ضرورتوں کا خدا تو ہے، تو فقیر ہم بھی نہیں
طلب کرتی ہے طالب کو جدا مطلوب سے یارو
وہ خود مطلوب ہوتا ہے طلب سے جو گزرتا ہے
میں قرآن کو پڑھ تو سکتا ہوں مگر سمجھ نہیں آ سکی۔ عربی زبان میں بڑی وسعت ہے اور عربی کو ہم اس علاقہ کے مسلمان تفسیر کے ذریعے سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ عربی زبان کے ایک بڑے صاحب قلم کی ایک تحریر کا ترجمہ دیکھا جو کسی حد تک سمجھ میں بھی آیا وہ درج کرتا ہوں۔
انسان چار قسم کے ہیں۔
پہلا وہ جو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ بس وہ جانتا ہے۔
یہ عالم ہے اس سے سوال کیا کرو۔
دوسرا بندہ۔ وہ جو جانتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ بھی جانتا ہے۔ یہ بھولا ہوا ہے اسے یاد دلاؤ۔
تیسرا۔ وہ نہیں جانتا۔ یہ جاہل ہے اسے علم سکھلاؤ۔
چوتھا۔ وہ ہے۔ وہ جو نہیں جانتا اور وہ نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا۔ یہ احمق ہے اس سے دور رہوں۔
میں اپنا شمار کس طرح کی مخلوق میں کروں مجھے کچھ بھی معلوم نہیں۔ مگر میں نہیں جانتا اور لاحاصل سے حاصل ضرور چاہتا ہوں۔
حالیہ دنوں میں ایک صاحب شوق ممبر قومی اسمبلی نے بڑے تکبر سے فرمایا کہ بدکلامی ان کی تہذیب کی پہچانیے اور ان کو اپنی زبان کا بڑا مان بھی ہے۔ اگر کوئی ان سے مکالمہ کرے تو ان کو یہ بھی پسند نہیں۔ ان کی اپنی جماعت ان کو باکردار نہیں مانتی مگر یہ سیاست ہے، ڈرامہ ہے، کھیل ہے اور جمہوریت کا ترانہ ہے۔ آج کل ہماری قومی اسمبلی میں نجیب الطرفین اشرافیہ کے بڑے لوگ بڑی چھوٹی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ وہ جنتا میں مقبول و مشہور ہیں۔ جمہوریت اس لئے قابل اعتبار نہیں کہ جھوٹ اگر بہت یقین سے بولا جائے تو سب شانت رہتے ہیں۔ جھوٹ پسند بھی کیا جاتا ہے اور اس کو بڑے مثبت انداز میں پھیلایا بھی جاتا ہے۔ دیکھیں ہماری ایک سیاسی جماعت کا نعرہ اور منشور۔ ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ اب ذرا سوچیں کہ انتقام کیا ہے اور کیا انتقام کے فعل کو پسند کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ بھی بہت مقبول جملہ ہے، انتقامی سیاست جاری ہے، یہ سب کچھ ہماری جمہوریت کا حسن بھی ہے مگر کمال کا حسن ہے جو ذرا بھر بھی حسین نہیں ہے۔
پاکستان کی سیاست اور جمہوریت میں خدا تو بہت ہیں۔ مگر قسمت کے ماٹھے عوام کے لئے کوئی بھی ناخدا نہیں۔
جو امین جمال یزداں ہیں
ان خداؤں نے مل کر لوٹ لیا
بے بس اور لاچار جنتا سب سے زیادہ خداؤں سے ڈرتی ہے۔ خدا اور رب میں بڑا فرق ہے کمال یہ ہے کہ بڑے بڑے لوگ، دانشور، صاحب شرف اور صاحب کمال لوگ خدا کا روپ تو بنا لیتے ہیں مگر محتاج کرم رب کے رہتے ہیں۔ رب عربی لفظ ہے جس کا مطلب پالن ہار ہے جبکہ خدا ایک فارسی لفظ ہے جو بظاہر رب اور اللہ کا فارسی میں نعم البدل ہے عمومی طور پر خدا کا ورد اتنا پسندیدہ نہیں ہے جبکہ اللہ کا ورد کا حاصل بہت زیادہ ہے۔ اللہ پیدا کرنے والا ہے اور رب پالنے والا ہے۔ یہ دونوں الفاظ ایک حقیقت کے بارے میں لکھے جاتے ہیں۔ بات میں ناخدا کا ذکر ہوا تھا۔ اس کی فکر اس طرح ہے کہ ناخدا آپ کو راستہ دکھاتا ہے۔ تو خدا کیوں نہیں راستہ بتاتا۔ اصل میں نفی کرنے سے مثبت نتائج ملتے ہیں۔
عبدالقادر بیدل غالب کے زمانہ کے بڑے استاد شاعر تھے اور زیادہ شاعری فارسی میں کی اور اس زمانہ کے بادشاہ وقت اورنگ زیب عالمگیر ان کی شاعری کے بڑے مداح بھی تھے۔ اس وقت اردو اپنی پہچان کروا رہی تھی اور غالب نے جو کچھ فارسی میں لکھا اس کو ہمارے ہی دوست ملک فارس جو اب اپنی پہچان ایران کے لفظ سے کراتا ہے، غالب کے مداح اور ناقد بھی رہے ہیں مگر جناب غالب کی فارسی ترکیب کا بیان اردو میں اپنی پہچان نہیں کرا سکا اور یہ ایک علیحدہ علمی اور ادبی بحث ہے مگر غالب کی اور شاعری کی مقبولیت آج بھی بام عروج پر ہے حضرت عبدالقادر بیدل کے بارے میں اسد اللہ غالب کا ایک شعر ہے جو۔ بھی ہے اور تعریف بھی
طرز بیدل میں ریختہ کہنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے
اب تو قیامت جاری ہے اور اس کا خوف کسی کو نہیں۔ کیسا زمانہ آ گیا ہے، جانتے بہت ہیں مگر علم کسی کو نہیں۔
ہمارے ماضی کے کتنے راہبر اور راہنما نظر آتے ہیں راہبر تو قائداعظم ممد علی جناح اور ان کو اندازہ تھا کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت (بڑی) زرخیز ہے ساقی مگر ان کے پاس وقت کم تھا۔ وطن بنا دیا اور ملک کی بنیاد رکھ دی، پھر ہوا کیا ابتدا کے چند سال جمہوریت کا کھیل کسی قانون اور قاعدے کے بغیر ہی کھیلا گیا اور جمہوریت کی بدنامی بھی بہت ہوئی۔ فرنگی بہادر نے کوئی ایسا نظام نہیں بنایا جس سے بھارت کی تقسیم آسان ہوجاتی۔ تقسیم ایک ایسا عمل ہے کہ نیت ٹھیک ہو تو فائدہ ہی فائدہ اور اگر نیت ٹھیک ہو تو فائدہ ہی فائدہ اور اگر نیت میں کھوٹ ہو۔ تقسیم بدنام اور منافق کا روپ اختیار کر لیتی ہے اور جب ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو تقسیم تو ہوئی مگر جذبے میں کھوٹ تھا اور وہ کھوٹ ابھی تک بھارت کی نیت میں ہے اور آپ ہمسایہ پر نہ بھروسا کر سکتے ہیں اور نہ ہی اچھے کی امید۔ نا ہی حقیقت حال بتانے کو تیار نہیں۔
ضرور دھوکے میں منزل سے دور آ پہنچے
جھجک رہا ہے بہت راہبر بتانے میں
آج کل ہم سیاسی انتشار کے دور سے گزر رہے ہیں اور جب سیاسی لوگوں کے نمود و نمائش کے باعث سیاست اور ریاست خطرے سے دوچار ہوتی ہے تو فوراً نامعلوم ذرائع سے ایک ترکیب اخباروں کی زینت بنتی ہے اور سب لوگ ادھر ادھر دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ عسکری ادارے کچھ کرنے جا رہے ہیں پتا نہیں یہ خوش فہمی یا غلط فہمی ہے۔ عسکری مہربان تو اس ملک کے جمہوریت کے خیرخواہ اور دوست ہیں۔ ورنہ ہماری سیاسی اشرافیہ نے تو کئی بار ان کو اکسایا کہ آپ ہی کچھ کریں۔ شکر ہے ان کا من صاف ہی رہا اصل میں ہمارے عسکری مہربان اصل میں سب کا سوچتے ہیں۔ ہمارے دوست ممالک بھی ان سے اکثر بڑی امیدیں لگاتے ہیں اور جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔ افغانستان میں دنیا کے بڑے ممالک ناکام ہونے کے بعد محفوظ راستہ کے لئے پاکستان کے اور افواج پاکستان کے طالب مدد ہیں مگر ان کو پاکستان کے عوام کی خوشحالی پسند نہیں۔ ہمارے دوستوں کے اہم بین الاقوامی ادارے پاکستان کی معیشت پر دنیا رسوخ رکھنے کے لئے صف بندی کرتے رہتے ہیں۔
اس قحط الرجال دور میں ہماری عدلیہ قانون اور انصاف کو بھی منتشر کرتی نظر آ رہی ہے۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں ملک میں تبدیلی کے لئے لگن کی مشق سے گزر رہی ہیں اور دوسری طرف عمران خان بھی تبدیلی کی ہوا کو شفاف بنانے کے مشن پر لگا تو ہے مگر دوستوں اور خیرخواہوں کو شکایت ہے کہ وہ لوگ صاحب اختیار ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے ؎
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
عمران کے دوست چلہ بھی کاٹ رہے ہیں، دعا بھی کر رہے ہیں، مگر اثر نظر نہیں آ رہا سب کے عمل میں خرابی ہے اور سب ہی معلوم کے چکر میں نا معلوم کا وظیفہ کر رہے ہیں۔ سب کچھ بدلنے کے لئے سب اکٹھے تو تھے مگر نیت کے کارن ناکام و نامراد ہیں۔ عمران کے پاس کھونے کو کچھ نہیں اور آپ کے پاس بنانے کو کچھ نہیں۔ وطن پرستوں پر یلغار ہے۔ وطن پرستوں کو کہہ رہے ہو وطن کا دشمن۔ ڈرو خدا سے، جو آج ہم سے خطا ہوئی یہی خطا کی سب کریں گے۔


