آبادی میں قریب پانچ کروڑ 80 لاکھ لوگوں کی عمر 18 سال سے زیادہ ہے اور وہ ووٹنگ میں حصہ لینے کا حق رکھتے ہیں۔

الیکٹوریٹ کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مبنی ہے کیونکہ ملک میں قریب نصف آبادی 30 سال سے کم عمر افراد کی ہے۔

سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں 2020 کے پارلیمانی انتخابات کے علاوہ تمام الیکشنز میں ووٹر ٹرن آؤٹ مسلسل 50 فیصد سے زیادہ رہا ہے۔ سنہ 2020 میں اس کی وجہ لوگوں کی مذہبی رہنماؤں کی اسٹیبلشمنٹ پر بڑھتا عدم اعتماد اور معیشت کے حالات کو سمجھا جاتا ہے۔

مسلح افواج

ایران کی مسلح افواج میں سپاه پاسداران انقلاب اسلامی اور عام فوج شامل ہیں۔

پاسداران انقلاب کو اسلامی نظام کے تحفظ اور فوج میں جوابی توازن برقرار رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایران میں معاشی و سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور اس کے سپریم لیڈر سے قریبی تعلقات ہوتے ہیں۔

پاسداران انقلاب کی اپنی بری، فضافی اور بحری افواج ہیں اور یہ ایران کے سٹریٹیجک ہتھیاروں کی نگرانی کرتے ہیں۔

فوج کے سینیئر کمانڈرز کو سپریم لیڈر تعینات کرتے ہیں جو اس کے کمانڈر اِن چیف بھی ہیں۔ یہ کمانڈر صرف انھیں جوابدہ ہیں۔

کابینہ

کابینہ کے ممبران یا وزرا کی کونسل کو صدر چنتے ہیں۔ انھیں پارلیمان کی منظوری حاصل کرنا ہوتی ہے اور پارلیمان وزرا کے خلاف مواخدہ بھی منظور کر سکتا ہے۔

کابینہ کی سربراہی صدر یا کابینہ کے امور کے ذمہ دار نائب صدر کرتے ہیں۔


ایران کے صدارتی انتخاب میں سب سے مضبوط امیدوار کون؟

ایران کے صدارتی انتخاب میں چار بڑے امیدوار ہیں:

اسٹیبلیشمنٹ کے پسندیدہ: ابراہیم رئیسی

ابراہیم رئیسی

Getty Images
ابراہیم رئیسی پر سنہ 2019 میں امریکہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی تھیں

چند سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ابراہیم رئیسی کے لیے منصب صدارت تک جانے کا راستہ صاف کیا گیا ہے۔

رئیسی ایرانی عدلیہ کے سربراہ ہیں اور سخت گیر نظریات کے حامی ہیں۔ اس کے بارے میں غالب قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی بلکہ ممکنہ طور پر ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے متوقع جانشین ہو سکتے ہیں۔

اُن کے ساتھ اس صدارتی انتخاب کی دوڑ میں کوئی دوسرا ایسا امیدوار نہیں جس کا اتنا اثر و رسوخ اور ایرانی معاشرے میں عزت ہو۔

انھوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز ملک میں معاشی مشکلات کے باعث پیدا ہونے والی ’مایوسی اور ناامیدی‘ سے نمٹنے کے وعدوں کے ساتھ کیا۔

ابراہیم رئیسی کو ایران کے قدامت پسند حلقوں میں وسیع حمایت حاصل ہے اور توقع ہے کہ دوسرے بڑے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی نامنظور ہونے کے بعد ان کی منصب صدارت تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ایران میں سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ابراہیم رئیسی نے عدلیہ کے شعبے کا انتخاب کیا تھا اور اپنے کریئر کے دوران وہ زیادہ تر وقت پراسیکیوٹر کے عہدے پر تعینات رہے تاہم اس دوران ان کے حوالے سے متعدد تنازعات بھی کھڑے ہوتے رہے۔

انھوں نے سنہ 1988 میں تہران کے اسلامی انقلاب کی عدالت کے ڈپٹی پراسیکیوٹر کے فرائض سرانجام دیے اور وہ سیاسی قیدیوں کو بڑے پیمانے پر پھانسی دینے والے ایک خصوصی کمیشن کا حصہ تھے۔

وہ مشہد میں شیعوں کے آٹھویں امام، امام رضا کے روضے آستانۂ قدسِ رضاوی کے نگران بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ماہرین کی اس طاقتور اسمبلی کے بھی رکن ہیں جو سپریم لیڈر کی تقرری اور انھیں ہٹانے کی ذمہ دار ہے۔


فوجی شخص: محسن رضائی

محسن رضائی

Getty Images
محسن رضائی نے تہران یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے

66 برس کے محسن رضائی سنہ 1981 میں پاسدران انقلاب کے کمانڈر مقرر ہوئے تھے اور 1980-88 کی ایران، عراق جنگ کے دوران انھوں نے پاسدران انقلاب سکیورٹی فورسز کی سربراہی کی۔

