پاکستان میں انتخابی اصلاحات۔ وقت کی اہم ضرورت
پاکستان میں 2013 میں پہلی بار ایک جمہوری حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔ جب کہ اس سے قبل 66 سالہ تاریخ میں ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ (اگرچہ 2013 سے قبل 2007 کی اسمبلی نے بھی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی لیکن اکثر ناقدین اور تجزیہ نگار اسے جمہوری عہد شمار نہیں کرتے ) ۔ کہا جا سکتا ہے کہ ایک دشوار، طویل، اور صبر آزما سفر کے بعد پاکستان میں جمہوریت صحیح راستے پر گامزن ہو گئی ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور انتخابی تاریخ میں یہ بات عہد ساز ہے کہ اب تیسری جمہوری حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کامیابی کے ساتھ پورا کرنے جا رہی ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بعض بنیادی کے نقائص کے باوجود یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم ایک بہترین جمہوری نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں آزادانہ اور شفاف الیکشن کے انعقاد پر توجہ دینی چاہیے تاکہ جو بھی حکومت آئے اسے مکمل عوامی تائید حاصل ہو اور وہ ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہو کر عوام کی فلاح و بہبود اور قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔
بانی پاکستان نے اپنی تقاریر، پیغامات، بیانات اور عمل سے ہمیشہ صاف و شفاف جمہوری نظام حکومت کے قیام پر زور دیا لیکن ہماری بدقسمتی ہے کے پاکستان میں ابتدا سے ہی جمہوریت نہ پنپ سکی۔ قیام پاکستان کے 23 سال بعد 1970 میں پہلی بار عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اب تک ہونے والے تمام انتخابات میں سے سب سے زیادہ شفاف اور آزادانہ انتخابات 1970 کے ہی تھے۔ اس سے ہمیں پاکستان میں انتخابی عمل کے غیر معیاری ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔
اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ دن بدن عوام کا انتخابی عمل سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ ایک کمزور انتخابی نظام کی وجہ سے دھاندلی کو کامیابی کی بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور دولتمند اشرافیہ نے انتخابات میں دھاندلی کے لئے منظم طریقے وضع کیے ہوئے ہیں اور اب دھاندلی نے ایک باقاعدہ سائنس کی شکل اختیار کر لی ہے۔
ہمارے سیاسی عمل میں دھاندلی تین مراحل میں وقوع پذیر ہوتی ہے
پولنگ کے دن سے پہلے
پولنگ کے دن
اور، بعد از پولنگ
ان میں دھاندلی کی بدترین شکل پولنگ کے دن دیکھنے میں آتی ہے۔ طاقتور اور دولتمند طبقے ہر طرح کی دھونس اور لالچ سے ووٹ خریدتے ہیں۔ جمہوریت میں ہر طبقے کو اس کی ذات، رنگ، نسل اور معاشرتی حیثیت سے مبرا ہو کر انتخابی عمل میں شامل ہونے کا موقع دیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے موجودہ انتخابی نظام میں پسماندہ اور ہر طرح کے حقوق سے محروم طبقات کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری آبادی کی اکثریت ناخواندہ ہے اور وہ صحیح طریقے سے اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے سے بھی قاصر ہے۔
لہذا بہت زیادہ تعداد میں ووٹ مسترد ہو جاتے ہیں اور اس سے الیکشن کے نتائج پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ہمارے موجودہ انتخابی نظام میں ووٹ کو صحیح یا غلط قرار دینے کا صوابدیدی اختیار پریذائیڈنگ افسر کے پاس ہوتا ہے۔ یہ صوابدیدی اختیار ایک امیدوار کی ہار یا جیت میں گہرا کردار ادا کرتا ہے اور انتخابی عمل کی شفافیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ہمارے موجودہ انتخابی طریقہ کار سے نہ صرف ناخواندہ طبقہ متاثر ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات انتہائی پڑھے لکھے افراد کو بھی اس نظام میں ووٹ ڈالنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس صورت حال کی ایک جھلک سینیٹ الیکشن اور پاکستان کی سب سے بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں ہونے والے انتخابات میں مسترد ہونے والے ووٹوں کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں کل مسترد ہونے والے ووٹ 8 تھے جبکہ جیتنے والے امیدوار کا دوسرے امیدوار سے فرق مسترد ہونے والے ووٹوں سے کم تھا۔
یہی صورتحال پاکستان کی سب سے بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں صدر کے انتخاب میں دیکھنے میں آئی جہاں ہارنے والے امیدوار کے مسترد شدہ ووٹوں نے دوسرے امیدوار کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ یہاں اہم ترین بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں مثالوں میں تمام ووٹر انتہائی پڑھے لکھے، اپنے اپنے شعبے کے ماہر اور تجربہ کار تھے۔
