ویڈیو والے مفتیان کرام کی خدمت میں چند گزارشات


مدرسہ لیکس کا سلسلہ جو شروع ہوا ہے، خدا جانے کہاں تھمے کہ دورانیہ و نصاب خاصا طویل ہے۔ آپ اکثر احباب نے وہ ویڈیوز ملاحظہ کیں۔ مزید بھی آتی ہی ہوں گی۔ یہ ویڈیوز دیکھ کے ہر نفیس طبع شخص کا دل دکھا۔ امت کو علماء کے کردار اور قوت ارادی سے خاصی مایوسی ہوئی۔

سب سے اہم بات جس کی طرف میں بالخصوص مدارس کے طلبہ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ ہے کہ ہمارے مدارس اور علماء ٹیکنالوجی سے خاصے دور رہے۔ اور ان کے استعمال میں اب بھی کافی بہتری کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے تو اچھی کوالٹی کے موبائل یا مووی کیمرہ کی ضرورت ہے۔ اینگلز کے معاملے میں خاصے کورے ثابت ہوئے ہیں۔ لینز کا رخ کدھر رکھنا۔ پھر آڈیو ریکارڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ (بعد میں ڈبنگ بھی کی جا سکتی ) ۔ ویڈیوز سے یہ بات سامنے آتی کہ کمروں میں روشنی کا بندوبست معقول نہیں۔ اس سے تصویر واضح نہیں ہوتی اور عوام علمائے کرام کے چہرے کی کماحقہ زیارت سے محروم رہتی۔ اگر ایچ ڈی کیمرہ ہو تو زیادہ اچھا ہے۔ ریکارڈنگ اعلی کوالٹی کی ہو تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس قیمتی سرمائے سے محروم نہ ہوں۔

پہلے دور کے علماء ساتھ ساتھ حکمت بھی کرتے۔ جسمانی طور پہ فٹ رہتے۔ ملفوظات و کرامات کے باب میں ان کی شبانہ سرگرمیوں کے محیر الفتور واقعات پڑھ سکتے۔ جبکہ اب آپ دیکھیں ویڈیوز تو مفتی صاحبان کی توند لٹکی نظر آتی۔ مریض باوجود سہارے کے اپنے پاؤں کھڑا ہونے سے قاصر۔ جسم بے ڈول۔ دوران وظائف جسم ہلنے تک سے قاصر۔

تجھے اپنے آباء سے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
تو گفتار وہ کردار، تو رکشہ وہ طیارہ

پھر کئی ویڈیوز ملیں۔ کچھ دیکھنی باقی۔ تو آپ دیکھیں کہ طہارت، جسمانی صفائی پہ ہمیں زیادہ تاکید۔ مگر گورے اس سنہرے اصول پہ عمل کرتے۔ اور یہ داڑھی بکھری ہوئی، لباس دریدہ و بوسیدہ، بال پراگندہ، اگرچہ کئی حضرات پگڑی ٹوپی نہیں اتارتے کہ سر ننگا ہو تو شیطان کے حمل دخل کا اندیشہ ہوتا۔ جگہ کے انتخاب میں بھی ہمارے مفتی صاحبان یورپی اقوام سے بہت پیچھے ہیں۔ عمدہ فرنیچر، معطر ماحول، صاف ستھرے تکیے اور چادریں۔ جبکہ یہاں میلی سی دری، جس پہ کچھ دیر قبل دال کھائی گئی ہوتی۔ صفائی کے لیے مخصوص چارخانہ رومال ہی استعمال کر لیا جاتا۔ یہ چیزیں ذوق سلیم پہ ناگوار گزرتیں۔

بعض احباب نے ایک ویڈیو کے تناظر میں شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دی ہے۔ کم از کم اس پیج پہ تو سبھی مفتیان کرام کو متحد ہونا چاہیے۔ اور فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ بلکہ سبھی علماء و مشائخ کو اپنا ہی اثاثہ سمجھنا چاہیے۔ تاکہ باہمی اتفاق کی فضا قائم رہے۔

اسی طرح جب علت ہائے مشائخ کا بزور دین دفاع کیا جائے تو صحابہ کو معاف رکھا جائے۔ صرف اکابر کے حوالے ہی دیے جائیں۔ اور دلائل ایسے نہ دیے جائیں کہ ان کا تمسخر بن کر رہ جائے۔ بلکہ متفق علیہ حوالہ جات دیے جائیں۔

اور آخری گزارش کہ اگر باہمی اتفاق سے ایک ویب پیج بنا لیں تو رائلٹی کی مد میں خاصی آمدن متوقع ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ویڈیو والے مفتیان کرام کی خدمت میں چند گزارشات

  • 30/03/2022 at 3:14 شام
    Permalink

    خوبصوبصورت تحریر۔ واہ

Comments are closed.