وہ تین بار صدر کی حیثیت میں الیکشن میں کھڑے ہو چکے ہیں اور وہ کبھی عوامی عہدے پر فائز نہیں ہوئے جبکہ سنہ 2000 میں وہ پارلیمنٹ میں منتخب ہونے کی کوشش میں بھی ناکام رہے تھے۔

انھیں ’بار بار الیکشن لڑنے والے امیدوار‘ کے طور پر بھی پکارا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران: انقلاب کے بعد اور اب

جواد ظریف کی لیک ہونے والی آڈیو ٹیپ میں پاسداران انقلاب پر شدید تنقید اور الزامات

قاسم سلیمانی کا جنازہ پڑھانے والے پاکستانی کون ہیں؟

قاسم سلیمانی: غریب گھرانے سے قدس فورس کی کمان تک

بہت سے لوگ ایران عراق جنگ کے دوران ان کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کے یہ فیصلے بہت سے فوجیوں کی ہلاکت اور طویل جنگ کی وجہ بنے تاہم محسن رضائی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

انھوں نے تہران یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔


اولڈ گارڈ کا حصہ: سعید جلیلی

سعید جلیلی

Getty Images
سعید جلیلی پہلے بھی صدارتی دوڑ میں حصہ لے چکے ہیں اور سنہ 2013 کے صدارتی انتخاب کے نتائج میں وہ تیسرے نمبر پر تھے

سعید جلیلی سنہ 2007-2013 کے دوران ایران کے چیف جوہری مذاکرات کار کی حیثیت سے مشہور ہوئے اور احمدی نژاد کے دور صدارت میں وہ نائب وزیر خارجہ بھی رہے۔

چونکہ انھیں براہ راست سپریم لیڈر خامنہ ای نے ہر اس عہدے پر فائز کیا جس پر وہ ابھی کام کر رہے ہیں تو نوجوان قدامت پسندوں میں انھیں ’پرانے محافظ‘ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سعید جلیلی کو ان کی ’فکری آزادی اور کرپشن میں کمی‘ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

وہ ایکسپیڈینسی کونسل (Expediency Council) کے ممبر کی حیثیت سے بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جو کسی بھی تنازعے میں پارلیمان اور گارڈین کونسل کے مابین ثالثی کراتا ہے۔

وہ ماضی میں بھی صدارتی دوڑ میں حصہ لے چکے ہیں اور سنہ 2013 کے صدارتی انتخاب کے نتائج میں وہ تیسرے نمبر پر تھے۔


واحد اصلاح پسند: محسن مہرالی زادہ

محسن مہرالی زادہ

Getty Images
محسن مہرالی زادہ اس الیکشن میں کھڑے ہونے والے واحد اصلاح پسند امیدوار ہیں

محسن مہرالی زادہ اس الیکشن میں کھڑے ہونے والے واحد اصلاح پسند امیدوار ہیں تاہم وہ ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے یہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔

ان کا نام ریفارمز فرنٹ کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔ ریفارمز فرنٹ، ریفارم کی حامی 27 سیاسی جماعتوں اور گروپوں کا اتحاد ہے، جس کے نو امیدواروں کو گارڈین کونسل نے نا اہل کردیا تھا۔

یہ واضح نہیں یہ کہ مسٹر مہرالی زادہ کو اس انتخاب کے لیے دوسرے اصلاح پسندوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں پسند کیا گیا تھا۔

آیت اللہ خامنہ ای کی مداخلت کے بعد سنہ 2005 کے صدارتی انتخاب میں محسن مہرالی زادہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی لیکن پھر سنہ 2016 کے پارلیمانی انتخابات میں کھڑے ہونے پر بھی ان پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔


ٹیکنوکریٹ: عبدالناصر ہیماتی

محسن مہرالی زادے

Getty Images
عبدالناصر ہیماتی

محسن مہرالی زادے کے علاوہ عبدالناصر ہیماتی وہ واحد غیر قدامت پسند امیدوار ہیں جو اس بار صدارت کے امیدوار ہیں۔

وہ ایک اعتدال پسند ٹیکنوکریٹ ہیں جو سنہ 2018 سے ایران کے مرکزی بینک کے گورنر کی حیثیت سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

صدر احمدی نژاد اور صدر روحانی کے دور حکومت میں نمایاں عہدوں پر ان کی تقرری کو ایران کے سیاسی دھڑوں کے مخالف ونگز کے ساتھ کام کرنے کی قابلیت کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔

انھیں ایران کی کرنسی کی قدر میں شدید کمی، ایران کے بینکنگ سیکٹر پر امریکی پابندیوں، جس میں مرکزی بینک پر پابندیاں بھی شامل تھیں، غیر مستحکم سٹاک ایکسچینج اور ایران کی منافع بخش کریپٹوکرنسی مارکیٹ سمیت کئی چیلینجز کا سامنا کرنا پڑا۔

عبدالناصر ہیماتی نے تہران یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور وہ وہاں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت میں پڑھاتے بھی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21709 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp