EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ہمیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اپنی حدیں جانیں اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے اس کشمکش میں رہے کہ طاقت کیسے حاصل کی جائے۔ اس کھیل میں ہم اصلاح کرنے والے دانشوروں اور صحافیوں کو غدار، عوامی نمائندوں کو چور، ڈاکو اور عوام کو جاہل سمجھتے رہے یہاں تک کہ ملک دولخت ہوا اب بھی ہمارا وتیرہ وہی ہے۔ ہم اپنے ہی لوگوں کے ساتھ بات چیت اور مکالمہ سے مسائل حل کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ہم انہیں ڈرا دھمکا کے اپنے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی ٹھیک ہیں اور جو سب کچھ ہم کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں۔ ملک کو ایسے نہیں چلایا جا سکتا ہے۔ دوسروں کو بھی جگہ دینی ہوتی ہے۔ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے دوسروں کو بھی برداشت کر کے سننا اور جینے کا حق دینا ہوتا ہے اور جب تک ہم اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا بہادری سے اعتراف نہ کریں ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔

معاشرے میں بد عہدی، منافقت اور بد دیانتی عام ہے۔ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور اس کے آئین کو قرآن اور سنت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں سے لے کر ججز، بیوروکریسی اور عام عہدیداروں تک اس پر من و عن عمل کرتے ہیں؟ اپنے حقوق اور فرائض کو صحیح طرح ادا کرتے ہیں؟ ہم بغیر ثبوت کے لوگوں کو جیلوں میں ڈالتے ہیں ان پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں۔ لوگوں کی کردار کشی کرتے ہیں ان کی ذاتی زندگیوں میں خفیہ کیمرے لگا کر جاسوسیاں کرتے ہیں۔

کیا اسلامی آئین میں یہ سب کچھ کرنا جائز ہے؟ بلکہ اسلامی تعلیمات میں کسی کی ٹوہ لگانا اور تجسس کرنا ظلم اور فساد ہے اگر ہمارا آئین اسلامی ہے تو اسلام میں تو غدار کی کوئی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی ہے بلکہ جو لوگ اپنے عہد پورے نہیں کرتے اور اپنے حلفوں کے پابند نہیں ہوتے ہیں وہ لوگ قرآن کی تعلیمات کے مطابق فاسق، منافق اور فساد فی الارض والے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالٰی سورہ آل عمران میں آیت نمبر 77 میں فرماتے ہیں۔

”کہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ دیتے ہیں تو ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کریں گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔“ قرآن میں تو اپنے حلف، وعدوں اور قسموں کو توڑنے والوں کے لئے دردناک عذاب کی وعید ہے۔

لاہور کے مدرسے کے مفتی عزیز الرحمان کے کالے کرتوتوں اور قبیح فعل کو مدرسوں کے ساتھ جوڑنے کی بجائے اس کے ذاتی فعل اور کردار سے منسوب کرنا چاہیے۔ ایسے گھناؤنے کردار معاشرے میں ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ ایسے کرداروں کی نشاندہی کر کے عبرت ناک سزا دی جائیں۔

ہمارے ملک میں مدرسے لاکھوں غریب بچے اور بچیوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو یا تو بہت غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے۔ مدرسوں میں انہیں مفت کھانا، بغیر فیس کے اخلاقی، دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی ہیں۔ یہی مدرسے گورنمنٹ کی مدد کے بغیر کسی تفریق اور سفارش کے لاکھوں غریب بچوں کا سہارا بن کر ان کی کفالت کرتے ہیں۔ ایسے بچوں کی تعداد مدرسوں میں بہت کم ہوتی ہیں جن کی مالی حیثیت مضبوط ہو۔

مدرسوں میں زیادہ تعداد ان بچوں کی ہوتی ہیں جن کے گھروں میں کھانے کی دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں ہوتی ہے اور اگر مدرسے آج ان کا بوجھ نہیں اٹھا پاتے تو یہ بچے بھوکے، ننگے، گلیوں میں پھر رہے ہوتے اور چوری، ڈکیتی، غلط کاموں میں ملوث ہو جاتے۔ اب یہی بچے مدرسوں سے دینی تعلیم کے ساتھ میٹرک ایف۔ اے اور ماسٹرز کی سند بھی حاصل کر کے معاشی طور پر سیٹ ہو کر اپنے گھروں کی کفالت کرتے ہیں۔

البتہ ہمارے علماء کرام کو کھلے دل سے اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ اور دین مقدس ہیں لوگ مقدس نہیں ہوتے مدرسوں میں بھی ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ان سب باتوں کو مان کر مدرسوں میں اصلاحات کریں۔ مدرسوں میں مختلف مذاہب کے ساتھ ہم آہنگی اور برداشت کا کلچر پروان چڑھائیں ان کو عدم برداشت، کفر اور فرقہ واریت کی تعلیم کی بجائے برداشت، تحمل، اختلافات کو مکالمہ کے ذریعے قبول کرنے اور انسانیت کا درس دیا جائے تاکہ وہ اقلیتی مذاہب کے لوگوں کو مانے اور ان کا تحفظ کر سکیں۔

بچوں کو ڈرانے دھمکانے کی بجائے پیار و محبت سے ان کی اخلاقی اور دینی تربیت کریں ان کو سکس کی ایجوکیشن سے بھی روشناس کروائیں تاکہ بچے یہ بات جان سکے کہ بیڈ ٹچ اور گڈ ٹچ کیا ہوتا ہے تاکہ کل کوئی غلیظ شخص معصوم بچوں کی عزت کو پامال نہ کر سکے۔ ان کی ایسی تعلیم و تربیت کریں کہ وہ اپنے ساتھ اور کسی دوسرے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو برداشت کرنے کے بجائے بے خوف ہو کر صحیح بات بول سکیں اور مدرسوں میں بچوں کی شکایات سننے کے لئے ایسی کمیٹیاں بھی بنائی جائیں جو ان بچوں پر ہونے والی کسی طرح کی زیادتی اور حق تلفی کو سن سکے اور فوراً اس کا ازالہ بھی کرسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے