EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت، رشتہ داروں کا تحقیقات کا مطالبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عملی سیاست میں قدم رکھنے کے بعد ہر آمریت کے خلاف ہمیشہ پیش پیش رہنے والے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر محمد عثمان کاکڑ پیر کے روز کراچی میں وفات پا گئے۔ ان کی عمر 60 سال تھی۔

عثمان کاکڑ کے قریبی رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی موت طبعی نہیں ہے۔ انھوں نے ان کی موت کی وجوہات کے بارے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے ان کی وفات پر سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

زیرک سیاستدان اور امن کے خواہاں

افغانستان کے صدارتی محل سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر اشرف غنی نے عثمان کاکڑ کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ‘عثمان خان کاکڑ افغان سرزمین کے زیرک سیاست دان اور امن کے خواہاں تھے۔ وہ افغان امن عمل کے حمایتی اور افغانستان میں بیرونی مداخلت کے سخت مخالف تھے۔

’عثمان خان کاکڑ ہر قسم کے تشدد، ظلم اور جبر کے خلاف اپنے مظلوم اور محکوم عوام کی آواز تھے اور ان کی موت افغان سرزمین اور عوام کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ افغان حکومت اور عوام کی جانب سے ہم پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور ان کے خاندان کے غم میں شریک ہیں۔‘

عثمان کاکڑ کو 17 جون کو شہباز ٹاﺅن میں واقع ان کے گھر سے بے ہوشی کی حالت میں ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اس وقت محمود خان اچکزئی نے بی بی سی کےخدائے نور ناصر کو بتایا تھا کہ انھیں گھر پر اچانک دورہ پڑا ہے جس کے باعث وہ گرے اور ان کے سر پر چوٹ آئی۔ تب سے لے کر آج تک اس حوالے سے پارٹی کا مؤقف بھی یہی رہا ہے۔

سینیٹر عثمان کاکڑ کے رشتہ داروں کا کیا کہنا ہے؟

تاہم ان کے قریبی رشتہ دار اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری محمد یوسف خان کاکڑ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گھر میں بے ہوش ہونے سے پہلے عثمان کاکڑ صحت مند تھے۔

انھوں نے کہا کہ عثمان کاکڑ 17 جون کی سہ پہر تین بجے جناح روڈ پر واقع پشتونخوامیپ پارٹی کے دفتر سے گھر گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ جو ذاتی محافظ تھا وہ عثمان کاکڑ کے گھر پہنچنے کے بعد واپس پارٹی کے دفتر آیا تھا۔

خیال رہے کہ عثمان کاکڑ کو بے ہوشی کی حالت میں کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کے دماغ کا آپریشن کیا تھا لیکن وہ ہوش میں نہیں آئے تھے۔ انھیں بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ حکومت نے علاج کے لیے کراچی منتقل کیا تھا۔

عثمان کاکڑ ایک عوامی سیاسی رہنما تھے یہی وجہ ہے کہ نہ صرف کوئٹہ میں ہسپتال کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد موجود رہی بلکہ کراچی کے جس نجی ہسپتال میں وہ زیر علاج تھے اس ہسپتال کے باہر بھی پشتونخوامیپ کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

جب ان کے رشتہ دار یوسف خان کاکڑ نے کراچی میں ان کے موت کا اعلان کیا تو ہسپتال کے باہر کارکن زار و قطار رونے لگے۔ اسی طرح کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی ان کی موت کی خبر سن کر لوگ رنجیدہ ہوئے۔

موت کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ

پشتونخوا میپ کے رہنما یوسف خان کاکڑ نے کہا کہ عثمان کاکڑ ایک بہادر سیاسی کارکن اور رہنما تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ جس چیز کو غلط سمجھتے تھے ببانگ دہل اس کو غلط کہتے تھے اور جو لوگ اس غلط کام کے پیچھے تھے وہ ان کا نام بھی لیتے تھے جن میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے نام بھی ہوتے تھے۔

انھوں نے ان کی بے ہوشی کے بعد سینیٹ میں ان کے خطاب کے حوالے سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے یہ واضح طور پر کہا تھا کہ انھیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

خیال رہے کہ اس ویڈیو میں عثمان کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں ایک ذاتی بات کرنا چاہتا ہوں جو میں نے چھ سال میں نہیں کی۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم جمہوریت اور اپنے نظریات سے دستبردار ہو جائیں، قوموں کی بات کرنا چھوڑ دیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنا چھوڑ دیں اور جو غیر جمہوری قوتیں ہیں ان پر تنقید کرنا بند کر دیں۔’

