لاہور دھماکہ:دو ٹوک نہ کا بدلہ یا گرے لسٹ کی سازش؟

ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے امریکی کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دست و بازو نہ بننے کا دو ٹوک بیان تو دوسری طرف 21 جون سے پیرس میں جاری ایف اے ٹی ایف کا اجلاس کہ جس میں پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے روشن امکانات موجود تھے کہ اچانک ہی لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں دھماکے کی خبر آ گئی۔ پاکستان جو کہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں ہزاروں جانیں اور مالی نقصان برداشت کرنے کے بعد کے اس عفریت پر تقریبا قابو پا چکا ہے اور خال خال ہی کوئی تخریب کاری کی واردات سامنے آتی تھی تو ایسے وقت میں اس دھماکے نے اہم سوالات کھڑے کر دیے۔ آیا یہ وزیراعظم کے دو ٹوک انکار کے بعد ردعمل کے طور پر بین الاقوامی ایجنسیوں کی سازش کی کڑی ہے؟ یا پھر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے کوشش کو ناکام کرنے کی عالمی سازش؟ کیونکہ پاکستان مسلسل تین سال سے گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ پاکستان نے اب تک 27 میں 26 ایکشن آئٹمز پر پیش رفت کی ہے جبکہ ایک پوائنٹ پر ہونے والی کارروائی کی رپورٹ بھی ایف اے ٹی ایف میں پیش کی جا چکی ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی رپورٹ پر اظہار اطمینان بھی کیا مگر ایسے وقت میں ایف اے ٹی ایف ہی کے دباؤ پر نظر بند ہونے والے کالعدم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کے گھر کے باہر ہونے والا ٹارگٹڈ دھماکہ دراصل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ازلی دشمن ملک اور بین الاقوامی ایجنسیاں پاکستان کو غیر محفوظ ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہیں۔ پاکستان کو نہ صرف ازلی دشمن بھارت کی خفیہ ایجنسی را بلکہ اسی کی ممد و معاون موساد اور این ڈی ایس کی مثلث کا سامنا کر رہا ہے

دوسری جانب سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے بڑی امیدوں سے پاکستان کا دورہ کیا، امریکی حکام کو یہ خوش فہمی تھی کہ پاکستان پہنچنے پر نہ صرف ان کی مانگیں پوری کی جائیں گی بلکہ ایک دفعہ پھر پاکستان کی سرزمین کو استعمال کیا جاسکے گا۔ مگر ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے امیدوں پر ٹکا سا جواب دے کر امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ہمسایہ ملک تو ویسے ہی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اوپر سے امریکا بہادر کو دو ٹوک نہ کرنے پر معاملات کو بگاڑا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے دل لاہور کے پر امن ترین جگہ جوہر ٹاؤن میں یہ دھماکہ بھارت کی معاونت سے چلنے والے تکون کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس دھماکے سے دراصل پاکستان کو دبے لفظوں میں مطالبات پورے نہ ہونے پر نتائج کی بھی دھمکی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال امریکہ کی فوج کا انخلا اور طالبان کی جانب سے مسلسل فتوحات نے جہاں ازلی دشمن اور اس کی تثلیث کو توڑنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کیا وہی پاکستان کی سر زمین کو کسی بھی عسکری و سیاسی جمود کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے قومی ادارے سرگرم ہیں جس کا مقصد پاکستان کو خطے میں امن کا گہوارہ بنانے کے ساتھ معاشی ترقی کی جانب توجہ دینا ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے خطے میں امریکا کو انکار اور خطے کی صورتحال پر مشاورت کے لئے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی کیا۔ جہاں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نو تشکیل شدہ نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، خصوصاً پاکستان کی اندرونی صورتحال اور ایجنسیوں کے باہمی تعاون پر بات چیت کی گئی جس کا مقصد  یہ تھا کہ پاکستان میں پھر سے دہشت گردی کا عفریت سر نہ اٹھا سکے۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے ہر فورم پر جواب دینے کے ساتھ اس بات کا ثبوت بھی دے چکا ہے کہ سرزمین پاکستان صرف امن و استحکام کے لیے ہر وہ راہ اپنا سکتا ہے۔ جو معاشرے کی ترقی کے ساتھ ساتھ عوام کی خوشحالی کا مظہر بنے۔ لیکن نا جانے یہ دشمن کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ پاکستان میں دہشت گردی کا عفریت پاکستان کو کمزور نہیں بلکہ ایک طاقتور قوم کی صورت میں اکٹھا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ عقل کے اندھوں کو معرکہ آرائیوں میں سے سبق حاصل کرنے کی بجائے دو بارہ اس آگ کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے جس کو پاکستان کب کا بجھا چکا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words