موت کے نام ایک خط!


میں نہیں جانتی کہ تمہیں کس طرح مخاطب کروں۔ جہاں زندگی سے عشق ہو وہاں تمہارا خیال بھی دہشت طاری کرتا ہے اور جہاں زندگی گلے کا طوق بن جاتی ہو وہاں میں نے لوگوں کو تمہاری خواہش کرتے بھی دیکھا ہے۔ خواہش جب خودبخود پوری نہ ہو رہی ہو تو خود تمہیں خود پر طاری کرتے دیکھا ہے۔ خود کشی کرتے دیکھا ہے!

تم میرے نزدیک ہمیشہ سے ایک سوال رہی ہو۔ پل بھر میں کیسے جیتے جسموں کو ٹھنڈا گوشت بنا دیتی ہو اتنا بے بس کر دیتی ہو کہ وہی ہاتھ تھامنے والے اس ٹھنڈے جسم پر منوں مٹی ڈال کر چلتے بنتے ہیں۔ جو ذرا ذرا چوٹ پر سہارا بنتے تھے اب وہ چتا جلاتے دکھتے ہیں۔ کون ہو تم آخر؟ کہیں لمحہ بھر کا ایک حادثہ بن کر آتی ہو اور جسم و روح کے ناتے کو کاٹ کھاتی ہو تو کہیں تم زندگی کے جنم کے ساتھ ہی جنم لے لیتی ہو اور کسی کی ہر سانس کے ساتھ اس کی اذیت کا سامان کرتی ہو اور جو زندگی اس میں پنپنے لگتی ہو اس کو ساتھ ساتھ نچوڑنے لگتی ہو۔

دیکھو۔ تمہارا اور زندگی کا تعلق بھی کتنا عجیب ہے ناں! زندگی تمہارے خوف سے سہمی رہتی ہے اور تم زندگی سے کبھی نہیں ڈرتی۔ کیسے دھڑلے سے آ جاتی ہو! کسی ڈاکو کی طرح توقعات کے قلعے کی دیواریں پھلانگ آتی ہو اور جہاں روح نچوڑ لے جاتی ہو وہیں خوشیاں اور امیدیں بھی اپنے سامان میں باندھ لیتی ہو۔

میں نے سمجھا تھا کہ سوال کے جنم لینے کی دیر ہوتی ہے۔ جواب تو پہلے موجود ہوتا ہے مگر تم تو ان گنت صدیوں سے ایک حقیقت ہو اور ہر ذہن کا سوال۔ آخر تمہارا جواب کدھر ہے؟ کون ہو تم آخر؟ کیسے اتنا حوصلہ ہے تم میں کہ کسی کو ساتھ گھسیٹ لے جاتی ہو اور کئی اوروں کے حوصلے توڑ جاتی ہو۔

تمہارا تذکرہ ہو تو لوگ فقط جسم کی موت کی بات کرتے ہیں کہ ساکن جسم، ٹھنڈا جسم۔ مردہ جسم ہوتا ہے اور تمہارے طاری ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔ جانے کیوں کوئی اس موت کی بات نہیں کرتا جو ہر دوسرے شخص کو زندگی کے دوران آ جاتی ہے۔ جسم نہ تو ٹھنڈا پڑتا ہے اور نہ ہی ساکن ہوتا ہے مگر روح ساکن ہوتی ہے۔ جسم بیرونی تبدیلیوں کے ساتھ سفر طے کرتا جاتا ہے مگر روح کہیں اٹک کر رہ جاتی ہے۔ کیا یہ بھی موت نہیں؟ کیا یہ بھی تم نہیں؟

جہاں تم اتنی طاقتور اور بلند حوصلہ دکھتی ہو کہ جہاں طاری ہو جاؤ وہاں زندگی ختم۔ وہیں تمہاری کچھ غلطیاں بھی ہیں۔ شاید تم اپنا کام بخوبی نہیں کر پاتی۔ جب تم روح اور جسم کے تعلق کو کاٹ کھاتی ہو اور بخوبی زندگی کا صفایا کرتی ہو۔ وہیں تم مجھ جیسوں کی بھی آدھی روح قبض کر لے جاتی ہو۔ تمہیں خبر نہیں ہوتی۔ تم جب ایک کو مرحوم بناتی ہو ناں۔ تو ہم سے بہتوں کو نیم مرحوم کر جاتی ہو۔ ہم زندوں کو بھی آدھا خالی کر جاتی ہو اور جس کو پورا خالی کیا ہوتا ہے۔

جس کی جان نچوڑی ہوتی ہے اس کا بہت سا سامان ساتھ لے جانا بھول جاتی ہو۔ اس کی یادیں، اس کی باتیں وغیرہ۔ اور جو خالی پن ہم نیم مرحوم لوگوں میں ہوتا ہے اس میں اس مرحوم کا بچا سامان جگہ کر جاتا ہے اور ہم تڑپتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ہم تو زندہ ہیں ناں ابھی اور تم تو ابھی ہم پر طاری نہیں ہوئی تو پھر کیوں ہم پر یہ ظلم کرتی ہو؟ دیکھو اپنا کام پوری طرح کیا کرو۔ جس کو ساتھ لے جانے آئی ہو مکمل طور پر ساتھ لے جایا کرو۔ اس کے ٹکڑے جو تم یہاں بھول جاتی ہو وہ ہمیں جینے نہیں دیتے۔ غلطی تم سے ہوتی ہے اور تڑپتے ہم رہ جاتے ہیں!

Facebook Comments HS