ایسی صورتحال میں نا خواندہ، پسماندہ اور پسے ہوئے طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد سے صحیح انداز میں ووٹ ڈالنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ 2013 کے انتخابات میں 35 ہلکے ایسے تھے جہاں ہارنے والے امیدوار کے مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد ان ووٹوں سے زیادہ تھی جس فرق سے دوسرا امیدوار جیتا تھا اسی طرح 2018 کے الیکشن میں 30 ہلکے ایسے تھے جہاں جیتنے والے امیدوار کا ہارنے والے امیدوار سے ووٹوں کا فرق مسترد شدہ ووٹوں سے کم تھا۔
اسی وجہ سے عام انتخابات میں ٹرن آؤٹ کم رہا۔ اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ عام آدمی کا انتخابات اور پورے انتخابی عمل سے یقین اٹھ گیا ہے اور انتخابات کے حوالے سے یہ بات لوگوں میں یقین کی حد تک سرایت کر گئی ہے کہ ہر چیز پہلے سے طے ہوتی ہے لہذا ووٹ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس سوچ سے دو نتائج سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ لوگ ووٹ ڈالنے کو ایک بے مقصد اور غیر ضروری کام سمجھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اس سے پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ملک و قوم کے لئے ضرر رساں صورتحال یہ پیدا ہوتی ہے کہ ہر الیکشن کے بعد اپوزیشن، حکومت پر دھاندلی کا الزام لگاتی ہے اور پھر حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار کرتے ہیں اور یوں دونوں طرف سے الزامات کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔
جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کے باوجود یہ سب کچھ ہمارے ہاں معمول بن چکا ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کا تمام زور اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے پر ہوتا ہے جبکہ اپوزیشن اس بات کا کا ڈھنڈورا پیٹتی رہتی ہے کہ عوام کا حق رائے دہی چوری کر لیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے اور اس کا خاتمہ صرف اور صرف انتخابی اصلاحات سے ہی ممکن ہے۔ انتخابی اصلاحات کئی پہلوؤں پر مشتمل ہیں جن میں مندرجہ ذیل بنیادی اہمیت کے اقدام ہیں۔ جیسے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال اور آزادانہ اور غیرجانبدارانہ مردم شماری وغیرہ۔
ہمیں اس حوالے سے اپنے کام کا آغاز انتخابی طریقہ کار میں تبدیلی سے کرنا چاہیے جیسے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال۔ دیگر ممالک میں ان مشینوں کے استعمال کا تجربہ کامیاب رہا ہے لہذا ہمیں اپنے ملک میں انہیں متعارف کرانا چاہیے۔ اس سے ہماری عوام کا انتخابی عمل کی صحت پر اعتماد بڑھے گا۔ لوگ جذبے اور شوق کے ساتھ انتخابی عمل میں شامل ہوں گے جس سے لازماً ٹرن آؤٹ بھی بڑھے گا اور عوام میں یہ یقین پیدا ہوگا کہ ان کے ووٹ ضائع نہیں جائیں گے۔
اس سے ان کو اپنے ووٹ کی اہمیت کا بھی اندازہ ہو گا اور اس طرح بتدریج انتخابی عمل میں ان کی دلچسپی بڑھنا شروع ہو جائے گی۔ اس سے مسترد ہونے کی صورت میں ووٹوں کے ضائع ہونے کے مسئلہ کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی اور وہ مسائل جو ووٹوں کے مسترد ہونے کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں ان سے بھی نجات ملنا شروع ہو جائے گی۔ پاکستان کو ایک صحیح جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات انتخابی عمل میں شامل ہوں ہو اور یہ صرف انتخابی عمل میں لازمی اور بنیادی تبدیلیاں لانے سے ہی ممکن ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے پر الزامات اور اعتراضات کی بجائے پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے بلند مقصد کی خاطر مل بیٹھیں۔ سالہاسال گزر چکے ہیں ان گنت وعدے بھی کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ تاہم موجودہ حکومت نے انتخابی اصلاحات کا وعدہ کیا ہے اور الیکشن ایکٹ 2017 میں 62 ترمیمات کے ساتھ بل پیش کیا ہے جو کہ قومی اسمبلی سے پاس ہو کر سینٹ میں چلا گیا ہے۔ اس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال بھی شامل ہے۔ لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس بل کی 62 میں سے 28 شقوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا اندازہ تو آئندہ دنوں میں ہوگا۔
یہاں اس بات کی طرف توجہ دینا انتہائی ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر طبقے کو بھی انتخابی اصلاحات کے لیے لازم اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا، دانشوروں، سکالرز، ماہرین تعلیم، کالج و یونیورسٹی کے اساتذہ اور دینی رہنماؤں کو خاص طور پر معاشرے کو باشعور بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں پر انتخابی اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
یہ کوشش کس حد تک ثمر آور ثابت ہوگی اس کا اندازہ تو آنے والے وقت سے ہوگا۔ لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ پاکستان کے انتخابی نظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بہرحال ہم امید کرتے ہیں کہ پرامن انتقال اقتدار اور انتخابی اصلاحات پاکستان میں ایک حقیقی جمہوری کلچر کے فروغ میں انتہائی معاون ثابت ہوں گے اور ہم یہاں آنے والے دنوں میں حقیقی جمہوریت کا مشاہدہ کر سکیں گے۔


