EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

شین فرخ۔ بی پڑوسن (حصہ دوم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا جانتی ہے کہ احفاظ اپنے نظریات کے حوالے سے کتنے سخت گیر اور بے لچک تھے۔ صحافتی ٹریڈ یونین میں وہ منہاج برنا کو اپنا لیڈر مانتے تھے۔ جب کچھ لوگ برنا پی ایف یو جے سے الگ ہوئے تو ان میں احفاظ کے بہنوئی نسیم شاد اور شین فرخ بھی شامل تھے، اس پر احفاظ ہمیشہ ان دونوں سے ناراض رہے حالانکہ شین نے شاید میری وجہ سے ہمیشہ ان کے ساتھ دوستی نبھانے کی کوشش کی۔ اور آخر انہیں شین سے دوستی کرنی ہی پڑی۔ احفاظ کی اور میری شادی نظریاتی شادی تھی، اس لئے ہم دونوں کے درمیان کسی نظریاتی اختلا ف کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے سارے جھگڑوں اور اختلافات کی بنیاد فیمنزم اور جینڈر اسٹیریو ٹائپنگ تھی۔

شروع شروع میں احفاظ کو صحافتی ٹریڈ یونین سیاست کی وجہ سے میری اور شین کی دوستی بہت بری لگتی تھی لیکن میں بھی کیا کرتی، ہمارے محلے یعنی صحافی کالونی میں ایک ہی پڑوسن ایسی تھی جس سے میں سیاست اور ادب پر بات کر سکتی تھی۔ ہم دونوں کا صحافت سے تعلق رہا تھا، ہم میں ذہنی مطابقت تھی۔ گھرداری کے علاوہ اور بھی بہت سے دکھ تھے جن پر ہم بات کر سکتے تھے اور کرتے تھے۔ کشور ناہید کے بقول اس معاشرے کے معیارات کے مطابق ہم ’بری عورتیں‘ تھیں کہ ہم رسوم و رواج کی باغی تھیں اور حق اور انصاف کے لئے آواز بلند کرتی تھیں۔ ہر مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو جاتی تھیں اور صنفی مساوات میں یقین رکھتی تھیں۔

شین کا مسئلہ تو اور بھی گھمبیر تھا کہ وہ تنہا عورت تھی، اس لئے اسے تو ساری عمر چومکھی لڑائی لڑنا پڑی لیکن اس نے ہتھیار نہیں ڈالے اور آخری سانس تک اپنی مرضی کے مطابق جیتی رہی۔ یہ اور بات کہ اس لڑائی نے اس کی شخصیت پر سخت گیری کا خول چڑھا دیا تھا، اکثر بد لحاظ بھی ہو جاتی تھی لیکن اندر سے وہ کتنی نرم دل اور محبت کرنے والی تھی، یہ اس کے قریبی دوست اچھی طرح جانتے تھے۔ اس لئے اس کی کڑوی کسیلی باتیں پی جاتے تھے کہ وہ ان کا خیال بھی تو بہت رکھتی تھی۔ بڑی وضع داری سے تعلقات نبھاتی تھی۔ ایک مرتبہ میں اس کے ساتھ کہیں جا رہی تھی، ایک سگنل پر گاڑی رکی تو گود میں بچہ اٹھائے ہوئے ایک نوجوان بھکارن نے اس کی کھڑکی کے پاس آ کر دست سوال دراز کیا۔ ”اس کا باپ کون ہے؟“ شین نے ڈپٹ کر پوچھا۔ میں گھبرا کر دوسری طرف دیکھنے لگی، گردن موڑی تو بھکارن جا چکی تھی۔ تو شین ایسی ہی تھی، پھٹ سے منہ پر بات کر دینے والی۔

ایک بہادر اور دبنگ شخصیت ہونے کے باوجود اس کے اندر یہ خوف چھپا رہتا تھا کہ اس پدرسری اور عورت دشمن معاشرے میں اس کا استحصال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایسے مواقع پر وہ ہمیشہ لڑنے اور صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی لڑائیاں تو روز ہی لڑنی پڑتی تھیں، مکینک سے نمٹنا، پلمبر سے نمٹنا، گھر میں چھوٹا موٹا مرمت کا کام کرانا، کرایہ داروں سے نمٹنا، یہ سب مردانہ حاکمیت والے معاشرے میں تنہا عورت کے لئے ایک بڑی جنگ سے کم نہیں ہوتا۔ دفتر کی لڑائیاں اس پر مستزاد۔

صحافت کے کوچے سے نکل کر اس نے IPC انٹر کمیونیکیشن کے نام سے اپنی تنظیم بنائی اور اسے کامیابی سے چلایا۔ اس سے پہلے اس نے شہری نامی تنظیم کا ماحولیات پر نیوز لیٹر بھی کچھ عرصہ کے لئے نکالا تھا۔ اس دوران اسے نجی دورے پر امریکہ جانا پڑا تو وہ یہ ذمہ داری میرے سپرد کر گئی اور میں بختیار چنہ اوراسحاق بلوچ کے ساتھ مل کے اس کے واپس آنے تک یہ ذمہ داری نبھاتی رہی۔ شاید اسی دورے میں یا اس سے پہلے یا بعد والے دورے میں وہ اپنی والدہ کو بھی اپنے ساتھ امریکہ لے کر گئی تھی اور واپسی پر اس کی والدہ نے الگ سے مجھے بتایا تھا ”شین نے میرا بڑا خیال رکھا، ہر جگہ وہیل چیئر پر مجھے گھماتی رہی“۔ احفاظ کی طرح وہ بھی پرفیکشنسٹ تھی، چلاﺅ کام کی قائل نہیں تھی۔ ہر کام جان مار کے کرتی تھی۔ فنڈنگ ختم ہوئی تو مالی پریشانیوں کا شکار رہی لیکن کبھی کسی پر اپنی پریشانی ظاہر نہیں کی۔ آخری عمر میں اوسٹیو پروسس کی وجہ سے گرنے بہت لگی تھی، کبھی کہیں چوٹ، کبھی کہیں، پڑوسن ہونے کی وجہ سے خبر پا کے سب سے پہلے میں ہی اس کی طرف دوڑتی تھی۔

2015 سے احفاظ کی بیماری کی وجہ سے میں نے شام کو گھر سے نکلنا چھوڑ دیا تھا۔ صرف ہفتے کے دن میں صبح صبح پہلے شین سے اور پھر اپنی امی سے ملنے جاتی تھی اور شام سے پہلے ہی گھر واپس آ جاتی تھی۔ پھر زندگی میں ایسی طوفانی تبدیلیاں آئیں کہ ہمیں شین کا محلہ چھوڑنا پڑا۔ اس پر ایک روز اس نے فون پر کہا تھا ”تیرے یہاں رہنے سے مجھے بہت سپورٹ تھی“۔ میں آنسو پی کے رہ گئی لیکن خدا بڑا مسبب الاسباب ہے۔ شین کے گھر کی اوپر والی منزل خالی پڑی تھی، کرایہ دار جا چکے تھے۔ ایک روز ویمنز ایکشن فورم کی میٹنگ میں عطیہ ابڑو نے بتایا کہ انہیں کرائے کے مکان کی تلاش ہے، میں نے شین سے رابطہ کیا اور وہ دونوں میاں بیوی شین کے کرایہ دار بن گئے۔ شین کے آخری دنوں میں ان دونوں میاں بیوی نے شین کا جتنا خیال رکھا شاید ہی کوئی کسی کا رکھ پائے۔ لیکن جب میں کہتی ہوں کہ ہم سب دوست ہمیشہ عطیہ اور ابڑو کے احسان مند رہیں گے تو عطیہ کہتی ہے ”مہنازاحسان اور محبت میں فرق ہے۔ ہم آپ سب دوستوں سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں اور محبت چاہتے ہیں“ تو عطیہ اور ابڑو ہماری ڈھیروں محبتیں تمہارے لئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے