اللہ تمہارا ہے
رات کے مدھم سائے خاموشیوں کی پناہ میں اداسی کو لپیٹے بلند ہونے لگیں تو جی میں آنے والے خواہش کے جھرنے کسی تند آندھی سے گرنے والے پتھر کی بدولت راستہ روک لیتے ہیں۔ حیا و پاسداری کی نوید کسی درخت کی کھوہ میں بسیرا کر لیتی ہے، الفاظ کھو جاتے ہیں، اداسیاں لمبی تانے سو جاتی ہیں، دنیا میں زندگی اور رشتے ایک چلتی پھرتی چھایا کے سوا کچھ نہیں، انسان کہاں سے چلتا ہے کہاں پہنچتا ہے، کہیں اپنا وجود خاک کر لیتا ہے کہ اس میں خوبصورتی کا عنصر کھو جاتا ہے، خاک پر خاک پڑتی رہے تو خاک میں سے رائی کے برابر ہیرے کو چننا ناممکن ہو جاتا ہے۔
انسان چاہت کی امید میں اپنا آپ کھو دیتا ہے، کسی منڈیر پر دھوپ کی تیزی میں اپنا آپ جلاتا ہے، مارتا ہے، روز اٹھتا ہے روز جھکتا ہے، روز جیتا ہے روز مرتا ہے لیکن اس اجڑی داستان میں کوئی اس کا ہمنوا نہیں ہوتا، زر سے بڑھ کر گھر کسی کو عزیز نہیں رہتا، رشتوں میں پامالی کی صدا چیخوں کی مانند گونجتی ہے، ڈھلتا انسان دیوانگی میں بھاگتا ہے کہ کہیں اس سے چھٹکارا حاصل کر لے، لیکن جب رشتوں میں دراڑ ہی نہیں دیوار پڑ جائے تو وہ ٹوٹتی نہیں، اسے غلط فہمیوں کا رنگ مزید مضبوط کر دیتا ہے۔
دیکھنے والا دیکھتا ہے، سننے والا سنتا ہے، سوچنے والا سوچتا ہے لیکن خود کو مار کر مرنے والے پر جو بیتی ہے وہ کوئی نہیں جانتا۔ وہ لمحے میں مرتا ہے، خواب نگر سے آگے مردار نگر کو دیکھ کر واپس آتا ہے، اس دنیا میں جینا نہیں چاہتا لیکن جیتا ہے، جانا چاہتا ہے لیکن رکتا ہے، کوئی کب سمجھتا ہے کوئی کب جانتا ہے کون کس کشمکش کی کنڈلی میں روز پھنستا ہے روز نکلتا ہے، اور دوبارہ سانس بحال کرنے کے بھی قابل نہیں رہتا!
تکلیف بدنی ہو یا باطنی تکلیف ہوتی ہے۔ آنسوؤں میں چھپی داستان کوئی پڑھ نہیں سکتا، اس کی کہانی کو کھول نہیں سکتا، اس کی رمز سے واقف نہیں ہو سکتا۔ جہاں دل پر غم کو بند کیے قفل پڑ جائے تو تنہائی کی چابی اسے کھولتی ہے۔ رب کے سامنے۔ ایسی جگہ جہاں آنسو دھتکارے نہیں جاتے، جہاں سننے سے قبل خاموش نہیں کروا دیا جاتا۔ جہاں اس کے ہونے نہ ہونے کو برابر پلڑے میں نہیں تولا جاتا۔ جہاں صبر کا استقلال قائم رکھا جاتا ہے! جہاں اپنے ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے! جہاں یقین دلایا جاتا ہے کہ تیرا کوئی نہیں تو میں ہوں! پھر روداد سنائی جاتی ہے کہ یہ سب تو ایک آزمائش ہے کہ کیا تم نے نہیں جانا! اپنے کب اپنے رہے ہیں۔ یہ تو ایک راستے کے مسافر ہیں۔ سو غمگین نہ رہو۔ تم تنہا ہونے والے نہیں۔
اور اگر تم تنہا ہو تو کیا یہ تنہائی تمہیں مجھ سے نہیں جوڑتی۔ لیکن بس اطمینان رکھو کہ جس نے اللہ پر یقین رکھا۔ اللہ اس کے لئے کافی ہے! یہ دنیا کی زندگی تو ایک روز ختم ہو جانے کے لئے ہے لیکن تمہارا وصف، تمہارا صبر، تمھاری بندگی، تمہاری محبت، تمہارا ظرف تمہیں اللہ سے ملوا دے گا۔ پس مجھ سے ملنے کا یقین رکھو کہ یہ دنیا تو محض ایک کھیل تماشا ہے۔ تمہیں اپنے رب کے لئے جینا ہے، اور جیتے رہنا ہے۔ اس امید پر کہ تم اس سے خاص ہو کر خالص ہو کر ملو گے۔ تمھاری آنکھیں جگنوؤں سے جگمگا اٹھیں گی۔ تم بیگانے نہ رہو گے۔ جب اس دنیا کو تم اللہ کے توسط سے جانو گے، چاہو گے، پاؤ گے، پرکھو گے تو ایک آواز تمہاری سانسیں سہل کرنے کو کافی ہوگی۔ ”اللہ ہے“ ۔ ”اللہ تمہارا ہے“ ۔

