EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

شعیب سڈل رپورٹ سے پاکستان کو کیا خطرہ لاحق ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ کے حکم پر اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں قائم کردہ ایک رکنی کمیشن کی رپورٹ عدالت عالیہ کو پیش کی گئی۔ اس رپورٹ کے پہلے حصے میں سفارش کی گئی تھی کہ مختلف تدریسی جماعتوں کے کورس میں اسلامی تعلیمات پر مشتمل کورس صرف اسلامیات کی نصابی کتب میں شامل کیا جائے۔ اور دوسرے مضامین مثال کے طور پر اردو، انگریزی اور مطالعہ پاکستان کی کتب میں مذہبی مواد شامل نہ کیا جائے۔

جیسا کہ توقع تھی کئی حلقوں کی طرف سے اس رپورٹ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ پنجاب کے گورنر چوہدری سرور صاحب اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ صاحب نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ملک کی اکثریت ان سفارشات کو پسند نہیں کرے گی۔ متحدہ علما بورڈ کے صدر طاہر اشرفی صاحب ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ذمہ دار بھی بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں فرمایا کہ متحدہ علماء بورڈ اس رپورٹ کو مسترد کرتا ہے اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان سفارشات کو پیش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کی سفارشات پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کے خلاف ہیں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے کہا کہ ایک نصاب کے نام پر مغربیت اور لبرل ازم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک قدم اور آگے جا کر اس رپورٹ کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ اسے پاکستان کے آئین کے خلاف بھی قرار دیا۔

جہاں تک پنجاب کے گورنر اور سپیکر صاحب کے بیان کا تعلق ہے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس رپورٹ کا مقصد ملک کی اکثریت کو خوش کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے سلسلہ کو روکا جائے۔ اس لئے اس قسم کی رپورٹ پر یہ نکتہ اٹھانا کہ اس سے اکثریت ناراض ہو جائے گی ایک بے معنی بات تھی۔ طاہر اشرفی صاحب نے ان تجاویز کو پیش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تو کر دیا لیکن کس پاداش میں؟ آخر انہوں نے کیا جرم کیا ہے؟ کیا طاہر اشرفی صاحب کی رائے کے خلاف رائے کا اظہار کرنا جرم ہے؟ اور سراج الحق صاحب کا دعویٰ اور بھی خوب ہے۔ ان تجاویز میں آئین پاکستان کی کون سی شق کی مخالفت کی گئی ہے؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شعیب سڈل صاحب نے آئین پاکستان کی ایک شق کی بنیاد پر ہی اس تجویز کو پیش کیا ہے۔ آئین پاکستان کی شق 22 ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے :

"کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم پانے والے کسی شخص کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا کسی مذہبی تقریب میں حصہ لینے یا مذہبی عبادت میں شرکت کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، اگر ایسی تعلیم، تقریب یا عبادت کا تعلق اس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے ہو۔۔۔”

آئین کی یہ شق واضح ہے۔ کسی غیر مسلم طالب علم کو اسلامیات کے موضوع پر مواد پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ حکومت پورے ملک میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس حوالے سے جب اس نصاب کا جائزہ لیا گیا تو اس میں بہت سا ایسا مواد شامل تھا جس میں آئین کی اس شق کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔ قواعد کی رو سے صرف مسلمان طلبا کو لازمی طور پر اسلامیات کا مضمون پڑھنا پڑتا ہے۔ غیر مسلم طلبا کے لئے یہ مضمون پڑھنے کی پابندی نہیں ہے۔ لیکن اردو، انگریزی اور مطالعہ پاکستان کے مضامین تو سب طلبا کے لئے لازمی ہیں۔

اس کمیشن نے جب اس پہلو سے حکومت کے تجویز کئے ہوئے نصاب کا جائزہ لیا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ مذہبی مواد اردو، انگریزی اور مطالعہ پاکستان کی نصابی کتب میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مواد لازمی طور پرغیر مسلم طلبا کو بھی پڑھنا ہے۔ اور یہ پاکستان کے آئین کی شق 22 کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح یہ الزام تو بالکل بے بنیاد ہے کہ اس رپورٹ میں آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس رپورٹ نے اس بات کی نشاندہی کی ہے حکومت آئین پاکستان کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

اس کمیشن نے اپنی رپورٹ کو مرتب کرتے ہوئے وزارت تعلیم سے بھی رابطہ کیا۔ اور وزیر تعلیم محترم شفقت محمود صاحب اور سیکریٹری تعلیم محترمہ فرح خان صاحبہ سے بھی مدد لی۔ جب یہ مسئلہ وزارت تعلیم کے عہدیداروں کے سامنے پیش کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ ہم نے یہ ہدایت دی ہوئی ہے کہ جب اساتذہ اس قسم کا موضوع پڑھا رہے ہوں تو غیر مسلم طلبا کو مجبور نہ کریں کہ وہ ان اسباق کو لازمی طور پر پڑھیں۔

اس عذر پر کمیشن کا تبصرہ تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس ہدایت پر کس طرح عمل کیا جائے گا؟ اگر اردو یا انگریزی یا مطالعہ پاکستان پڑھاتے ہوئے کوئی مذہبی سبق آ جائے تو غیر مسلم طلبا کو کہا جائے کہ وہ کلاس روم سے باہر چلے جائیں تو یہ بذات خود ایک امتیازی سلوک ہوگا۔ اور اس سے اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبا کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے علاوہ امتحانات میں سوالات کا مسئلہ بھی ہے۔ اردو، انگریزی اور مطالعہ پاکستان کے امتحانی پرچوں میں اسلامیات کے موضوع پر اسباق سے بھی سوالات آ سکتے ہیں اور غیر مسلم طلبا کے لئے بھی ضروری ہوگا کہ وہ ان کے جوابات دیں۔ جبکہ آئین کی رو سے ان کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کی تعلیم حاصل کرنے کے پابند ہوں۔

اگر اس کا یہ حل پیش کیا جائے کہ غیر مسلم طلبا کے لئے علیحدہ سوالات دیے جائیں جو کہ اسلامیات کے اسباق سے تعلق نہ رکھتے ہوں تو یہ بھی ایک امتیازی سلوک ہوگا اور اس سے ممتحن کو بھی علم ہوجائے گا کہ وہ ایک غیر مسلم کا پرچہ چیک کر رہا ہے۔ اور اس بنا پر کوئی ممتحن کسی غیر مسلم طالب علم کے ساتھ امتیازی سلوک کر سکتا ہے۔

اس رپورٹ میں کئی معین مثالیں درج کی گئی ہیں کہ حکومت نے پورے ملک کے لئے جو یکساں نصاب تجویز کیا ہے اس میں اسلامیات کے علاوہ دوسرے مضامین کی نصابی کتب میں اسلامیات کے اسباق شامل ہیں۔ اور یہ تجویز دی ہے کہ ایسے اسباق کو دوسرے مضامین کی کتب سے نکال کر اسلامیات کی نصابی کتب میں شامل کر دیا جائے۔

 یہ ہے اس سفارش کا پس منظر۔ اور اس تجویز کو غیر آئینی اور پاکستانی کی نظریاتی بنیادوں کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس سفارش کی بنیاد آئین پاکستان کی ایک شق ہے۔ ان سب اعتراضات کو پڑھ کر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اگر ان کچھ سباق کو اردو، انگریزی اور مطالعہ پاکستان کی نصابی کتب سے نکال کر اسلامیات کی کتاب میں شامل کر دیا جائے تو اس سے پاکستان کو یا پاکستانی کی نظریاتی بنیادوں کو یا ملک کی اکثریت کو کیا خطرہ لاحق ہوجائے گا؟

اور یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آئین کی شق 22 بنیادی حقوق کے باب کا ایک حصہ ہے۔ اس باب کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: "مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو بایں طور عطا کردہ حقوق کو سلب یا کم کرے اور ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے اس خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہو گا۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے