فطرت اور ہمارا رویّہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فطرت چیزوں کو خود سے کبھی جدا نہیں کرتی وہ کہیں نہ کہیں اپنے رنگ اور ڈھنگ سے اپنی موجودگی کا اظہار ضرور کرتی ہے۔ عملی لحاظ سے دیکھیں تو فطرت مستقل اور مسلسل مصروف ہے۔ وہ چیزوں کو جدید سے جدید تر بنانے کے لیے ہمیشہ موزوں اور بہترین کا انتخاب کرتی ہے۔ کائناتی تبدیلیوں سے لے کر ہماری جنیٹک خصوصیات کی منتقلی کے وقت تک ”فطری انتخاب“ (Natural Selection) ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ نسل کی بڑھوتری و بہتری کے لیے کن کن کوڈز (Codes) کو آگے منتقل کرنا ہے اور کن کن کوڈز کو رد کرنا ہے۔

فطری انتخاب کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے یہاں تک کہ کئی ہزاروں نسلوں کے بعد آج ہم کہہ سکتے ہیں زمین پر زندگی کی جتنی بھی اقسام پائی جاتی ہیں وہ گزشتہ نسلوں کی بہترین ”نمائندہ نسل“ ہے جو اب بھی مسلسل ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے۔ کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ آج سے ہزاروں نسلوں بعد یہ تمام اقسام ارتقا کی کس منزل پر ہوں گی یا زندگی کی کون کون سی اقسام باقی ہوں گی۔

انسان شروع سے ہی متحیر، متجسس اور متلاشی ہے وہ ستاروں کی حرکت اور موسمی تبدیلیوں کو دیکھتا تو حد درجہ خوف زدہ ہوجاتا یا کبھی کبھار اسے کھوجنے کی کوشش بھی کرتا۔

انسان کی خوف زدہ ہونے والی خاصیت نے جادو ٹونا اور مختلف دنیاوی مذاہب کی بنیاد رکھی کیوں کہ جس چیز کے متعلق معلومات نہ ہوں اسے کسی ایسی ہی ان دیکھی طاقت سے منسوب کر دینا انسان کو وقتی طور پر مطمئن کر دیتا ہے۔ انسان کی کھوج لگانے والی خاصیت نے غور و فکر، مشاہدات اور تجربات کی بنیاد ڈالی۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ جب سے انسان نے فطرت کے عوامل میں دخل دینا شروع کیا ہے۔ اب تو انسان تیزی سے اس فطری انتخاب کو ”مصنوعی انتخاب“ (Artificial selection) سے بدل رہا ہے۔ آج مختلف پرندوں اور جانوروں خصوصاً کتوں کی بہترین نسل کے لیے مصنوعی انتخاب نہایت کارآمد ثابت ہو رہا ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم کہ فطری یا مصنوعی انتخاب نے ہمیں کیا کیا دیا اور کیا کیا چھینا۔
مگر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ فطرت کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے۔ ؟

انسان کے تیزی سے ہوتے شعوری ارتقا نے اس کے ذہن میں یہ خیال راسخ کر دیا کہ وہ دوسری تمام سپیشیز سے ممتاز ہے۔ اپنے آپ کو اشرف اور ممتاز ثابت کرنے کے لیے انسان مسلسل زندگی کی دوسری اقسام کو یا تو اپنے تابع کرتا آیا یا بالکل ہی ختم کرتا آیا ہے۔ ہمارے اجداد نے جب آگ پر قابو پانا سیکھا تو کئی طرح کے جانور اور جنگل خاکستر کر ڈالے، شکار کے لیے اس وقت کے جدید ہتھیار بنائے تو جانوروں کی کئی سپیشیز کو روئے زمین سے ہمیشہ کے لیے مٹا دیا، زراعت شروع کی تو جنگل کے جنگل صاف کر دیے۔

آج ہم خود کو شعور کی بلند ترین سطح ہر فائز کہتے ہوئے نہیں تھکتے مگر فطرت کے ساتھ ہمارا رویہ آج بھی وہی ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے تھا۔ صنعتی انقلاب کے بعد سے ہم مسلسل فضا کو آلودہ اور سمندری حیات کو ختم کر رہے ہیں۔ بغیر اس بات پر غور کیے کہ ہماری صنعتوں کا زہریلا پانی اور سمندروں میں پھینکا جانے والا کوڑا اور پلاسٹک، سمندری مخلوقات کے لیے مکمل موت ثابت ہو رہا ہے، ہم بے دریغ ایسا کیے جا رہے ہیں۔ فضا میں موجود مصنوعی الیکٹرو میگنیٹک ویوز مسلسل حشرات الارض کو ختم کر رہی ہیں۔

زندگی کی مختلف اقسام رفتہ رفتہ موت کے گھاٹ اتر رہی ہیں۔ اور ہم اس عمل میں سب سے بڑھ کر شریک ہیں۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ زندگی خود کو باقی رکھنے کے لیے کوئی بھی روپ دھار سکتی ہے اور فطرت اس عمل میں ہمیشہ موزوں اور بہترین کا انتخاب کرے گی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ زندگی کو اپنے وجود کی سلامتی کے لیے ہمیں ہی راستے سے ہٹانا پڑ جائے۔

اگر ہم نے فطرت کے ساتھ ایسا ہی رویہ اپنائے رکھا تو عین ممکن ہے ہمارے ساتھ بھی وہی ہو جو ہم سے ہزاروں سال پہلے، ہم سے کئی حوالوں سے طاقت ور مخلوقات کے ساتھ ہوا۔ کیوں کہ فطرت کی رفتار سست ہی سہی مگر مستقل اور مسلسل ہے۔ اسے ہماری قطعاً کوئی پرواہ نہیں۔ وہ اپنی بقا کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments