دس سال سے مستقلی کے منتظر اساتذہ اور ارباب اختیار

مسلسل دوسرے روز کھلے آسماں تلے مرد و خواتین اساتذہ ( ایس ایس ایز، اے ای اوز ) اپنے حق کی خاطر لاہور میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اور حق ہے مستقلی کا۔ کینال روڈ بند ہے۔ زمان پارک کے سامنے ڈیرے لگ رہے۔ یہ وہ اساتذہ ہیں جن کی بھرتی نہ تو کسی سیاسی شخصیت کی مرہون منت تھی نہ انہوں نے کسی چودھری کے حقے کی چلم سیدھی کر کے نوکری پائی۔ بلکہ مقابلے کا امتحان دیا۔ کڑے

Read more

بچے پر غیر انسانی تشدد اور مدارس میں حفظ کا نصاب

جہلم تھانہ ڈومیلی کی حدود میں واقع اک گاؤں دیال کے مدرسے میں قاری صاحب نے بچے کو بجلی کی تاروں سے کیا مارا کہ والدین تھانے پہنچ گئے اور بچہ ایمرجنسی وارڈ میں۔ نجی چینلز نے اسے خبروں کی زینت بنایا۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا کہ محض تین چار ضربوں کے نشان ہیں پشت پہ۔ اب سات پشتیں بخشوانا اتنی آسان تو نہیں۔ والدین کو یہ بات سوچنی چاہیے۔ اور یہ جنتی دنبہ کیسا کم حوصلہ نکلا کہ

Read more

تھانےدار نے بلاسفیمی کی وارداتوں پہ کیسے قابو پایا۔ (ذاتی مشاہدات)

علاقہ پرسکون تھا اور سوائے تعزیے کے جلوس کے روٹ کے علاوہ کوئی قابل ذکر جھگڑا ریکارڈ پہ نہ تھا۔ مفتی صاحب آ وارد ہوئے تو مسلک حق کو سخت خطرے میں پایا اور دیگر مسالک کے کفریات و عبارات اکابر سے ہر کہ و مہ کو آگاہ کیا۔ قریبی گاؤں میں دو بھائی تھے۔ ایک بریلوی اور دوسرا بعد میں مماتی دیوبندی (ملتانی گروپ) بنا۔ بھائی اور والد ہر کھانے کے بعد اسے ازسرنو مسلمان ہونے کی ترغیب دیتے اور

Read more

دیہات کی صبح اور سفر کے مناظر

لکھنے والوں نے دیہات کی صبح و شام کی یوں رومانی منظر کشی کی کہ شام اودھ اور صبح بنارس کی تراکیب بھی پھیکی پڑ گئیں۔ دھیرج گنج کے پہلے اور آخری مشاعرے میں شامل شعراء کو شام تا صبح اک گاؤں میں رکنا پڑا تھا۔ رومانویت ہوا ہو گئی تھی۔ اس کی تفصیل ”آب گم“ میں ملے گی۔ یہاں تو ایک سنکی سے ماسٹر کا بے زار سا تبصرہ ہے۔

Read more

ویڈیو والے مفتیان کرام کی خدمت میں چند گزارشات

مدرسہ لیکس کا سلسلہ جو شروع ہوا ہے، خدا جانے کہاں تھمے کہ دورانیہ و نصاب خاصا طویل ہے۔ آپ اکثر احباب نے وہ ویڈیوز ملاحظہ کیں۔ مزید بھی آتی ہی ہوں گی۔ یہ ویڈیوز دیکھ کے ہر نفیس طبع شخص کا دل دکھا۔ امت کو علماء کے کردار اور قوت ارادی سے خاصی مایوسی ہوئی۔

سب سے اہم بات جس کی طرف میں بالخصوص مدارس کے طلبہ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ ہے کہ ہمارے مدارس اور علماء ٹیکنالوجی سے خاصے دور رہے۔ اور ان کے استعمال میں اب بھی کافی بہتری کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے تو اچھی کوالٹی کے موبائل یا مووی کیمرہ کی ضرورت ہے۔ اینگلز کے معاملے میں خاصے کورے ثابت ہوئے ہیں۔

Read more