آئندہ کی دنیا کیسی ہوگی؟ اجمالی خاکہ


فرض کریں کہ ایک بینک طویل المدتی معاہدے پر سالانہ پندرہ فیصد منافع دیتا ہے اور ہر سال کل بقایا رقم پر منافع بڑھتا رہتا ہے۔ اگر کوئی ایک ہزار ڈالر اپنے اکاؤنٹ میں رکھ کر بھول جائے تو پچاس سال میں رکھے رکھے یہ رقم ایک ملین ڈالر ہو جائے گی۔ وارثین بھی اس رقم کو خاطر میں نہ لائیں تو سو سال بعد ایک بلین ڈالر جبکہ ڈیڑھ سو سال بعد ایک ٹریلین ڈالر تک یہ رقم پہنچ جائے گی۔ یہاں تک کہ ایک سو بانوے سال بعد اسکی پانچویں یا چھٹی نسل بیٹھے بٹھائے دنیا کی مجموعی دولت تین سو ساٹھ ٹریلین ڈالرز کی مالک بن سکتی ہے۔

ایسا ہونا ناممکن ہے۔ لیکن یہ مفروضہ اس بات کا عکاس ہے کہ معمولی سی رقم کو بھی اگر دانشمندی سے انویسٹ کیا جائے تو کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ ایک چھوٹا سرمایہ کار بہتر پلاننگ اور محنت کے ذریعے ایک بڑی بزنس ایمپائر کھڑی کر سکتا ہے تو ایک بڑا سرمایہ کار ”ہزاروں محنت کشوں“ کے باوجود غلط پلاننگ سے سرمایہ ڈبو بھی سکتا ہے۔

اس سے یہ سوچ بھی غلط ثابت ہوتی ہے کہ منافع میں مزدور کی شراکت داری ہونی چاہیے۔ مزدوروں کی دنیا میں کبھی کمی نہیں رہی جبکہ سرمایہ ڈوب جائے تو واپسی آسان نہیں۔ مزدور کے حقوق کی پاسداری ضرور ہونی چاہیے مگر سرمایہ دار کی کنپٹی پر پسٹل رکھ کر نہیں۔

بہرحال ایک آئیڈیل سوچ ہمیشہ سے رہی ہے کہ تمام انسان برابر ہیں تو ان کے حقوق بھی برابر ہونے چاہئیں۔ کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ کیا ایسا تب ہو سکتا ہے کہ جب کسی شے کی کوئی قیمت نہ ہو؟

تمام جاندار آج بھی اسی اصول پر کارفرما ہیں۔ اپنے فطری تقاضے بلا قیمت ہی پورے کرتے ہیں۔ نہ ہی اپنی جان کی کوئی قیمت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی اور جان کی۔ دنیا کا پہلا انسان دیگر جانداروں کی فہرست سے اس ہی روز نکل گیا تھا کہ جب اس نے برتری کے احساس کے ساتھ دیگر کو غلام بنایا۔ ان کو کمزور جان کر اور کمتر مان کر ان کا بدترین استحصال کیا۔ جیسے جیسے انسانوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ وحشت و جنون و برانگیختگی بڑھتی گئی۔ بلا ضرورت و بلاتکان شکار مشغلہ بن گیا اور اختیار کی چاہ میں آپسی کشمکش کا آغاز ہوا۔

ایسے میں عام انسانوں کو غلام بنائے رکھنے کے لیے چالاک و مکار انسانوں نے بہت زیادہ ہونے والی زمینی تباہ کاریوں کو نادیدہ قوتوں کی ناراضگی سے تعبیر کیا اور انہی کے ذریعے طاقتوروں کو بھی لگام ڈالی گئی۔ طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے یہی خوف کا ہتھیار آہستہ آہستہ مذاہب کی شکل اختیار کرتا گیا۔

چنانچہ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ معاشرتی ناہمواری میں اصل قصور وار ہمیشہ سے طاقتور اور ذہین افراد رہے ہیں۔ سرمایہ دار تو یوں ہی بدنام ہیں۔ معاشی ناہمواری ختم کر کے ہر چیز فری کردی جائے تو آج طاقتور پھر تمام وسائل پر قابض ہوجائیں گے۔ چنانچہ پہلے معاشرتی ناہمواری کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس کی ضرورت آج شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ عام آدمی تو کیا ذہین ترین افراد کو بھی اپنی بقا کی فکر لاحق ہے۔ متبادل کے طور پر مصنوعی ذہانت کا زندگی کے ہر شعبے میں آغاز ہو چکا ہے۔

معاشرتی ہمواری کے لیے ضروری ہے کہ مرد عورت و کالے گورے کی تفریق مکمل ختم کی جائے۔ جبکہ صحت مند طاقتور اور ذہین ترین افراد کوہی سخت ترین جانچ کے بعد آئندہ افزائش نسل کا لائسنس دیا جائے۔ عام افراد کے لیے آسان زندگی یا آسان موت کا پیکیج متعارف کروایا جاسکتا ہے۔

ان تجاویز پر عملدرآمد کے نتیجے میں آئندہ چند سالوں میں ہم ایک آئیڈیل معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں کہ جس میں ہر انسان فکرمعاش سے آزاد ہوگا۔ سب کے حقوق یکساں ہوں گے ۔ ہر شعبے میں مقابلہ یک طرفہ نہیں ٹکر کا ہوگا۔ تماشائی کم کھلاڑی زیادہ ہوں گے ۔

یوں آج سے کھربوں سال پہلے ڈینجرس زون (جہنم) سے شروع ہونے والا سفر بالآخر کمفرٹ زون (جنت) تک پہنچنے میں کامیاب ہوگا کہ جس کی ہر دور کے انسانوں نے چاہ کی اور ارتقاء کا سفر اس کے لیے شروع کیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سعد ریحان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments