EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

فتوے کا اختیار: درس نظامی اور ایل ایل بی شریعہ اینڈ لاء

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل کی بات ہے کسی صاحب نے ایک مجلس میں کسی شرعی مسئلہ کے متعلق سوال کیا، اس سے پہلے کہ اس پر اس شعبے کا متعلقہ فرد لب کشائی کرتا یکا یک ہمارے کانوں سے ایک صاحب کی آواز ٹکرائی ”یہ کون سی مشکل بات ہے مجھ سے پوچھ لیجیے“ پھر حضرت کے علم کا چشمہ پھوٹ پڑا اور زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگے۔

یہ ایک واقعہ تھا جس کے ہم چشم دید گواہ ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ فضا عام ہو چکی ہے، کسی بھی شرعی مسئلہ میں کوئی بھی انسان اپنی رائے پیش کرنے میں پیش پیش رہتا ہے، اگر اسے زیر کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ شد و مد سے زبر ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اور کبھی تو کسی نازک مسئلہ پر دھڑلے سے ایسی بات کہہ دی جاتی ہے کہ الامان الحفیظ۔ اور اس سے بھی بڑھ کر افسوس کا مقام یہ ہے کہ عوام کی جانب سے بھی شرعی مسائل کو ان کے ماہر اور وابستہ افراد سے پوچھنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ بس جس انسان کا حلیہ ذرا مولوی ٹائپ دکھے اس سے سوال کر لیا جاتا ہے۔

پچھلے دنوں ایک وکیل صاحب سے ملاقات ہوئی ان کے متعلق سن رکھا تھا کہ وہ مفتی بھی ہیں، عالم بھی ہیں اور بھی بہت کچھ ہیں۔ دوران نشست ہم نے ان کی سند فراغت کے متعلق پوچھا تو جناب نے بڑے کھلے لہجے میں فرمایا کہ میں نے یہ ( 8 سالہ درس نظامی ) کورس مکمل نہیں کیا، البتہ فلاں یونیورسٹی سے ایل ایل بی شریعہ اینڈ لاء کیا ہے، وہ برابر ہے ایم اے اسلامیات کے۔ اور جو درس نظامی کورس کرایا جاتا ہے وہ بھی برابر ہے ایم اے اسلامیات کے، اس اعتبار سے بقول ان کے وہ برابر ہیں ایک عالم کے۔

اس سے پہلے کہ میں ان کے مفتی ہونے کے متعلق سوال کرتا موصوف خود ہی بول پڑے کہ جو ڈگری میں نے کی ہے اور جو ایک مفتی کے پاس ہوتی ہے دونوں کو ان کے علاقے میں کسی خاص پوسٹ کے لئے برابر سمجھا جاتا ہے۔ یوں وہ برابر ہوئے مفتی کے۔ ویسے کمال کی منطق چلائی انہوں نے، ان کے ساتھ چند لمحات کی اس گفتگو سے ان کی شعبہ افتاء کا تو علم نہیں لیکن وکالت میں ماہرانہ صلاحیت کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

خیر جانے دیں، بات ہو رہی تھی کہ عام طور پر دینی مسائل کے متعلق لوگ پتلی گلی تلاش کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مادی مفاد میں معاشرتی پالیسی یہ ہے کہ ہر معاملہ میں حتی الامکان اس کے ماہر انسان کو تلاش کرنے کی جستجو کی جاتی ہے۔ جیسے بطور مثال آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت ہے تو مختلف ذرائع سے اس کی مہارت کا پتہ لگاتے ہیں، سند تو اس کے پاس ہے، اس میں تو کوئی شک نہیں، لیکن آپ جو جاننا چاہ رہے ہیں وہ اس کے پیشہ اور فن میں مہارت ہے کہ آیا یہ بندہ صحیح ڈاکٹر بھی ہے یا نہیں؟ کہیں ایسا نہ ہو کسی کی جان سے کھیل جائے۔

اسی طرح جب آپ کو کسی پراجیکٹ کے لئے انجینئر کی ضرورت پڑتی ہے تو آپ ماہر انجینئر کی تلاش میں کبھی ملکی حدود سے بھی باہر نکل جاتے ہیں، یقیناً اس قدر تگ و دو اور احتیاط کی وجہ ایک فکر ہے کہ کہیں غیر ماہر انجینئر کے ہاتھوں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

اسی طرح اگر آپ کو کسی خاص موقع کے لیے کپڑے سلائی کرانے ہوں تو آپ ماہر درزی تلاش کرتے ہیں۔ کہیں لباس تمسخر کا ذریعہ نہ بن جائے۔ لیکن جب بات کسی شرعی مسئلہ کی آتی ہے تو ہم آسان سے آسان رستہ تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں، اسے انٹر نیٹ کے سپرد کر دیتے ہیں، انٹر نیٹ پر موجود مسائل و فتاوی آپ کے مسائل سے مشابہ تو ہو سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ آپ کے مسئلہ کا جواب نہیں ہوتا، بعض علماء بھی اس وبا کا شکار دیکھے گئے ہیں۔ اور بعض لوگ تو پوچھنا تک گوارا نہیں کرتے بلکہ اپنا اجتہاد چلانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ نہ تو اس پر کوئی بل آتا ہے اور نہ کبھی کسی نے مسئلہ بتانے پر فیس کا مطالبہ کیا ہے۔

انگلش کا ایک مقولہ ہے ”practice make perfect“ آپ نے سنا ہوگا، مگرVince Lombardi نے ایک قدم اور آگے بڑھا کر کہا کہ۔ Practice does not make perfect، only perfect practice makes perfect:اسی تناظر میں دیکھا جائے کہ اگر کوئی انسان کچھ مخصوص عرصہ کسی مخصوص درس گاہ یا جامعہ میں گزارتا ہے، اور بعد از سند فراغت مخصوص لقب اپنے لیے چن لیتا ہے یا معاشرہ اسے وہ لقب عطا کرتا ہے تو یہ ایک الگ بات ہے، لیکن اس سے وہ اس فیلڈ کا ماہر نہیں بن سکتا، پھر چاہے وہ کوئی بھی فیلڈ، شعبہ یا پیشہ ہوا، جب تک کہ وہ اس سے وابستہ رہ کر پرفیکٹ پریکٹس نہیں کرتا، پرفیکٹ نہیں بن سکتا، وہ اس فیلڈ کی پیچیدگیوں پر مہارت نہیں رکھ سکتا۔

لہذا طریقہ یہ اختیار کیا جائے کہ ”لکل فن رجال“ (ہر فن کے ماہر لوگ ہوتے ہیں ) کے تحت مسئلہ ماہر انسان سے پوچھا جائے۔ کیا یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ نہیں کہ ہم مادی مسائل میں انتہائی درجہ کی احتیاط کریں مگر روحانی اور شرعی مسائل کے متعلق سستی کا مظاہرہ کریں؟

جب ہم ایسے مسائل جن کا تعلق دنیاوی اور جسمانی فوائد سے ہے ان میں حد درجہ محتاط رہتے ہیں، تو ایسا کیوں نہیں کہ ہم ان مسائل میں بھی انتہائی درجہ کی احتیاط کریں جن کا تعلق جسم سے بھی ہے روح سے بھی، جن کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے