عرفان حق اور معرکہ خرد و جنوں

اللہ تبارک و تعالٰی نے انسان کو عقل و فکر، نطق و بیان اور جذبات و احساسات کی صلاحیتوں سے مالا مال فرما کر باقی مخلوقات سے ممیز کر کے اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز فرمایا۔ ظاہر ہے کہ یہ صلاحیتیں کسی خاص انسانی گروہ یا نسل کا امتیاز نہیں ہیں، بلکہ یہ کسی بھی تفریق کے بغیر انسانیت کو بالمجموع عطا فرمائی گئیں ہیں۔ ان صلاحیتوں سے نسل و رنگ یا جغرافیہ و وطن کی بنیاد پر کسی بھی انسانی جماعت کو محروم نہیں رکھا گیا ہے۔ انسانیت کے اس متحدہ شرف کو قرآن مقدس نے بار بار دہرا کر ایک اہم سبق کے طور پر ہر انسان کے ذہن نشین کیا ہے :

”یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔“ (بنی اسرائیل: 70 )

یہاں یہ بات بالکل واضح ہے کہ انسانیت کو یہ فضیلت اور شرف بلا کسی تخصیص کے عطا ہوا ہے۔ اللہ تعالٰی کی اس عطا میں انسان کے عقیدے کو دخل ہے اور نا ہی اس کے نظریہ زندگی کو! حتی کہ یہ بنیادی انسانی صلاحیتیں خدا کے باغیوں اور سرکشوں کو بھی دی جاتی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ خدا کے باغی اور سرکش ان صلاحیتوں کو اپنی بڑائی کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان پر اترانے لگتے ہیں اور ان کا ناحق استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ انسان ان صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے عرفان ذات کے ساتھ ساتھ عرفان حق کی منزل بھی پا لیتا!

انسان کو جو عقل و شعور سے نوازا گیا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ ہر معاملے اور ہر بات میں متکلم اور مخاطب کے درمیان شائستگی اور سنجیدگی کا ماحول برقرار رکھنے کی بھر پور کوشش کی جائے۔ متکلم پر خاص کر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کی طرف سے سامع کو کسی بھی صورت میں دل آزاری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس لئے ہر گفتگو کرنے والے کو نہ صرف موزوں ترین الفاظ کا استعمال کرنا پڑتا ہے بلکہ اسے طرز تکلم میں بھی متانت کی ایک خاص سطح اختیار کرنا پڑتی ہے تاکہ گفتگو اور کلام کسی منفی رد عمل کا باعث نہ بن جائے۔

چونکہ حق کی ترویج و اشاعت ایک نہایت ہی حساس معاملہ ہوتا ہے، جس میں متکلم (داعی) اور سامع (مدعو) دونوں کے جذبات اور احساسات شامل ہو جاتے ہیں، اس لئے یہاں پر اگر حکمت اور دانائی کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو رد عمل کی ایک ایسی فضا پیدا ہو سکتی ہے جو پورے ماحول کو بگاڑ کر بین الانسانی رشتوں اور تعلقات کو ایک ناقابل تلافی نقصان کا شکار کر سکتا ہے۔ اس لئے قرآن نے خطاب کا ایک ایسا انداز اپنایا ہے جو کسی بھی انسان کو پوری انسانی برادری کا ایک باوقار فرد تسلیم کرتا ہے۔ اس طرح اللہ کی ہدایت پوری انسانیت کی متاع اور میراث کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان کو ہدایت سے سرفراز کرنے کے لئے داعی کو ترغیب اور تشویق سے کام نہیں لینا چاہیے۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ انسانی شخصیت میں موجود جذبات اور احساسات جیسے داعیات اسے کئی ایک مفید کام سرانجام دینے کے لئے ابھارتے ہیں، جن کے بارے میں عقل بہت دیر تک تذبذب کا شکار رہتی ہے اور بہت جلد کسی فیصلہ کن مرحلے پر نہیں پہنچ پاتی۔ ظاہر ہے کہ جذبات اور احساسات بھی ایسی صلاحیتیں ہیں جو انسانی فیصلوں پر اثر انداز بھی ہوتی ہیں اور ان کو متاثر بھی کرتی ہیں اور متحرک بھی۔

اور تو اور یہ کبھی کبھی عقل کے فیصلوں کے لئے مہمیز کا کام بھی کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ کیتھارسس، جسے ارسطو نے جذبات، خاص کر ڈر اور رحم کی تطہیر کا عمل کہا ہے، سے دل پگھل جاتے ہیں اور انسان کوئی بڑا کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے یا اس کا دل کسی ایسی بات کی طرف مائل ہوتا ہے جس سے اس کی زندگی کا رخ ہی بدل جاتا ہے۔ اس طرح جذبات کے متاثر ہونے سے انسان کی پوری روحانی اور نظریاتی زندگی کا کایا کلپ ہوجاتا ہے۔ تاہم تصورات کی یہ تبدیلی اگرچہ ایک خاص مقام پر ظاہر ہوتی ہے، جسے نجی زندگی کے لئے ٹرننگ پوائنٹ اور اجتماعی زندگی کے لئے واٹر شیڈ مومنٹ کہا جاسکتا ہے، نظریات کی کشمکش میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ منطقی نقطہ نظر کے حامی ایسے فیصلوں کو جذباتیت سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن یہ دراصل عقل اور دل (جذبات) کی کشمکش ہوتی ہے جہاں دل بحر زیست میں پہلی چھلانگ لگاتا ہے اور غواص بنکر لعل و گہر تلاش کرتا جن کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے کے لئے یہی دل پھر عقل سے کام لیتا ہے! یعنی:

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

ذوق اور ادراک کے اس معرکے کو تاریخ عالم نے بار بار دیکھا ہے۔ جب بھی انسانیت نے بالعموم اور کسی انسانی معاشرے نے بالخصوص اپنی فلاح و نجات کی راہ گم کردی اس وقت انسانیت کے گل ہائے سر سبد نے عقل و ادراک کی باگیں عشق و ذوق کے ہاتھوں میں تھما کر خود اپنی کامرانی کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کی فوز و فلاح کا بھی سامان کیا جس کے وہ جزو لاینفک تھے۔

یہاں پر یہ بات واضح رہے کہ یہ پاک نفوس کسی صورت جذبات کی رو میں بہہ جانے والے نہیں ہوتے ہیں، بلکہ ان کا فیصلہ جنوں و خرد کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہوتا ہے جہاں جنوں کی کارفرمائی کچھ زیادہ ہوتی ہے، یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ ”جنوں کا نام خرد پڑتا ہے!“ اگر ایسا نہ ہو تو کیوں کر عقلمند یہود کے بجائے سیدھے سادے مچھیرے مسیح (ع) کے ساتھی بنکر وسیع و عریض دنیا میں پھیل کر ”انصار اللہ“ کا خطاب پاتے؟ عمر (رض) عقل سے پوچھ کر اسلام کی ابھرتی تحریک کا قلع قمع کرنے نکلے تھے، لیکن بہن کی اسلام کے ساتھ والہانہ وابستگی دیکھ کر ان کا دل (جذبات) کچھ اس طرح پسیج گیا کہ رسالت مآب (ص) کے دست مبارک پر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔

مطلب یہی ہے کہ فیصلہ عقل نے کیا، لیکن دل نے عقل کے در کو وا کیا! شاید یہی وجہ ہے کہ ابن خلدون جیسے فلسفی، جو تاریخ فلسفہ کی منطقی تعبیر و تشریح کرنے کے روادار رہے ہیں، نے بھی بلا کسی جھجک کے یہ اعلان کیا ہے کہ نظریات اور عقائد کے معاملات میں جب تک نہ انسان کا دل کسی بات پر ٹھک جائے، تب تک کسی خاطر خواہ تبدیلی کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ یعنی:

ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے

تاہم انسانی شخصیت پر جذبات کی اس حیران کن کارفرمائی کے علی الرغم انسان کسی بھی صورت میں اپنی عقل کو معطل نہیں رکھ سکتا۔ یہ بات اس لئے بھی کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ عقل انسان کا بہت بڑا امتیاز اور شرف ہے۔ اللہ تعالٰی نے انسان کی تخلیق فرما کر جہاں اسے سماعت، بصارت، نطق اور دیگر صلاحیتوں سے نوازا ہے وہاں فکر و خیال کی ایسی قابلیت ودیعت کی ہے جو اسے باقی مخلوقات میں ایک خاص مقام عطا کرتی ہے۔ فکر و فہم کی اسی صلاحیت کا نتیجہ ہے کہ انسان نہ صرف اپنے وجود پر غور و فکر کرنے کے قابل ہوجاتا ہے بلکہ وہ کائنات کے اسرار و غوامض کی تہہ تک بھی پہنچنے کی تگ و دو کرتا ہے۔

اس سمت میں انسان نئے نتائج تبھی اخذ کر سکتا ہے جب اسے فکر کی مکمل آزادی حاصل ہو، تاکہ راہ علم میں پوری کائنات اس کی فکر کی جولانیوں کا ہدف بنی رہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ فکر کی یہ آزادی بسا اوقات انسان کو غلط نتائج تک پہنچا دیتی ہے، لیکن اگر فکر کی اس حریت پر قدغن لگادی جائے تو انسان فکری جمود کا شکار ہو سکتا ہے اور علم کی راہیں محدود ہی نہیں بلکہ مسدود ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن رشد و ہدایت کی نشان دہی کر کے اس کے انتخاب کو انسانی استصواب پر چھوڑ دیتا ہے، کیوں کہ حق کی آواز تب تک انسانی معاشرے میں کوئی دیرپا تبدیلی پیدا نہیں کر سکتی جب تک وہ انسانی فکر کو نہ جھنجھوڑے۔ فکر کی اس حریت کو قرآن نے بار بار ابھارا ہے، جیسے : ”ہم نے اسے (یعنی انسان کو) راہ دکھائی، اب خواہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا۔“ (الدھر)

حریت فکر کے ساتھ ساتھ قرآن نے انسان کی ضمیر کی آزادی کا بھی اعلان کیا ہے۔ یعنی قرآن حق کی توضیح و تشریح کا خوب انتظام کرتا ہے، تاکہ انسان اپنے ضمیر میں موجود ”فجور اور تقوی“ کو پرکھنے کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے خود اپنے عقیدے کا انتخاب کرے۔ دراصل خدا بندوں سے اور ان کو عطا کی ہوئی صلاحیتوں سے خوب واقف ہے۔ اس لئے جب قرآن کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے تو انسان پر جبر و اکراہ کی کوئی ضرورت اور گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہاں پر بھی اسے عقل و دل دونوں سے فیصلہ مانگنا ہوتا ہے۔

اسی طرح نیک و بد، خیر و شر اور معروف و منکر کا شعور ہر انسان کو بلا کسی تفریق کے ہوتا ہے۔ انسان کسی بھی خطے میں سکونت پذیر ہو، اس کا تعلق کسی بھی نسل سے ہو، اس کی رنگت کیسی بھی ہو اور وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو، وہ نیکی اور بدی میں بآسانی امتیاز کرتا ہے اور عمومی طور پر نیک راہ اختیار کر کے نیک مقصد تک پہنچنے کی سعی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اچھی چیز اور اچھے رویے کو ”معروف“ سے تعبیر کرتا ہے اور اس پر ابھارتا ہے، جبکہ بری چیز اور برے رویے کو ”منکر“ سے تعبیر کرتا ہے اور اس سے روکتا ہے۔ اگرچہ عقل گناہ کی پہچان بخوبی کر سکتی ہے لیکن دل ایک ایسا دربان ہے جو منکر کو نہ صرف پہچان لیتا ہے بلکہ اس کو انسانی وجود میں سرایت کرنے سے روکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسالت مآت (ص) نے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ”تقوی یہاں ہے!“

اللہ تعالٰی کے دین کا انسانی معاشرے کی ابتدائی منازل، جنہیں شاہ ولی اللہ دہلوی نے ارتفاقات سے تعبیر کیا ہے، سے ہی ایک خاص مقصد یہ رہا ہے کہ انسانی معاشرت کی تعمیر عدل و قسط کے اصولوں پر ہو۔ اس سلسلے میں انبیائی تعلیمات میں عدل و انصاف کے قیام کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ حتی کہ انبیاء (ع) کو یہ بات باور کرائی گئی کہ ان کے ہاتھوں بھی کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے۔ حتی کہ نبی (ص) کو خطاب کر کے فرمایا گیا کہ ”آپ خیانت کرنے والوں کے حامی نہ بنیں۔“ (النساء: 105 ) ظاہر ہے کہ ایسا تبھی ممکن ہے جب انسان عقل سلیم کے ساتھ ساتھ قلب سلیم کا بھی حامل ہو۔

قرآن رواداری اور انسانی بھائی چارے کی تعلیمات سے پر ہے۔ مثال کے طور پر جہاں قرآن کو سراسر نور کہا گیا ہے وہاں تورات اور انجیل دونوں کے متعلق یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ان میں ”ہدایت اور نور ہے۔“ (المائدہ) جہاں تک اس نور کا تعلق ہے تو یہ دل کی راہ سے ہی عقل کو منور کرتا ہے۔

اس طرح واضح ہوتا ہے کہ خالق کائنات نے انسان کو نہ صرف جسمانی لحاظ سے ایک بہترین ساخت (احسن التقویم) عطا کی بلکہ اسے سماعت، بصارت اور نطق کی صلاحیتوں سے نواز کر علم حاصل کرنے کے وافر ذرائع مہیا فرمائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے واقعی انسان کی تکریم اور عزت افزائی فرمائی۔ اللہ تعالٰی کی طرف سے ملنے والی ہدایت یعنی دین ایک طرف ان صلاحیتوں کا محافظ ہے تو دوسری طرف یہی صلاحیتیں انسان کو دین کا مکلف بناتی ہیں۔

ظاہر ہے کہ دین ان میں سے کسی بھی صلاحیت کو دبانے اور جمود کا شکار کرنے کا روادار نہیں ہے۔ اس لئے انہی صلاحیتوں کے توسط سے انسان دنیا میں کارفرما حقائق کو سمجھتا ہے اور بالآخر اصلی حقیقت یعنی ذات خداوندی تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن کی ہمہ جہت تعلیم ان ہی صلاحیتوں کی تحفیظ کا ربانی اعلان ہے جو انسان کی مجموعی تکریم کو برقرار رکھتا ہے، جس میں عقل و دل کی اہمیت یکساں ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words