یہ بھی پڑھیے

’اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کو صرف ایک کالونی سمجھا ہے‘

اسداللہ مینگل: بلوچستان کا ’پہلا جبری لاپتہ‘ نوجوان جس کی موت تاحال ایک معمہ ہے

سندھ ادبی میلے میں بلوچستان پر سیشن منسوخ: ’ثابت کرتا ہے ہمیں اظہار رائے کی آزادی نہیں‘

عثمان کاکڑ نے کہا تھا ‘مجھے یہ اشارے اور پیغامات مل رہے ہیں لیکن میں یہ نہیں کر سکتا ہوں۔ مجھے کچھ ہوا، میرے بچوں کو کچھ ہوا اور میرے خاندان کو کچھ ہوا تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ مجھے میرے نظریات، جمہوریت، میری قوم اور پارلیمنٹ کی بالادستی زیادہ عزیز۔ لیکن میں یہ ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مجھے یا میرے خاندان کو اگر کچھ ہوا تو اس کے ذمہ داری دو انٹیلجینس ادارے ہوں گے، میں یہ اس لیے ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں تاکہ یہ گم کھاتے میں نہ جائے۔’

یوسف خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ جس وقت عثمان کاکڑ گھر میں تھے تو ان کے گھر میں ان کی ایک 11 سالہ بچی اور ایک خاتون کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ عثمان کاکڑ گھر کے نچلے حصے میں تھے اور بچی بھی اس حصے میں تھی جبکہ خاتون اوپر والی منزل پر تھی۔ یوسف خان کاکڑ نے بتایا کہ عثمان کاکڑ اپنے گھر کے ایک کمرے میں آرام کرنے گئے تو ان کی بچی ان کے پاس موجود نہیں تھی۔

انھوں نے دعوی کیا کہ اس دوران باہر سے گھر کے اندر داخل ہونے والے لوگوں نے ان پر حملہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں ہے بلکہ عثمان کاکڑ نے سینیٹ میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر انھیں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار انٹیلیجینس کے دو ادارے ہوں گے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ عثمان کاکڑ کی موت کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کی جائیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں ان کے لیے ‘شہید’ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

عثمان کاکڑ کون تھے؟

عثمان کاکڑ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے مسلم باغ میں سنہ 1961 پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتونوں کے معروف اور بڑے قبیلے کاکڑ سے تھا۔

میٹرک کوئٹہ میں اسلامیہ اسکول سے کرنے کے بعد انہوں نے بھاولپور سے انجنیئرنگ میں ڈپلوما حاصل کیا۔ سائنس کالج سے بی ایس سی کرنے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے ایم اے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی۔

انھوں لا کالج کوئٹہ سے ایل ایل بی بھی کیا۔ زمانہ طالعلمی سے ہی وہ پشتون قوم پرست طالب علم تنظیم پشتونخوا ملی اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن سے وابستہ ہوئے۔ وہ تنظیم کے مختلف عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ سنہ 1987 میں پشاور میں ایک بڑی کانفرنس میں تنظیم کے سیکریٹری اول یعنی سربراہ منتخب ہوئے۔

عثمان کاکڑ سابق آمر ضیاءالحق کے دور میں پابندیوں کے باعث ترقی پسند طلبا کی ملک گیر الائنس پاکستان پروگریسو الائنس کے پلیٹ فارم سے بھی متحرک رہے۔

سنہ 1986 میں طلبا سیاست سے فراغت کے بعد انھوں نے باقاعدہ طور پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

پارٹی میں فعال کردار کی وجہ سے محمد عثمان کاکڑ کو پارٹی کا صوبائی صدر منتخب کیا گیا اور گذشتہ طویل عرصے سے پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

پارٹی کا صوبائی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ عثمان کاکڑ سنہ 2015 میں پشتونخوا میپ کے ٹکٹ پر بلوچستان سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

عثمان کاکڑ نہ صرف اپنی پارٹی کی سطح پر بلکہ محکوم اقوام کی تحریک (پونم) اور ایم آرڈی سمیت دیگر تحریکوں میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک بیان کے مطابق ان کی میت منگل کو کراچی سے کوئٹہ منتقل کی جائے گی اور 23 جون کو ان کی تدفین ان کے آبائی علاقے مسلم باغ میں کی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19940 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp